مواد پر جائیں
Sunni Islam رہنمائی، عبادت کے ٹولز اور مستند مآخذ
24

جامع ترمذی

The Book on Clothing

68 احادیث

جامع ترمذی 1720 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ حُرِّمَ لِبَاسُ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي وَأُحِلَّ لإِنَاثِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَأَنَسٍ وَحُذَيْفَةَ وَأُمِّ هَانِئٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَجَابِرٍ وَأَبِي رَيْحَانَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَوَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ‏.‏ وَحَدِيثُ أَبِي مُوسَى حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریشم کا لباس اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال کیا گیا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، عقبہ بن عامر، انس، حذیفہ، ام ہانی، عبداللہ بن عمرو، عمران بن حصین، عبداللہ بن زبیر، جابر، ابوریحان، ابن عمر، براء، اور واثلہ بن اسقع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 1
جامع ترمذی 1721 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih Muslim

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحَرِيرِ إِلاَّ مَوْضِعَ أُصْبُعَيْنِ أَوْ ثَلاَثٍ أَوْ أَرْبَعٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

سوید بن غفلہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر نے مقام جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم سے منع فرمایا سوائے دو، یا تین، یا چار انگشت کے برابر ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 2
جامع ترمذی 1722 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، شَكَيَا الْقَمْلَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ لَهُمَا فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ قَالَ وَرَأَيْتُهُ عَلَيْهِمَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی الله عنہما نے ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی، تو آپ نے انہیں ریشم کی قمیص کی اجازت دے دی، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے ان کے بدن پر ریشم کی قمیص دیکھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 3
جامع ترمذی 1723 Sahih Sahih Hasan Sahih Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ قَدِمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ مَنْ أَنْتَ فَقُلْتُ أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، ‏.‏ قَالَ فَبَكَى وَقَالَ إِنَّكَ لَشَبِيهٌ بِسَعْدٍ وَإِنَّ سَعْدًا كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ وَإِنَّهُ بَعَثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جُبَّةً مِنْ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٌ فِيهَا الذَّهَبُ فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَامَ أَوْ قَعَدَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمُسُونَهَا فَقَالُوا مَا رَأَيْنَا كَالْيَوْمِ ثَوْبًا قَطُّ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِمَّا تَرَوْنَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏

واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی الله عنہ ( ہمارے پاس ) آئے تو میں ان کے پاس گیا، انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ رضی الله عنہ ہوں، انس رضی الله عنہ رو پڑے اور بولے: تم سعد کی شکل کے ہو، سعد بڑے دراز قد اور لمبے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا گیا جس میں زری کا کام کیا ہوا تھا ۱؎ آپ اسے پہن کر منبر پر چڑھے، کھڑے ہوئے یا بیٹھے تو لوگ اسے چھو کر کہنے لگے: ہم نے آج کی طرح کبھی کوئی کپڑا نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس پر تعجب کر رہے ہو؟ جنت میں سعد کے رومال اس سے کہیں بہتر ہیں جو تم دیکھ رہے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں اسماء بنت ابی بکر سے بھی روایت ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 4
جامع ترمذی 1724 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَمْ يَكُنْ بِالْقَصِيرِ وَلاَ بِالطَّوِيلِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَأَبِي رِمْثَةَ وَأَبِي جُحَيْفَةَ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سرخ جوڑے میں کسی لمبے بال والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال شانوں کو چھوتے تھے، آپ کے شانوں کے درمیان دوری تھی، آپ نہ کوتاہ قد تھے اور نہ لمبے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن سمرہ، ابورمثہ اور ابوجحیفہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 5
جامع ترمذی 1725 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَحَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسی کے بنے ہوئے ریشمی اور زرد رنگ کے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 6
جامع ترمذی 1726 Hasan Hasan Daif

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ هَارُونَ الْبُرْجُمِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ السَّمْنِ وَالْجُبْنِ وَالْفِرَاءِ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ الْحَلاَلُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ مِمَّا عَفَا عَنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ الْمُغِيرَةِ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَرَوَى سُفْيَانُ وَغَيْرُهُ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَوْلَهُ وَكَأَنَّ الْحَدِيثَ الْمَوْقُوفَ أَصَحُّ ‏.‏ وَسَأَلْتُ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ مَا أُرَاهُ مَحْفُوظًا رَوَى سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ مَوْقُوفًا ‏.‏ قَالَ الْبُخَارِيُّ وَسَيْفُ بْنُ هَارُونَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ وَسَيْفُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَاصِمٍ ذَاهِبُ الْحَدِيثِ ‏.‏

سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی، پنیر اور پوستین ( چمڑے کا لباس ) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کر دیا، اور حرام وہ ہے، جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کر دیا اور جس چیز کے بارے میں وہ خاموش رہا وہ اس قبیل سے ہے جسے اللہ نے معاف کر دیا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ۲- اسے سفیان نے بسند «سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان» موقوفاً روایت کیا ہے، گویا یہ موقوف حدیث زیادہ صحیح ہے، اس باب میں مغیرہ سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں اس کو محفوظ نہیں سمجھتا ہوں، سفیان نے بسند «سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان» موقوفا روایت کی ہے، ۴- امام بخاری کہتے ہیں: سیف بن ہارون مقارب الحدیث ہیں، اور سیف بن محمد عاصم سے روایت کرنے میں ذاہب الحدیث ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 7
جامع ترمذی 1727 Sahih Sahih Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ مَاتَتْ شَاةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَهْلِهَا ‏ "‏ أَلاَ نَزَعْتُمْ جِلْدَهَا ثُمَّ دَبَغْتُمُوهُ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ وَمَيْمُونَةَ وَعَائِشَةَ ‏.‏ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوُ هَذَا ‏.‏ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَرُوِيَ عَنْهُ عَنْ سَوْدَةَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يُصَحِّحُ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَحَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ وَقَالَ احْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ رَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ مَيْمُونَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک بکری مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری والے سے کہا: تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی؟ پھر تم دباغت دے کر اس سے فائدہ حاصل کرتے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 8
جامع ترمذی 1728 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا فِي جُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ فَقَدْ طَهُرَتْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى قَالَ الشَّافِعِيُّ أَيُّمَا إِهَابِ مَيْتَةٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ إِلاَّ الْكَلْبَ وَالْخِنْزِيرَ ‏.‏ وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ إِنَّهُمْ كَرِهُوا جُلُودَ السِّبَاعِ وَإِنْ دُبِغَ وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَشَدَّدُوا فِي لُبْسِهَا وَالصَّلاَةِ فِيهَا ‏.‏ قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ إِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ ‏"‏ ‏.‏ جِلْدُ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ هَكَذَا فَسَّرَهُ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ إِنَّمَا يُقَالُ الإِهَابُ لِجِلْدِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چمڑے کو دباغت دی گئی، وہ پاک ہو گیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بواسطہ ابن عباس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی اسی طرح مروی ہے، ۳- یہ حدیث ابن عباس سے کبھی میمونہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور کبھی سودہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ابن عباس کی حدیث اور میمونہ کے واسطہ سے مروی ابن عباس کی حدیث کو صحیح کہتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: احتمال ہے کہ ابن عباس نے بواسطہ میمونہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہو، اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست بھی روایت کیا، اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۵- نضر بن شمیل نے بھی اس کا یہی مفہوم بیان کیا ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: نضر بن شمیل نے کہا: «إهاب» اس جانور کے چمڑے کو کہا جاتا ہے، جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، ۶- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں: مردار کا چمڑا دباغت دینے کے بعد پاک ہو جاتا ہے“، ۷- شافعی کہتے ہیں: کتے اور سور کے علاوہ جس مردار جانور کا چمڑا دباغت دیا جائے وہ پاک ہو جائے گا، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے، ۸- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں نے درندوں کے چمڑوں کو مکروہ سمجھا ہے، اگرچہ اس کو دباغت دی گئی ہو، عبداللہ بن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ان لوگوں نے اسے پہننے اور اس میں نماز ادا کرنے کو برا سمجھا ہے، ۹- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «أيما إهاب دبغ فقد طهر» کا مطلب یہ ہے کہ اس جانور کا چمڑا دباغت سے پاک ہو جائے گا جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، ۱۰- اس باب میں سلمہ بن محبق، میمونہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 9
جامع ترمذی 1729 Sahih Sahih Hasan Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَالشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ أَتَانَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنْ لاَ تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلاَ عَصَبٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ ‏.‏ وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ أَنَّهُ قَالَ أَتَانَا كِتَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ وَفَاتِهِ بِشَهْرَيْنِ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ يَذْهَبُ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ لِمَا ذُكِرَ فِيهِ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِشَهْرَيْنِ وَكَانَ يَقُولُ كَانَ هَذَا آخِرَ أَمْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ ثُمَّ تَرَكَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ هَذَا الْحَدِيثَ لَمَّا اضْطَرَبُوا فِي إِسْنَادِهِ حَيْثُ رَوَى بَعْضُهُمْ فَقَالَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُمْ مِنْ جُهَيْنَةَ ‏.‏

عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آیا کہ تم لوگ مردہ جانوروں کے چمڑے ۱؎ اور پٹھوں سے فائدے نہ حاصل کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن عکیم سے ان کے شیوخ کے واسطہ سے بھی آئی ہے، ۳- اکثر اہل علم کا اس پر عمل نہیں ہے، ۴- عبداللہ بن عکیم سے یہ حدیث مروی ہے، انہوں نے کہا: ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آپ کی وفات سے دو ماہ پہلے آیا، ۵- میں نے احمد بن حسن کو کہتے سنا، احمد بن حنبل اسی حدیث کو اختیار کرتے تھے اس وجہ سے کہ اس میں آپ کی وفات سے دو ماہ قبل کا ذکر ہے، وہ یہ بھی کہتے تھے: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حکم تھا، ۶- پھر احمد بن حنبل نے اس حدیث کو چھوڑ دیا اس لیے کہ راویوں سے اس کی سند میں اضطراب واقع ہے، چنانچہ بعض لوگ اسے عبداللہ بن عکیم سے ان کے جہینہ کے شیوخ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 10
جامع ترمذی 1730 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، كُلُّهُمْ يُخْبِرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ حُذَيْفَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَسَمُرَةَ وَأَبِي ذَرٍّ وَعَائِشَةَ وَهُبَيْبِ بْنِ مُغْفِلٍ ‏.‏ وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جس نے تکبر سے اپنا تہ بند گھیسٹا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حذیفہ، ابو سعید خدری، ابوہریرہ، سمرہ، ابوذر، عائشہ اور وہیب بن مغفل رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 11
جامع ترمذی 1731 Sahih Sahih Hasan Sahih Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَكَيْفَ يَصْنَعْنَ النِّسَاءُ بِذُيُولِهِنَّ قَالَ ‏"‏ يُرْخِينَ شِبْرًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ إِذًا تَنْكَشِفَ أَقْدَامُهُنَّ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَيُرْخِينَهُ ذِرَاعًا لاَ يَزِدْنَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا“، ام سلمہ نے کہا: عورتیں اپنے دامنوں کا کیا کریں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک بالشت لٹکا لیں“، انہوں نے کہا: تب تو ان کے قدم کھل جائیں گے، آپ نے فرمایا: ”ایک بالشت لٹکائیں ۱؎ اور اس سے زیادہ نہ لٹکائیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 12
جامع ترمذی 1732 Sahih Sahih Hasan Hasan

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم شَبَّرَ لِفَاطِمَةَ شِبْرًا مِنْ نِطَاقِهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ رُخْصَةٌ لِلنِّسَاءِ فِي جَرِّ الإِزَارِ لأَنَّهُ يَكُونُ أَسْتَرَ لَهُنَّ ‏.‏

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کے «نطاق» کے لیے ایک بالشت کا اندازہ لگایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بعض لوگوں نے اسے «حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن عن أمه عن أم سلمة» کی سند سے روایت کی ہے، ۲- اس حدیث میں عورتوں کے لیے تہ بند ( چادر ) گھسیٹنے کی اجازت ہے، اس لیے کہ یہ ان کے لیے زیادہ ستر پوشی کا باعث ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 13
جامع ترمذی 1733 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً مُلَبَّدًا وَإِزَارًا غَلِيظًا فَقَالَتْ قُبِضَ رُوحُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ ‏.‏ وَحَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

ابوبردہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی الله عنہا نے ہمارے سامنے ایک اونی چادر اور موٹا تہ بند نکالا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات انہی دونوں کپڑوں میں ہوئی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی اور ابن مسعود رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 14
جامع ترمذی 1734 Very Daif Very Daif Daif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كَانَ عَلَى مُوسَى يَوْمَ كَلَّمَهُ رَبُّهُ كِسَاءُ صُوفٍ وَجُبَّةُ صُوفٍ وَكُمَّةُ صُوفٍ وَسَرَاوِيلُ صُوفٍ وَكَانَتْ نَعْلاَهُ مِنْ جِلْدِ حِمَارٍ مَيِّتٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ ‏.‏ وَحُمَيْدٌ هُوَ ابْنُ عَلِيٍّ الْكُوفِيُّ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الأَعْرَجُ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَحُمَيْدُ بْنُ قَيْسٍ الأَعْرَجُ الْمَكِّيُّ صَاحِبُ مُجَاهِدٍ ثِقَةٌ ‏.‏ وَالْكُمَّةُ الْقَلَنْسُوَةُ الصَّغِيرَةُ ‏.‏

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس دن موسیٰ علیہ السلام سے ان کے رب نے گفتگو کی اس دن موسیٰ علیہ السلام کے بدن پر پرانی چادر، اونی جبہ، اونی ٹوپی، اور اونی سراویل ( پائجامہ ) تھا اور ان کے جوتے مرے ہوئے گدھے کے چمڑے کے تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حمید اعرج کی روایت سے جانتے ہیں، حمید سے مراد حمید بن علی کوفی ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا کہ حمید بن علی اعرج منکرالحدیث ہیں اور حمید بن قیس اعرج مکی جو مجاہد کے شاگرد ہیں، وہ ثقہ ہیں، ۳- «کمہ» : چھوٹی ٹوپی کو کہتے ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 15
جامع ترمذی 1735 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَرُكَانَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں علی، عمر، ابن حریث، ابن عباس اور رکانہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 16
جامع ترمذی 1736 Sahih Sahih Hasan Hasan

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا اعْتَمَّ سَدَلَ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَسْدِلُ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ‏.‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَرَأَيْتُ الْقَاسِمَ وَسَالِمًا يَفْعَلاَنِ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَلاَ يَصِحُّ حَدِيثُ عَلِيٍّ فِي هَذَا مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ ‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمامہ باندھتے تو اسے اپنے شانوں کے بیچ لٹکا لیتے۔ نافع کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما اپنے عمامہ کو شانوں کے بیچ لٹکاتے تھے۔ عبیداللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے قاسم اور سالم کو بھی ایسا کرتے ہوئے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، لیکن ان کی حدیث سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 17
جامع ترمذی 1737 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ نَهَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ وَعَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَعَنْ لِبَاسِ الْمُعَصْفَرِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، «قسی» ( ایک ریشمی کپڑا ) کا لباس، رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے اور «معصفر» ( کسم سے رنگے ہوئے زرد ) کپڑے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 18
جامع ترمذی 1738 Sahih Sahih Hasan Sahih Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ اللَّيْثِيُّ، قَالَ أَشْهَدُ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ حَدَّثَنَا أَنَّهُ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَمُعَاوِيَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عِمْرَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَأَبُو التَّيَّاحِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ ‏.‏

عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمران کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابن عمر، ابوہریرہ اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 19
جامع ترمذی 1739 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ وَرِقٍ وَكَانَ فَصُّهُ حَبَشِيًّا ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَبُرَيْدَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ ( عقیق ) حبشہ کا بنا ہوا تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 20
جامع ترمذی 1740 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ فِضَّةٍ فَصُّهُ مِنْهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ بھی اسی کا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 21
جامع ترمذی 1741 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih Muslim

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَتَخَتَّمَ بِهِ فِي يَمِينِهِ ثُمَّ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي كُنْتُ اتَّخَذْتُ هَذَا الْخَاتَمَ فِي يَمِينِي ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ نَبَذَهُ وَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَجَابِرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَ هَذَا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَنَّهُ تَخَتَّمَ فِي يَمِينِهِ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنائی اور اسے داہنے ہاتھ میں پہنا، پھر منبر پر بیٹھے اور فرمایا: ”میں نے اس انگوٹھی کو اپنے داہنے ہاتھ میں پہنا تھا“، پھر آپ نے اسے نکال کر پھینکا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث بواسطہ نافع ابن عمر سے دوسری سند سے اسی طرح آئی ہے، اس میں انہوں نے یہ ذکر کیا کہ آپ نے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنی، ۲- اس باب میں علی، جابر، عبداللہ بن جعفر، ابن عباس، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 22
جامع ترمذی 1742 Hasan Sahih Hasan Sahih Hasan Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ وَلاَ إِخَالُهُ إِلاَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الصَّلْتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

صلت بن عبداللہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنے دیکھا اور میرا یہی خیال ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا: صلت بن عبداللہ بن نوفل کے واسطہ سے محمد بن اسحاق کی روایت حسن صحیح ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 23
جامع ترمذی 1743 Sahih Muquf Sahih Muquf Hasan Daif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَتَخَتَّمَانِ فِي يَسَارِهِمَا ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

محمد الباقر کہتے ہیں کہ حسن اور حسین اپنے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 24
جامع ترمذی 1744 Sahih Sahih Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي رَافِعٍ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ هَذَا أَصَحُّ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ ‏.‏

حماد بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی رافع ۱؎ کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے دیکھا تو اس کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر رضی الله عنہ کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے دیکھا، عبداللہ بن جعفر رضی الله عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 25
جامع ترمذی 1745 Sahih Sahih Hasan Sahih Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَنَعَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ لاَ تَنْقُشُوا عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ ‏"‏ لاَ تَنْقُشُوا عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ نَهَى أَنْ يَنْقُشَ أَحَدٌ عَلَى خَاتَمِهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنائی، اس میں «محمد رسول اللہ» نقش کرایا، پھر فرمایا: ”تم لوگ اپنی انگوٹھی پر یہ نقش مت کرانا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ «لا تنقشوا عليه» کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے منع فرمایا کوئی دوسرا اپنی انگوٹھی پر «محمد رسول الله» نقش کرائے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 26
جامع ترمذی 1746 Daif Daif Daif

