مواد پر جائیں
Sunni Islam رہنمائی، عبادت کے ٹولز اور مستند مآخذ
35

سنن نسائی

The Book of Agriculture

96 احادیث

سنن نسائی 3761 Sahih Sahih Sahih Bukhari

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرُّهَاوِيُّ، وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَتْ يَمِينٌ يَحْلِفُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو قسم کھاتے تھے وہ یہ تھی «‏لا ومقلب القلوب» نہیں، اس کی قسم جو دلوں کو پھیر نے والا ہے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 1
سنن نسائی 3762 Hasan Hasan Daif

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ أَبُو يَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّتِي يَحْلِفُ بِهَا ‏ "‏ لاَ وَمُصَرِّفِ الْقُلُوبِ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو قسم کھاتے تھے وہ یہ تھی «لا ومصرف القلوب» نہیں، اس کی قسم جو دلوں کو پھیرنے والا ہے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 2
سنن نسائی 3763 Hasan Sahih Hasan Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ أَرْسَلَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِلَى الْجَنَّةِ فَقَالَ انْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لأَهْلِهَا فِيهَا ‏.‏ فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَرَجَعَ فَقَالَ وَعِزَّتِكَ لاَ يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلاَّ دَخَلَهَا ‏.‏ فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ فَقَالَ اذْهَبْ إِلَيْهَا فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لأَهْلِهَا فِيهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ قَدْ حُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ فَقَالَ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لاَ يَدْخُلَهَا أَحَدٌ ‏.‏ قَالَ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَى النَّارِ وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لأَهْلِهَا فِيهَا ‏.‏ فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَرَجَعَ فَقَالَ وَعِزَّتِكَ لاَ يَدْخُلُهَا أَحَدٌ ‏.‏ فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ فَقَالَ ارْجِعْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا ‏.‏ فَإِذَا هِيَ قَدْ حُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ فَرَجَعَ وَقَالَ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لاَ يَنْجُوَ مِنْهَا أَحَدٌ إِلاَّ دَخَلَهَا ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جب جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو جبرائیل کو جنت کے پاس بھیجا اور فرمایا: اسے اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس میں اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، چنانچہ انہوں نے اسے دیکھا اور لوٹ کر آئے تو کہا: قسم ہے تیری عزت اور غلبے کی! ۱؎ جو کوئی بھی اس کے بارے میں سنے گا اس میں داخل ہوئے بغیر نہ رہے گا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے مکروہ ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا گیا ۲؎، پھر کہا: جاؤ اسے اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس میں اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، چنانچہ انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ وہ ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دی گئی ہے، انہوں نے کہا: تیری عزت اور غلبے کی قسم! مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو گا، کہا: جاؤ اور جہنم کو اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے پر چڑھا جا رہا ہے ۳؎، وہ لوٹ کر آئے اور بولے: تیری عزت اور غلبے کی قسم! اس میں کوئی داخل نہ ہو گا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو وہ دل کو بھانے والی چیزوں سے گھیر دی گئی۔ ( پھر اللہ تعالیٰ نے ) کہا: واپس جا کر اب اسے دیکھو۔ انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ وہ پسندیدہ چیزوں سے گھیر دی گئی ہے۔ وہ لوٹے اور کہا: تیرے غلبے کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں تو کوئی داخل ہونے سے نہ بچ سکے گا ۴؎۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 3
سنن نسائی 3764 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلاَ يَحْلِفْ إِلاَّ بِاللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قسم کھائے تو وہ اللہ کے سوا کسی اور کی قسم نہ کھائے ، اور قریش اپنے باپ دادا کی قسم کھاتے تھے تو آپ نے فرمایا: تم اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 4
سنن نسائی 3765 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ، مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي مَجْلِسِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ - وَهُوَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ

حوالہ: کتاب 35, حدیث 5
سنن نسائی 3766 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ، لَهُ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عُمَرَ مَرَّةً وَهُوَ يَقُولُ وَأَبِي وَأَبِي ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا بَعْدُ ذَاكِرًا وَلاَ آثِرًا ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میرے باپ کی قسم! میرے باپ کی قسم! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ ۔ ( عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) اللہ کی قسم! اس کے بعد پھر میں نے کبھی ان کی قسم نہیں کھائی، نہ تو خود اپنی بات بیان کرتے ہوئے اور نہ ہی دوسرے کی بات نقل کرتے ہوئے۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 6
سنن نسائی 3767 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا بَعْدُ ذَاكِرًا وَلاَ آثِرًا ‏.‏

عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ ۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے بعد پھر کبھی میں نے خود اپنی بات بیان کرتے ہوئے یا دوسرے کی بات نقل کرتے ہوئے ان کی قسم نہیں کھائی۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 7
سنن نسائی 3768 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ حَرْبٍ - عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا بَعْدُ ذَاكِرًا وَلاَ آثِرًا ‏.‏

عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اس کے بعد ان کی قسم نہیں کھائی، نہ تو خود کچھ بیان کرتے ہوئے اور نہ ہی کسی دوسرے کی بات نقل کرتے ہوئے

حوالہ: کتاب 35, حدیث 8
سنن نسائی 3769 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَلاَ بِأُمَّهَاتِكُمْ وَلاَ بِالأَنْدَادِ وَلاَ تَحْلِفُوا إِلاَّ بِاللَّهِ وَلاَ تَحْلِفُوا إِلاَّ وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے ماں باپ، دادا، دادی اور شریکوں ۱؎ کی قسم نہ کھاؤ، اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھاؤ اور تم قسم نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تم سچے ہو ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 9
سنن نسائی 3770 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الإِسْلاَمِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ مُتَعَمِّدًا وَقَالَ يَزِيدُ ‏"‏ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَىْءٍ عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏

ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کے سوا کسی اور ملت و مذہب کی جو کوئی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس نے کہا ، قتیبہ نے اپنی حدیث میں «متعمدا» کہا ہے ( یعنی دوسری ملت کی جان بوجھ کر قسم کھائے ) اور یزید نے «كاذبا» کہا ہے ( جو دوسری ملت کی جھوٹی قسم کھائے گا ) تو وہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس نے کہا ۱؎ اور جو کوئی اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر لے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ میں اسی چیز سے عذاب دے گا۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 10
سنن نسائی 3771 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الإِسْلاَمِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَىْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي الآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏

ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام کے سوا کسی ملت و مذہب کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ ویسا ہی ہے، جیسا اس نے کہا، اور جس نے خود کو کسی چیز سے مار ڈالا ( خودکشی کر لی ) تو اسے آخرت میں اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 11
سنن نسائی 3772 Sahih Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنِ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنَ الإِسْلاَمِ فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا لَمْ يَعُدْ إِلَى الإِسْلاَمِ سَالِمًا ‏"‏ ‏.‏

بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کہا: ( اگر میں نے یہ کیا ہوا تو ) میں اسلام سے بری اور لاتعلق ہوں، تو اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ سچا ہے تو بھی وہ اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹے گا

حوالہ: کتاب 35, حدیث 12
سنن نسائی 3773 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ قُتَيْلَةَ، - امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ - أَنَّ يَهُودِيًّا، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّكُمْ تُنَدِّدُونَ وَإِنَّكُمْ تُشْرِكُونَ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ وَتَقُولُونَ وَالْكَعْبَةِ ‏.‏ فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادُوا أَنْ يَحْلِفُوا أَنْ يَقُولُوا ‏"‏ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَيَقُولُونَ ‏"‏ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شِئْتَ ‏"‏ ‏.‏

قبیلہ جہینہ کی ایک عورت قتیلہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: تم لوگ ( غیر اللہ کو اللہ کے ساتھ ) شریک ٹھہراتے اور شرک کرتے ہو، تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں، اور تم کہتے ہو: کعبے کی قسم! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جب وہ قسم کھانا چاہیں تو کہیں: کعبے کے رب کی قسم! اور کہیں: جو اللہ چاہے پھر آپ جو چاہیں

حوالہ: کتاب 35, حدیث 13
سنن نسائی 3774 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَلاَ بِالطَّوَاغِيتِ ‏"‏ ‏.‏

عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، اور نہ طاغوتوں ( جھوٹے معبودوں ) کی ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 14
سنن نسائی 3775 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ مِنْكُمْ فَقَالَ بِاللاَّتِ فَلْيَقُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو قسم کھائے اور کہے: لات ( بت ) کی قسم، تو اسے چاہیئے کہ وہ لا الٰہ الا اللہ پڑھے، اور جو اپنے ساتھی سے کہے: آؤ تمہارے ساتھ جوا کھیلیں گے ) تو اسے چاہیئے کہ صدقہ کرے

حوالہ: کتاب 35, حدیث 15
سنن نسائی 3776 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا نَذْكُرُ بَعْضَ الأَمْرِ وَأَنَا حَدِيثُ، عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ فَحَلَفْتُ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّى فَقَالَ لِي أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِئْسَ مَا قُلْتَ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبِرْهُ فَإِنَّا لاَ نَرَاكَ إِلاَّ قَدْ كَفَرْتَ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي ‏ "‏ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَاتْفُلْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَلاَ تَعُدْ لَهُ ‏"‏ ‏.‏

سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک معاملے کا ذکر کر رہے تھے اور میں نیا نیا مسلمان ہوا تھا، میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی، تو مجھ سے صحابہ کرام نے کہا کہ تم نے بری بات کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ کو اس کی خبر دو کیونکہ ہمارے خیال میں تو تم نے کفر کا ارتکاب کیا ہے، چنانچہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تین بار: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له» کہو اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو اور تین بار اپنے بائیں طرف تھوک دو اور پھر دوبارہ کبھی ایسا نہ کہنا ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 16
سنن نسائی 3777 Daif Daif Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَلَفْتُ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّى فَقَالَ لِي أَصْحَابِي بِئْسَ مَا قُلْتَ قُلْتَ هُجْرًا ‏.‏ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏ "‏ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ وَانْفُثْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلاَثًا وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثُمَّ لاَ تَعُدْ ‏"‏ ‏.‏

سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا: تم نے بری بات کہی ہے، تم نے فحش بات کہی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: کہو: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور تین بار بائیں طرف تھوک لو اور شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو اور پھر کبھی ایسا نہ کرنا ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 17
سنن نسائی 3778 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ أَمَرَنَا بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ وَرَدِّ السَّلاَمِ ‏.‏

براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا: آپ نے ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے، بیمار کی عیادت کرنے، چھینکنے والے کا جواب دینے، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، قسم پوری کرنے اور سلام کا جواب دینے کا حکم دیا ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 18
سنن نسائی 3779 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ زَهْدَمٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا عَلَى الأَرْضِ يَمِينٌ أَحْلِفُ عَلَيْهَا فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَتَيْتُهُ ‏"‏ ‏.‏

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین پر کوئی ایسی قسم نہیں جو میں کھاؤں پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھوں مگر میں وہی کروں گا ( جو بہتر ہو گا ) ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 19
سنن نسائی 3780 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ فَأُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلاَثِ ذَوْدٍ فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ لاَ يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا ‏.‏ قَالَ أَبُو مُوسَى فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ إِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ہم آپ سے سواریاں مانگ رہے تھے۱؎، آپ نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں تمہیں سواریاں نہیں دے سکتا، میرے پاس کوئی سواری ہے بھی نہیں جو میں تمہیں دوں ، پھر ہم جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، اتنے میں کچھ اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے تین اونٹوں کا حکم دیا، تو جب ہم چلنے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اللہ تعالیٰ ہمیں برکت نہیں دے گا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں طلب کرنے آئے تو آپ نے قسم کھائی کہ آپ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے۔ ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں: تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں سواریاں نہیں دی ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دی ہیں، قسم اللہ کی! میں کسی بات کی قسم کھاتا ہوں، پھر میں اس کے علاوہ کو بہتر سمجھتا ہوں تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور جو بہتر ہوتا ہے کرتا ہوں ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 20
سنن نسائی 3781 Hasan Sahih Hasan Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی قسم کھائے پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہی کام انجام دے جو بہتر ہے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 21
سنن نسائی 3782 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَنْظُرِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ فَلْيَأْتِهِ ‏"‏ ‏.‏

عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی قسم کھائے پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھے تو چاہیئے کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور دیکھے کہ کون سی بات بہتر ہے تو وہی کرے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 22
سنن نسائی 3783 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ثُمَّ ائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏

عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم قسم کھاؤ تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو پھر وہ کام کرو جو بہتر ہو ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 23
سنن نسائی 3784 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، وَذَكَرَ، كَلِمَةً مَعْنَاهَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏

عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہی کرو جو بہتر ہے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 24
سنن نسائی 3785 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ ‏"‏ ‏.‏

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 25
سنن نسائی 3786 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَدَعْ يَمِينَهُ وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْهَا ‏"‏ ‏.‏

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر بات پائے تو اپنی قسم کو ترک کر دے اور وہی کرے جو بہتر ہو، اور قسم کا کفارہ ادا کرے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 26
سنن نسائی 3787 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، قَالَ سَمِعْتُ تَمِيمَ بْنَ طَرَفَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيَتْرُكْ يَمِينَهُ ‏"‏ ‏.‏

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے، پھر اس سے بہتر بات پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کو چھوڑ دے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 27
سنن نسائی 3788 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ ابْنَ عَمٍّ لِي أَتَيْتُهُ أَسْأَلُهُ فَلاَ يُعْطِينِي وَلاَ يَصِلُنِي ثُمَّ يَحْتَاجُ إِلَىَّ فَيَأْتِينِي فَيَسْأَلُنِي وَقَدْ حَلَفْتُ أَنْ لاَ أُعْطِيَهُ وَلاَ أَصِلَهُ فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَأُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِي ‏.‏

ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے میرے چچا زاد بھائی کو دیکھا؟ میں اس کے پاس اس سے کچھ مانگنے آتا ہوں تو وہ مجھے نہیں دیتا اور مجھ سے صلہ رحمی نہیں کرتا ہے ۱؎، پھر اسے میری ضرورت پڑتی ہے تو وہ میرے پاس مجھ سے مانگنے آتا ہے، میں نے قسم کھا لی ہے کہ میں نہ اسے دوں گا اور نہ اس سے صلہ رحمی کروں گا، تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں وہی کروں جو بہتر ہو اور میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 28
سنن نسائی 3789 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا آلَيْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ‏"‏ ‏.‏

عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی چیز کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو

حوالہ: کتاب 35, حدیث 29
سنن نسائی 3790 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ‏"‏ ‏.‏

عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ بات کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 30
سنن نسائی 3791 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ‏"‏ ‏.‏

عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ بات کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 31
سنن نسائی 3792 Hasan Sahih Hasan Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ وَلاَ يَمِينَ فِيمَا لاَ تَمْلِكُ وَلاَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلاَ قَطِيعَةِ رَحِمٍ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس چیز میں کوئی نذر، اور کوئی قسم نہیں ہوتی، جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی معصیت اور قطع رحمی میں قسم ہے ۱؎

حوالہ: کتاب 35, حدیث 32
سنن نسائی 3793 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى فَإِنْ شَاءَ مَضَى وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرَ حَنِثٍ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قسم کھائے اور ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) کہے تو اگر چاہے تو وہ قسم پوری کرے اور اگر چاہے تو پوری نہ کرے، وہ قسم توڑنے والا نہیں ہو گا ۱؎ ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 33
سنن نسائی 3794 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور آدمی کو اسی کا ثواب ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہو، تو جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہو گی جس کی خاطر اس نے ہجرت کی ہے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 34
سنن نسائی 3795 Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ لاَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَنَزَلَتْ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ ‏}‏ إِلَى ‏{‏ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ ‏}‏ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ ‏{‏ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا ‏}‏ لِقَوْلِهِ ‏"‏ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ ( کے منہ ) سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، آپ نے مغافیر کھائی ہے۔ آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ اسے نہیں پیوں گا ۔ تو آیت کریمہ «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» سے ( آیت کا سیاق یہ ہے کہ ) اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں ( التحریم: ۱ ) «‏إن تتوبا إلى اللہ» ( آیت کا سیاق یہ ہے کہ ) ( اے نبی کی بیویو! ) اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہتر ہے ) ( التحریم: ۴ ) تک نازل ہوئی، اس سے عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما مراد ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: میں نے تو شہد پیا ہے ( مگر اب نہیں پیوں گا ) کی وجہ سے آیت کریمہ «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے چپکے سے ایک بات کہی ( التحریم: ۳ ) نازل ہوئی۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 35
سنن نسائی 3796 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَيْتَهُ فَإِذَا فِلَقٌ وَخَلٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلْ فَنِعْمَ الإِدَامُ الْخَلُّ ‏"‏ ‏.‏

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ روٹی کا ایک ٹکڑا اور سرکہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ، سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 36
سنن نسائی 3797 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ كُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَبِيعُ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنِ اسْمِنَا فَقَالَ ‏ "‏ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوا بَيْعَكُمْ بِالصَّدَقَةِ ‏"‏ ‏.‏

قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ ہمیں «سماسر» ( دلال ) کہا جاتا تھا، ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم خرید و فروخت کر رہے تھے تو آپ نے ہمیں ہمارے نام سے بہتر ایک نام دیا، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت میں قسم اور جھوٹ ۱؎ بھی شامل ہو جاتی ہیں تو تم اپنی خرید و فروخت میں صدقہ ملا لیا کرو ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 37
سنن نسائی 3798 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَعَاصِمٍ، وَجَامِعٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ كُنَّا نَبِيعُ بِالْبَقِيعِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَقَالَ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ ‏"‏ ‏.‏ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنِ اسْمِنَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ ‏"‏ ‏.‏

قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بقیع میں خرید و فروخت کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم لوگوں کو«سماسرہ» ( دلال ) کہا جاتا تھا، تو آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو ہمارے نام سے بہتر تھا، پھر فرمایا: خرید و فروخت میں ( بغیر قصد و ارادے کے ) قسم اور جھوٹ کی باتیں شامل ہو جاتی ہیں تو اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 38
سنن نسائی 3799 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ أَتَانَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ فِي السُّوقِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ هَذِهِ السُّوقَ يُخَالِطُهَا اللَّغْوُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوهَا بِالصَّدَقَةِ ‏"‏ ‏.‏

قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بازار میں تھے کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا: ان بازاروں میں ( بغیر قصد و ارادے کے ) غلط اور جھوٹی باتیں آ ہی جاتی ہیں، لہٰذا تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۱؎۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 39
سنن نسائی 3800 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ نَبِيعُ الأَوْسَاقَ وَنَبْتَاعُهَا وَكُنَّا نُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ وَيُسَمِّينَا النَّاسُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنَ الَّذِي سَمَّيْنَا أَنْفُسَنَا وَسَمَّانَا النَّاسُ فَقَالَ ‏ "‏ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّهُ يَشْهَدُ بَيْعَكُمُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ ‏"‏ ‏.‏

قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مدینے میں وسق بیچتے اور خریدتے تھے، اور ہم اپنے کو «سماسرہ» ( دلال ) کہتے تھے، لوگ بھی ہمیں دلال کہتے تھے۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکل کر آئے تو آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو اس نام سے بہتر تھا جو ہم اپنے لیے کہتے تھے یا لوگ ہمیں اس نام سے پکارتے تھے، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! تمہاری خرید و فروخت میں ( بلا قصد و ارادے کے ) قسم اور جھوٹ کی باتیں بھی آ جاتی ہیں تو تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 40
سنن نسائی 3801 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهُ لاَ يَأْتِي بِخَيْرٍ إِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ( ماننے ) سے منع کیا اور فرمایا: اس سے کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوتی، البتہ اس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 41
سنن نسائی 3802 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهُ لاَ يَرُدُّ شَيْئًا إِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الشَّحِيحِ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا: اس سے کوئی چیز رد نہیں ہوتی، البتہ اس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 42
سنن نسائی 3803 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ النَّذْرُ لاَ يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلاَ يُؤَخِّرُهُ إِنَّمَا هُوَ شَىْءٌ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الشَّحِيحِ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر نہ کسی ( مقدر ) چیز کو آگے کرتی ہے نہ پیچھے، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 43
سنن نسائی 3804 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ يُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ وَلَكِنَّهُ شَىْءٌ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لا سکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 44
سنن نسائی 3805 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَنْذِرُوا فَإِنَّ النَّذْرَ لاَ يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر نہ مانو، کیونکہ نذر تقدیر ( کے لکھے ) میں کچھ کام نہیں آتی، اس سے تو صرف بخیل سے کچھ نکلوایا جاتا ہے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 45
سنن نسائی 3806 Sahih Sahih Sahih Bukhari

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلاَ يَعْصِهِ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر مانے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، اور جو اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانے تو اس کی نافرمانی نہ کرے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 46
سنن نسائی 3807 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، قَالَ حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلاَ يَعْصِهِ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر مانے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، اور جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانے گا تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 47
سنن نسائی 3808 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلاَ يَعْصِهِ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو نذر مانے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کرے گا تو اسے چاہیئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے، اور جو اللہ کی نافرمانی کی نذر مانے تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 48
سنن نسائی 3809 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ خَيْرُكُمْ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَلاَ أَدْرِي أَذَكَرَ مَرَّتَيْنِ بَعْدَهُ أَوْ ثَلاَثًا ثُمَّ ذَكَرَ قَوْمًا يَخُونُونَ وَلاَ يُؤْتَمَنُونَ وَيَشْهَدُونَ وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ وَيُنْذِرُونَ وَلاَ يُوفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ أَبُو جَمْرَةَ ‏.‏

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے زیادہ اچھے اور بہتر لوگ وہ ہیں جو میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں ، مجھے نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ثم الذين يلونهم» کا ذکر دو بار کیا یا تین بار، پھر آپ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو خیانت کریں گے اور انہیں امین ( امانت دار ) نہیں سمجھا جائے گا، گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی جائے گی اور نذر مانیں گے اور اسے پورا نہیں کریں گے اور ان لوگوں میں موٹاپا ظاہر ہو گا ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ ابوجمرہ نصر بن عمران ہیں۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 49
سنن نسائی 3810 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ يَقُودُ رَجُلاً فِي قَرَنٍ فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَطَعَهُ قَالَ إِنَّهُ نَذْرٌ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک آدمی کو رسی میں باندھ کر کھینچے لے جا رہا تھا، آپ نے رسی کو لیا اور اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: یہ نذر ہے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 50
سنن نسائی 3811 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ يَقُودُهُ إِنْسَانٌ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ ‏.‏ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ وَإِنْسَانٌ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ بِإِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ خَيْطٍ أَوْ بِشَىْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ قُدْهُ بِيَدِكَ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کعبے کا طواف کر رہا تھا، اور ایک آدمی اس کی ناک میں نکیل ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا پھر حکم دیا کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس ( آدمی ) کے پاس سے گزرے، وہ کعبے کا طواف کر رہا تھا اور اس نے ایک آدمی کا ہاتھ ایک دوسرے آدمی سے تسمے سے یا دھاگے سے یا کسی اور چیز سے باندھ رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جاؤ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 51
سنن نسائی 3812 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلاَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ ‏"‏ ‏.‏

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں ہے جس کا ابن آدم مالک نہ ہو ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 52
سنن نسائی 3813 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى مِلَّةِ الإِسْلاَمِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَىْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ ‏"‏ ‏.‏

ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی دین اسلام کے سوا کسی دوسری ملت کی جھوٹی قسم کھائے گا تو وہ اسی طرح ہو گا جیسے اس نے کہا، اور جس نے اپنے آپ کو دنیا میں کسی چیز سے قتل کیا تو اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا، اور آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 53
سنن نسائی 3814 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ، إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَفْتَيْتُ لَهَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ ‏"‏ ‏.‏