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ نَزَعَ خَاتَمَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 27
جامع ترمذی 1747 Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُحَمَّدٌ سَطْرٌ وَرَسُولُ سَطْرٌ وَاللَّهِ سَطْرٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نقش اس طرح تھا «محمد» ایک سطر، «رسول» ایک سطر اور «اللہ» ایک سطر میں، امام ترمذی کہتے ہیں: انس کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 28
جامع ترمذی 1748 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَةَ أَسْطُرٍ مُحَمَّدٌ سَطْرٌ وَرَسُولُ سَطْرٌ وَاللَّهِ سَطْرٌ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ ثَلاَثَةَ أَسْطُرٍ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نقش تین سطروں میں تھا «محمد» ایک سطر میں «رسول» ایک سطر میں اور «اللہ» ایک سطر میں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- محمد بن یحییٰ نے اپنی روایت میں تین سطروں کا ذکر نہیں کیا ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 29
جامع ترمذی 1749 Sahih Sahih Hasan Sahih Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصُّورَةِ فِي الْبَيْتِ وَنَهَى أَنْ يُصْنَعَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي طَلْحَةَ وَعَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي أَيُّوبَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں تصویر رکھنے سے منع فرمایا اور آپ نے اس کو بنانے سے بھی منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوطلحہ، عائشہ ابوہریرہ اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 30
جامع ترمذی 1750 Sahih Sahih Hasan Sahih Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ ‏.‏ قَالَ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ ‏.‏ قَالَ فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا يَنْزِعُ نَمَطًا تَحْتَهُ فَقَالَ لَهُ سَهْلٌ لِمَ تَنْزِعُهُ فَقَالَ لأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَا قَدْ عَلِمْتَ ‏.‏ قَالَ سَهْلٌ أَوَلَمْ يَقُلْ ‏ "‏ إِلاَّ مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ ‏"‏ فَقَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ وہ ابوطلحہ انصاری رضی الله عنہ کی عیادت کرنے ان کے گھر گئے، تو میں نے ان کے پاس سہل بن حنیف رضی الله عنہ کو پایا، ابوطلحہ رضی الله عنہ نے ایک آدمی کو وہ چادر نکالنے کے لیے بلایا جو ان کے نیچے تھی، سہل رضی الله عنہ نے ان سے کہا: کیوں نکال رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ اس میں تصویریں ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں جو کچھ فرمایا ہے اسے آپ جانتے ہیں، سہل رضی الله عنہ نے کہا: آپ نے تو یہ بھی فرمایا ہے: سوائے اس کپڑے کے جس میں نقش ہو ابوطلحہ نے کہا: آپ نے تو یہ فرمایا ہے لیکن یہ میرے لیے زیادہ اچھا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 31
جامع ترمذی 1751 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عَذَّبَهُ اللَّهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا يَعْنِي الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي جُحَيْفَةَ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی تصویر بنائی اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دیتا رہے گا یہاں تک کہ مصور اس میں روح پھونک دے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا، اور جس نے کسی قوم کی بات کان لگا کر سنی حالانکہ وہ اس سے بھاگتے ہوں ۱؎، قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ ڈالا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابوہریرہ، ابوحجیفہ، عائشہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 32
جامع ترمذی 1752 Sahih Sahih Hasan Sahih Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلاَ تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ الزُّبَيْرِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَجَابِرٍ وَأَبِي ذَرٍّ وَأَنَسٍ وَأَبِي رِمْثَةَ وَالْجَهْدَمَةِ وَأَبِي الطُّفَيْلِ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَأَبِي جُحَيْفَةَ وَابْنِ عُمَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بال کی سفیدی ( خضاب کے ذریعہ ) بدل ڈالو اور یہود کی مشابہت نہ اختیار کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے مرفوع طریقہ سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۳- اس باب میں زبیر، ابن عباس، جابر، ابوذر، انس، ابورمثہ، جہدمہ، ابوطفیل، جابر بن سمرہ، ابوحجیفہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 33
جامع ترمذی 1753 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الأَجْلَحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو الأَسْوَدِ الدِّيلِيُّ اسْمُهُ ظَالِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ ‏.‏

ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر چیز جس سے بال کی سفیدی بدلی جائے وہ مہندی اور وسمہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 34
جامع ترمذی 1754 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَبْعَةً لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلاَ بِالْقَصِيرِ حَسَنَ الْجِسْمِ أَسْمَرَ اللَّوْنِ وَكَانَ شَعْرُهُ لَيْسَ بِجَعْدٍ وَلاَ سَبْطٍ إِذَا مَشَى يَتَكَفَّأُ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَالْبَرَاءِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَأُمِّ هَانِئٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ ‏.‏

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قد تھے، آپ نہ لمبے تھے نہ کوتاہ قد، گندمی رنگ کے سڈول جسم والے تھے، آپ کے بال نہ گھونگھریالے تھے نہ سیدھے، آپ جب چلتے تو پیر اٹھا کر چلتے جیسا کوئی اوپر سے نیچے اترتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے حمید کی روایت سے انس کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، براء، ابوہریرہ، ابن عباس، ابوسعید، جابر، وائل بن حجر اور ام ہانی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 35
جامع ترمذی 1755 Hasan Sahih Hasan Sahih Hasan Sahih Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَكَانَ لَهُ شَعْرٌ فَوْقَ الْجُمَّةِ وَدُونَ الْوَفْرَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ هَذَا الْحَرْفَ وَكَانَ لَهُ شَعْرٌ فَوْقَ الْجُمَّةِ وَدُونَ الْوَفْرَةِ ‏.‏ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ثِقَةٌ كَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُوَثِّقُهُ وَيَأْمُرُ بِالْكِتَابَةِ عَنْهُ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھی، آپ کے بال «جمہ» سے چھوٹے اور «وفرہ» سے بڑے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- دوسری سندوں سے یہ حدیث عائشہ سے یوں مروی ہے، کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھی، راویوں نے اس حدیث میں یہ جملہ نہیں بیان کیا ہے، «وكان له شعر فوق الجمة ودون الوفرة» ۳- عبدالرحمٰن بن ابی زناد ثقہ ہیں، مالک بن انس ان کی توثیق کرتے تھے اور ان کی روایت لکھنے کا حکم دیتے تھے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 36
جامع ترمذی 1756 Sahih Sahih Hasan Sahih

عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا، سوائے اس کے کہ ناغہ کر کے کی جائے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 37
جامع ترمذی 1757 Sahih Sahih

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اثمد سرمہ لگاؤ اس لیے کہ وہ بینائی کو جلا بخشتا ہے اور پلکوں کا بال اگاتا ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ہر رات تین سلائی اس ( داہنی آنکھ ) میں اور تین سلائی اس ( بائیں آنکھ ) میں سرمہ لگاتے تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اس لفظ کے ساتھ صرف عباد بن منصور کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 39
جامع ترمذی 1758 Sahih Sahih Hasan Sahih Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ لُبْسَتَيْنِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ بِثَوْبِهِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ وَأَبِي أُمَامَةَ ‏.‏ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لباس سے منع فرمایا: ”ایک صماء، اور دوسرا یہ کہ کوئی شخص خود کو کپڑے میں اس طرح لپیٹ لے کہ اس کی شرمگاہ پر اس کپڑے کا کوئی حصہ نہ رہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ دوسری سندوں سے بھی ابوہریرہ کے واسطہ سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ۳- اس باب میں علی، ابن عمر، عائشہ، ابوسعید، جابر اور ابوامامہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 41
جامع ترمذی 1759 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ الْوَشْمُ فِي اللَّثَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَمُعَاوِيَةَ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بال میں جوڑے لگانے والی، بال میں جوڑے لگوانے والی، گدنا گوندنے والی اور گدنا گوندوانے والی پر لعنت بھیجی ہے“۔ نافع کہتے ہیں: گدنا مسوڑے میں ہوتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابن مسعود، اسماء بنت ابی بکر، ابن عباس، معقل بن یسار اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 42
جامع ترمذی 1760 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ رُكُوبِ الْمَيَاثِرِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ ‏.‏ وَحَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ نَحْوَهُ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ‏.‏

براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ریشمی زین پر سوار ہونے سے منع فرمایا: راوی کہتے ہیں: اس حدیث میں ایک قصہ مذکور ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲ – اس باب میں علی اور معاویہ رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، شعبہ نے بھی اشعث بن ابی شعثاء سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، اس حدیث میں ایک قصہ مذکور ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 43
جامع ترمذی 1761 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّمَا كَانَ فِرَاشُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الَّذِي يَنَامُ عَلَيْهِ أَدَمٌ حَشْوُهُ لِيفٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ حَفْصَةَ وَجَابِرٍ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس بچھونے پر سوتے تھے وہ چمڑے کا تھا، اس کے اندر کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حفصہ اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 44
جامع ترمذی 1762 Sahih Sahih Hasan Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، وَزَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْقَمِيصُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ تَفَرَّدَ بِهِ وَهُوَ مَرْوَزِيٌّ ‏.‏ وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي تُمَيْلَةَ عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏

حوالہ: کتاب 24, حدیث 45
جامع ترمذی 1763 Sahih Hasan

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْقَمِيصُ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يَقُولُ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَصَحُّ وَإِنَّمَا يُذْكَرُ فِيهِ أَبُو تُمَيْلَةَ عَنْ أُمِّهِ

حوالہ: کتاب 24, حدیث 46
جامع ترمذی 1764 Sahih Hasan

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْقَمِيصُ ‏.‏

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک پسندیدہ لباس قمیص تھی۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 47
جامع ترمذی 1765 Daif Daif Hasan Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ الأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ كَانَ كُمُّ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الرُّسْغِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو کی آستین کلائی ( پہنچوں ) تک ہوتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 48
جامع ترمذی 1766 Sahih Sahih Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا لَبِسَ قَمِيصًا بَدَأَ بِمَيَامِنِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا وَلاَ نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ عَنْ شُعْبَةَ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قمیص پہنتے تو داہنی طرف سے ( پہننا ) شروع کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: کئی لوگوں نے یہ حدیث بسند «شعبة عن أبي هريرة» موقوف روایت کی ہے، شعبہ سے روایت کرنے والے عبدالصمد بن عبدالوارث کے علاوہ ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اسے مرفوع طریقہ سے روایت کیا ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 49
جامع ترمذی 1767 Sahih Sahih Hasan

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے جیسے عمامہ ( پگڑی ) ، قمیص یا چادر، پھر کہتے: «اللهم لك الحمد أنت كسوتنيه أسألك خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له» ”اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے، تو نے ہی مجھے یہ پہنایا ہے، میں تم سے اس کی خیر اور اس چیز کی خیر کا طلب گار ہوں جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے، اور اس کی شر اور اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 50
جامع ترمذی 1768 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَبِسَ جُبَّةً رُومِيَّةً ضَيِّقَةَ الْكُمَّيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رومی جبہ پہنا جس کی آستینیں تنگ تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 52
جامع ترمذی 1769 Sahih Daif Daif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، هُوَ الشَّيْبَانِيُّ عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ أَهْدَى دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُفَّيْنِ فَلَبِسَهُمَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَالَ إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ وَجُبَّةً فَلَبِسَهُمَا حَتَّى تَخَرَّقَا لاَ يَدْرِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَذَكِيٌّ هُمَا أَمْ لاَ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ أَبُو إِسْحَاقَ الَّذِي رَوَى هَذَا عَنِ الشَّعْبِيِّ هُوَ أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ وَاسْمُهُ سُلَيْمَانُ وَالْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ هُوَ أَخُو أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ‏.‏

مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دحیہ کلبی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو موزے تحفہ بھیجے، چنانچہ آپ نے انہیں پہنا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسرائیل نے اپنی روایت میں کہا ہے ( جسے وہ بطریق «عن جابر» روایت کرتے ہیں ) : ایک جبہ بھی بھیجا، آپ نے ان دونوں موزوں کو پہنا یہاں تک کہ وہ پھٹ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے تھے کہ وہ مذبوح جانور کی کھال کے ہیں یا غیر مذبوح، ۳- ابواسحاق سبیعی کا نام سلیمان ہے، ۴- حسن بن عیاش ابوبکر بن عیاش کے بھائی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 53
جامع ترمذی 1770 Hasan Hasan Hasan

عرفجہ بن اسعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں کلاب ۱؎ ( ایک لڑائی ) کے دن میری ناک کٹ گئی، میں نے چاندی کی ایک ناک لگائی تو اس سے بدبو آنے لگی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی ایک ناک لگانے کا حکم دیا ۲؎۔ اس سند سے بھی ابوشہب سے اسی جیسی حدیث روایت ہے، امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن طرفہ کی روایت سے جانتے ہیں، سلیم بن زریر نے بھی عبدالرحمٰن بن طرفہ سے ابوشہاب کی حدیث جیسی روایت کی ہے، ۳- اہل علم میں سے کئی ایک سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے دانتوں کو سونے ( کے تار ) سے باندھا، اس حدیث میں ان کے لیے دلیل موجود ہے، ۴- عبدالرحمٰن بن مہدی نے ( سلم بن زریر کے بجائے ) سلم بن زرین کہا ہے، یہاں ان سے وہم ہوا ہے وزریر زیادہ صحیح ہے، راوی ابوسعید صغانی کا نام محمد بن میسر ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 54
جامع ترمذی 1771 Sahih Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏

ابوالملیح سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال ( استعمال کرنے ) سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ زیادہ صحیح ہے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 59
جامع ترمذی 1772 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ كَيْفَ كَانَ نَعْلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُمَا قِبَالاَنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کیسے تھے؟ کہا: ان کے دو تسمے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور ابوہریرہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 60
جامع ترمذی 1773 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا حِبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ نَعْلاَهُ لَهُمَا قِبَالاَنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کے دو تسمے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس و ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 61
جامع ترمذی 1774 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی ایک جوتا پہن کر نہ چلے، دونوں پہن لے یا دونوں اتار دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 62
جامع ترمذی 1775 Sahih Sahih Daif

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَرَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ وَكِلاَ الْحَدِيثَيْنِ لاَ يَصِحُّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ‏.‏ وَالْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِالْحَافِظِ وَلاَ نَعْرِفُ لِحَدِيثِ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَصْلاً ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر جوتا پہنے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عبیداللہ بن عمر ورقی نے اس حدیث کو معمر سے، معمر نے قتادہ سے، قتادہ نے انس سے روایت کی ہے، یہ دونوں حدیثیں محدثین کے نزدیک صحیح نہیں ہیں، حارث بن نبہان کا حافظہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے، ۳- قتادہ کی انس سے مروی حدیث کی ہم کوئی اصل نہیں جانتے ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 63
جامع ترمذی 1776 Sahih Sahih Daif

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ السِّمْنَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَلاَ يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ وَلاَ حَدِيثُ مَعْمَرٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا۔ ٍ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اور نہ ہی معمر کی حدیث جسے وہ عمار بن ابی عمار سے اور عمار ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 64
جامع ترمذی 1777 Munkar Munkar Daif

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ، كُوفِيٌّ حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رُبَّمَا مَشَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بسا اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جوتا پہن کر چلتے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 65
جامع ترمذی 1778 Sahih Sahih Daif

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا مَشَتْ بِنَعْلٍ وَاحِدَةٍ ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَكَذَا رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ مَوْقُوفًا وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک جوتا پہن کر چلیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ روایت زیادہ صحیح ہے ۱؎، ۲- سفیان ثوری اور کئی لوگوں نے اسی طرح اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطہ سے موقوف طریقہ سے روایت کیا ہے اور یہ موقوف روایت زیادہ صحیح ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 66
جامع ترمذی 1779 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ فَلْتَكُنِ الْيُمْنَى أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی جوتا پہنے تو داہنے پیر سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں سے شروع کرے، پہننے میں داہنا پاؤں پہلے اور اتارنے میں پیچھے ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 67
جامع ترمذی 1780 Very Daif Very Daif Daif

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، وَأَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا أَرَدْتِ اللُّحُوقَ بِي فَلْيَكْفِيكِ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الأَغْنِيَاءِ وَلاَ تَسْتَخْلِقِي ثَوْبًا حَتَّى تُرَقِّعِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَصَالِحُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ثِقَةٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَمَعْنَى قَوْلِهِ ‏"‏ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الأَغْنِيَاءِ ‏"‏ ‏.‏ هُوَ نَحْوُ مَا رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ مَنْ رَأَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْخَلْقِ وَالرِّزْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ هُوَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لاَ يَزْدَرِيَ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ صَحِبْتُ الأَغْنِيَاءَ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا أَكْثَرَ هَمًّا مِنِّي أَرَى دَابَّةً خَيْرًا مِنْ دَابَّتِي وَثَوْبًا خَيْرًا مِنْ ثَوْبِي وَصَحِبْتُ الْفُقَرَاءَ فَاسْتَرَحْتُ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اگر تم ( آخرت میں ) مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو دنیا سے مسافر کے سامان سفر کے برابر حاصل کرنے پر اکتفا کرو، مالداروں کی صحبت سے بچو اور کسی کپڑے کو اس وقت تک پرانا نہ سمجھ یہاں تک کہ اس میں پیوند لگا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف صالح بن حسان کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: صالح بن حسان منکر حدیث ہیں اور صالح بن ابی حسان جن سے ابن ابی ذئب نے روایت کی ہے وہ ثقہ ہیں،