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری بہن نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ پیدل جائے گی، اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسئلہ پوچھوں، میں نے اس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ پیدل جائے اور سوار ہو کر ( بھی ) جائے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 54
سنن نسائی 3815 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، - وَقَالَ عَمْرٌو إِنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زَحْرٍ أَخْبَرَهُ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أُخْتٍ لَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مُرْهَا فَلْتَخْتَمِرْ وَلْتَرْكَبْ وَلْتَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏.‏

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ دوپٹہ اوڑھے بغیر پیدل ( حج کرنے ) جائے گی۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اوڑھنی اوڑھ کر اور سوار ہو کر جائے اور تین دن کے روزے رکھ لے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 55
سنن نسائی 3816 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَكِبَتِ امْرَأَةٌ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَصُومَ فَأَتَتْ أُخْتُهَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے سمندر کا سفر کیا اور نذر مانی کہ وہ ایک مہینہ روزے رکھے گی پھر وہ روزے رکھنے سے پہلے ہی مر گئی تو اس کی بہن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کی طرف سے روزے رکھے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 56
سنن نسائی 3817 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ ‏ "‏ اقْضِهِ عَنْهَا ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو چکا تھا تو آپ نے فرمایا: ان کی طرف سے تم اسے پوری کرو ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 57
سنن نسائی 3818 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اقْضِهِ عَنْهَا ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمے تھی اور وہ اسے پوری کرنے سے پہلے ہی انتقال کر گئی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ان کی طرف سے تم پوری کرو ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 58
سنن نسائی 3819 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، - وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ - عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ فَلَمْ تَقْضِهِ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ اقْضِهِ عَنْهَا ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میری ماں مر گئیں، ان کے ذمے ایک نذر تھی جو انہوں نے پوری نہیں کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ان کی جانب سے تم پوری کر دو ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 59
سنن نسائی 3820 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ عَلَيْهِ لَيْلَةٌ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَعْتَكِفُهَا فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ ‏.‏

عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں ایک رات کی نذر مانی تھی کہ وہ اس میں اعتکاف کریں گے، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا ۱؎۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 60
سنن نسائی 3821 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ عَلَى عُمَرَ نَذْرٌ فِي اعْتِكَافِ لَيْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے ذمہ مسجد الحرام میں ایک رات اعتکاف کرنے کی نذر تھی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 61
سنن نسائی 3822 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، كَانَ جَعَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا يَعْتَكِفُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَهُ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جاہلیت میں ( مسجد الحرام میں ) ایک دن کا اعتکاف اپنے اوپر واجب کر لیا تھا، انہوں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے انہیں اس میں اعتکاف کرنے کا حکم دیا ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 62
سنن نسائی 3823 Sahih Sahih Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الزُّهْرِيُّ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ وَمِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ تَوْبَةُ كَعْبٍ ‏.‏

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اللہ اور اس کے رسول کے نام پر صدقہ کر کے اپنے مال سے علیحدہ ہو جاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنا کچھ مال روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ۱؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ہو سکتا ہے کہ زہری نے اس حدیث کو عبداللہ بن کعب اور عبدالرحمٰن دونوں سے سنا ہو اور انہوں نے ان ( کعب رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ہو ۲؎۔ اسی لمبی حدیث میں کعب رضی اللہ عنہ کی توبہ کا بھی ذکر ہے

حوالہ: کتاب 35, حدیث 63
سنن نسائی 3824 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ ‏.‏ مُخْتَصَرٌ ‏.‏

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا وہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے، وہ کہتے ہیں: جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ، میں نے عرض کیا: اچھا تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے، یہ حدیث مختصر ہے۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 64
سنن نسائی 3825 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَمْسِكْ عَلَيْكَ مَالَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ عَلَىَّ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ ‏.‏

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ ( کہتے ہیں: ) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا ( کچھ ) مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ، میں نے عرض کیا: تو میں اپنے پاس اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 65
سنن نسائی 3826 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا نَجَّانِي بِالصِّدْقِ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ ‏.‏

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھے صرف سچ کی وجہ سے نجات دی تو میری توبہ میں سے یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں۔ آپ نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے پاس روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ، میں نے عرض کیا: تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 66
سنن نسائی 3827 Sahih Sahih Sahih Bukhari

قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ خَيْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ إِلاَّ الأَمْوَالَ وَالْمَتَاعَ وَالثِّيَابَ فَأَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي الضُّبَيْبِ يُقَالُ لَهُ رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُلاَمًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ فَوُجِّهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى وَادِي الْقُرَى حَتَّى إِذَا كُنَّا بِوَادِي الْقُرَى بَيْنَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَهُ سَهْمٌ فَأَصَابَهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَلاَّ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا سَمِعَ النَّاسُ بِذَلِكَ جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ أَوْ بِشِرَاكَيْنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ شِرَاكٌ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کے سال ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمیں مال ۱؎، سامان اور کپڑوں کے علاوہ کوئی غنیمت نہ ملی تو بنو ضبیب کے رفاعہ بن زید نامی ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعم نامی ایک کالا غلام ہدیہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی قریٰ کا رخ کیا، یہاں تک کہ جب ہم وادی قریٰ میں پہنچے تو مدعم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوا اتار رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ایک تیر آ کر اسے لگا اور اسے قتل کر ڈالا، لوگوں نے کہا کہ تمہیں جنت مبارک ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ کملی جو اس نے غنیمت کے مال سے خیبر کے روز لے لی تھی ( اور مال تقسیم نہ ہوا تھا ) اس کے سر پر آگ بن کر دہک رہی ہے ۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص چمڑے کا ایک یا دو تسمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا تو آپ نے فرمایا: یہ ایک یا دو تسمے آگ کے ہیں ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 67
سنن نسائی 3828 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ كَثِيرَ بْنَ فَرْقَدٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى ‏"‏ ‏.‏

حوالہ: کتاب 35, حدیث 68
سنن نسائی 3829 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا تو اس نے استثناء کر لیا ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 69
سنن نسائی 3830 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَمْضَى وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی بات پر قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا تو اب اسے اختیار ہے چاہے تو قسم پوری کرے اور چاہے تو نہ کرے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 70
سنن نسائی 3831 Sahih Sahih Sahih Bukhari

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ يَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏ فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلاَّ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعِينَ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہ السلام نے ( قسم کھا کر ) کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 71
سنن نسائی 3832 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ‏"‏ ‏.‏

حوالہ: کتاب 35, حدیث 72
سنن نسائی 3833 Sahih Lighairihi Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہ کے کاموں ) میں نذر نہیں ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 73
سنن نسائی 3834 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 74
سنن نسائی 3835 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 75
سنن نسائی 3836 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 76
سنن نسائی 3837 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَدْ قِيلَ إِنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: کہا گیا ہے کہ زہری نے اسے ابوسلمہ سے نہیں سنا ۱؎۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 77
سنن نسائی 3838 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرْوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 78
سنن نسائی 3839 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ الَّذِي، كَانَ يَسْكُنُ الْيَمَامَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ يَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ‏.‏ خَالَفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: سلیمان بن ارقم متروک الحدیث راوی ہے، واللہ اعلم، اس حدیث کے سلسلے میں یحییٰ بن ابی کثیر کے تلامذہ میں سے کئی ایک نے سلیمان بن ارقم کی مخالفت کی ہے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 79
سنن نسائی 3840 Sahih Lighairihi Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، - وَهُوَ عَلِيٌّ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہ کے کاموں ) کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 80
سنن نسائی 3841 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، - وَهُوَ الأَوْزَاعِيُّ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، رضى الله عنهما قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ يَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہ کے کام ) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 81
سنن نسائی 3842 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي غَضَبٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ ضَعِيفٌ لاَ يَقُومُ بِمِثْلِهِ حُجَّةٌ ‏.‏ وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: محمد بن زبیر ضعیف ہیں، ان جیسے سے حجت قائم نہیں ہوتی اور اس حدیث کے سلسلے میں ان کے متعلق اختلاف کیا گیا ہے۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 82
سنن نسائی 3843 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي غَضَبٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ‏"‏ ‏.‏

عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 83
سنن نسائی 3844 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي غَضَبٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ‏"‏ ‏.‏ وَقِيلَ إِنَّ الزُّبَيْرَ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ‏.‏

عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ( محمد کے والد ) زبیر نے اس حدیث کو عمران بن حصین سے نہیں سنا۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 84
سنن نسائی 3845 Sahih Sahih Daif

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ صَحِبْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ النَّذْرُ نَذْرَانِ فَمَا كَانَ مِنْ نَذْرٍ فِي طَاعَةِ اللَّهِ فَذَلِكَ لِلَّهِ وَفِيهِ الْوَفَاءُ وَمَا كَانَ مِنْ نَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَذَلِكَ لِلشَّيْطَانِ وَلاَ وَفَاءَ فِيهِ وَيُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ ‏"‏ ‏.‏

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نذر کی دو قسمیں ہیں: جو نذر اللہ کی اطاعت کی ہو تو وہ اللہ کے لیے ہے اور اسے پورا کرنا ہے اور جو نذر اللہ کی معصیت کی ہو تو وہ شیطان کی ہے اور اسے پورا نہیں کرنا ہے اور اس کا کفارہ وہی ہو گا جو قسم کا ہوتا ہے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 85
سنن نسائی 3846 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ رَجُلاً، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَنْ رَجُلٍ، نَذَرَ نَذْرًا لاَ يَشْهَدُ الصَّلاَةَ فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ فَقَالَ عِمْرَانُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي غَضَبٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏

زبیر حنظلی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے بیان کیا کہ اس نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا، جس نے یہ نذر مانی کہ وہ اپنے قبیلے کی مسجد میں نماز میں حاضر نہیں ہو گا، تو عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: غضب کی کوئی نذر نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 86
سنن نسائی 3847 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلاَ غَضَبٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت کی کوئی نذر نہیں، اور نہ ہی غضب میں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 87
سنن نسائی 3848 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا هِلاَلُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سُلَيْمٍ، - وَهُوَ عُبَيْدُ بْنُ يَحْيَى - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي الْمَعْصِيَةِ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ ‏"‏ ‏.‏ خَالَفَهُ مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ فِي لَفْظِهِ ‏.‏

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ منصور بن زاذان کی روایت کے الفاظ اس سے مختلف ہیں ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 88
سنن نسائی 3849 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ لاِبْنِ آدَمَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَلاَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏ خَالَفَهُ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ فَرَوَاهُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ‏.‏

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی ایسی چیزوں میں نذر نہیں، جن کا اسے اختیار نہیں اور نہ ہی اللہ کی معصیت میں نذر ہے ۔ علی بن زید نے منصور کی مخالفت کی ہے اور اسے بسند حسن بصری عن عبدالرحمٰن بن سمرہ سے روایت کی ہے۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 89
سنن نسائی 3850 Sahih Lighairihi Sahih Sahih

أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلاَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ضَعِيفٌ وَهَذَا الْحَدِيثُ خَطَأٌ وَالصَّوَابُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ‏.‏

عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت میں کوئی نذر نہیں اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں کوئی نذر ہے جس کا آدمی کو اختیار نہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: علی بن زید ضعیف ہیں اور اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے اور صحیح عمران بن حصین رضی اللہ عنہما ہے اور دوسری سند سے یہ حدیث عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کی گئی ہے۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 90
سنن نسائی 3851 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلاَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ ‏"‏ ‏.‏

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت میں کوئی نذر نہیں اور نہ ہی ایسی چیز میں کوئی نذر ہے جس کا آدمی کو اختیار نہیں ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 91
سنن نسائی 3852 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ مُرْهُ فَلْيَرْكَبْ ‏"‏ ‏.‏

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا ہے، آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس نے نذر مانی ہے کہ وہ بیت اللہ تک پیدل چل کر جائے گا، آپ نے فرمایا: اس طرح اپنی جان کو تکلیف دینے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اس سے کہو کہ سوار ہو کر جائے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 92
سنن نسائی 3853 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَيْخٍ يُهَادَى بَيْنَ اثْنَيْنِ فَقَالَ ‏"‏ مَا بَالُ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ مُرْهُ فَلْيَرْكَبْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ ‏.‏

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے بوڑھے شخص کے پاس سے ہوا جو دو آدمیوں کے درمیان ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: اس کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے عرض کیا: اس نے ( کعبہ ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: اس کے اس طرح اپنی جان کو تکلیف پہنچانے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اسے حکم دو کہ سوار ہو کر چلے، چنانچہ انہوں نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 93
سنن نسائی 3854 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَجُلٍ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَصْنَعُ بِتَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ ‏.‏

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسے شخص کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کے کندھوں کا سہارا لیے چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ عرض کیا گیا: اس نے کعبہ پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: اس طرح اپنے آپ کو تکلیف دینے سے اللہ تعالیٰ اس کو کوئی ثواب نہیں دے گا، پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 94
سنن نسائی 3855 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بات کی قسم کھائے، پھر وہ ان شاءاللہ کہے تو اس نے استثناء کر لیا ۱؎۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 95
سنن نسائی 3856 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ ‏"‏ قَالَ سُلَيْمَانُ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلاَمًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقِيلَ لَهُ قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏ فَلَمْ يَقُلْ فَطَافَ بِهِنَّ فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلاَّ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ وَكَانَ دَرَكًا لِحَاجَتِهِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان علیہ السلام نے کہا: آج رات میں نوے ( ۹۰ ) عورتوں ( بیویوں ) کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر عورت ایک ایسا بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ ان سے کہا گیا: آپ ان شاءاللہ کہیں، لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ سلیمان علیہ السلام اپنی عورتوں کے پاس گئے تو ان میں سے صرف ایک عورت نے آدھا بچہ جنا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہا ہوتا تو وہ قسم توڑنے والے نہیں ہوتے اور اپنی حاجت پا لینے میں کامیاب بھی رہتے ۔

حوالہ: کتاب 35, حدیث 96

متن اور درجہ بندی اوپن سورس Hadith API (fawazahmed0/hadith-api) سے۔ درجات متعلقہ محدثین کے ہیں۔