حوالہ: کتاب 24, حدیث 68
جامع ترمذی 1781 Sahih Sahih

ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اس حال میں آئے کہ آپ کی چار چوٹیاں تھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ام ہانی سے مجاہد کا سماع میں نہیں جانتا ہوں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 69
جامع ترمذی 1782 Daif Daif Daif Daif

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا كَبْشَةَ الأَنْمَارِيَّ، يَقُولُ كَانَتْ كِمَامُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بُطْحًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ ‏.‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ بَصْرِيٌّ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ ‏.‏ وَبُطْحٌ يَعْنِي وَاسِعَةٌ ‏.‏

ابوکبشہ انماری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی آستینیں کشادہ تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث منکر ہے، ۲- عبداللہ بن بسر بصرہ کے رہنے والے ہیں، محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعید وغیرہ نے انہیں ضعیف کہا ہے، ۳- «بطح» چوڑی اور کشادہ چیز کو کہتے ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 71
جامع ترمذی 1783 Sahih Sahih Hasan Sahih Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نَذِيرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ فَقَالَ ‏ "‏ هَذَا مَوْضِعُ الإِزَارِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلُ فَإِنْ أَبَيْتَ فَلاَ حَقَّ لِلإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ‏.‏

حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی یا میری پنڈلی کا گوشت پکڑا اور فرمایا: ”یہ تہبند کی جگہ ہے، اگر اس پر راضی نہ ہو تو تھوڑا اور نیچا کر لو، پھر اگر اور نیچا کرنا چاہو تو تہ بند ٹخنوں سے نیچا نہیں کر سکتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، ثوری اور شعبہ نے بھی اس کو ابواسحاق سبیعی سے روایت کیا ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 72
جامع ترمذی 1784 Daif Daif Daif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْعَسْقَلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رُكَانَةَ، صَارَعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ رُكَانَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ فَرْقَ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلاَنِسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَائِمِ ‏.‏ وَلاَ نَعْرِفُ أَبَا الْحَسَنِ الْعَسْقَلاَنِيَّ وَلاَ ابْنَ رُكَانَةَ ‏.‏

محمد بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی لڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پچھاڑ دیا، رکانہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”ہمارے اور مشرکوں کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامہ باندھنے کا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند قائم ( صحیح ) نہیں ہے، ۳- ہم ابوالحسن عسقلانی اور ابن رکانہ کو نہیں جانتے ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 73
جامع ترمذی 1785 Daif Daif Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، وَأَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ ‏"‏ مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ صُفْرٍ فَقَالَ ‏"‏ مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الأَصْنَامِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَتَاهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ ‏"‏ مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مِنْ أَىِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ قَالَ ‏"‏ مِنْ وَرِقٍ وَلاَ تُتِمَّهُ مِثْقَالاً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ يُكْنَى أَبَا طَيْبَةَ وَهُوَ مَرْوَزِيٌّ ‏.‏

بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہنمیوں کا زیور پہنے ہو؟“ پھر وہ آپ کے پاس پیتل کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے کہ تم سے بتوں کی بدبو آ رہی ہے؟ پھر وہ آپ کے پاس سونے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جنتیوں کا زیور پہنے ہو؟ اس نے پوچھا: میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں؟ آپ نے فرمایا: ”چاندی کی اور ( وزن میں ) ایک مثقال سے کم رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے، ۳- عبداللہ بن مسلم کی کنیت ابوطیبہ ہے اور وہ عبداللہ بن مسلم مروزی ہیں۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 74
جامع ترمذی 1786 Sahih Daif Hasan Sahih Sahih Muslim

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُوسَى، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَأَنْ أَلْبَسَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ وَفِي هَذِهِ ‏.‏ وَأَشَارَ إِلَى السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَابْنُ أَبِي مُوسَى هُوَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى وَاسْمُهُ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ‏.‏

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قسي» ( ایک ریشمی کپڑا ) سرخ ( رنگ کا ریشمی ) زین پوش اور اس انگلی اور اس انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا اور انہوں نے شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 75
جامع ترمذی 1787 Sahih Sahih Hasan Sahih Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُهَا الْحِبَرَةُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ کپڑا جسے آپ پہنتے تھے وہ دھاری دار یمنی چادر تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

حوالہ: کتاب 24, حدیث 76

متن اور درجہ بندی اوپن سورس Hadith API (fawazahmed0/hadith-api) سے۔ درجات متعلقہ محدثین کے ہیں۔