مواد پر جائیں
Sunni Islam رہنمائی، عبادت کے ٹولز اور مستند مآخذ
22

سنن نسائی

The Book of Fasting

345 احادیث

سنن نسائی 2090 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَائِرَ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الصَّلاَةِ قَالَ ‏"‏ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الصِّيَامِ قَالَ ‏"‏ صِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الزَّكَاةِ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَرَائِعِ الإِسْلاَمِ ‏.‏ فَقَالَ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لاَ أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلاَ أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ شَيْئًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏

طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پراگندہ بال آیا، ( اور ) اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”پانچ ( وقت کی ) نمازیں، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفل پڑھنا چاہو“، پھر اس نے کہا: مجھے بتلائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنے روزے فرض کیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ماہ رمضان کے روزے، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفلی ( روزے ) رکھنا چاہو“، ( پھر ) اس نے پوچھا: مجھے بتلائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی زکاۃ فرض کی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کے احکام بتائے، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کی تکریم کی ہے، میں کوئی نفل نہیں کروں اور نہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو فرض کیا ہے اس میں کوئی کمی کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا تو یہ کامیاب ہو گیا“، یا کہا: ”اگر اس نے سچ کہا تو جنت میں داخل ہو گیا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 1
سنن نسائی 2091 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ نَسْأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَىْءٍ فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ الْعَاقِلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُكَ فَأَخْبَرَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَكَ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الأَرْضَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَنْ نَصَبَ فِيهَا الْجِبَالَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَنْ جَعَلَ فِيهَا الْمَنَافِعَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَالأَرْضَ وَنَصَبَ فِيهَا الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا الْمَنَافِعَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةَ أَمْوَالِنَا قَالَ ‏"‏ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي كُلِّ سَنَةٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا الْحَجَّ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ أَزِيدَنَّ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا وَلاَ أَنْقُصُ ‏.‏ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہمیں قرآن کریم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لایعنی بات پوچھنے سے منع کیا گیا تھا، تو ہمیں یہ بات اچھی لگتی کہ دیہاتیوں میں سے کوئی عقلمند شخص آئے، اور آپ سے نئی نئی باتیں پوچھے، چنانچہ ایک دیہاتی آیا، اور کہنے لگا: اے محمد! ہمارے پاس آپ کا قاصد آیا، اور اس نے ہمیں بتایا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، اس نے پوچھا: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے کہا: ”اللہ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: اس میں پہاڑ کو کس نے نصب کیے ہیں؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: اس میں نفع بخش ( چیزیں ) کس نے بنائیں؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، اور اس میں پہاڑ نصب کیے، اور اس میں نفع بخش ( چیزیں ) بنائیں کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، پھر اس نے کہا: اور آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہمارے اوپر ہر روز دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ( نمازوں ) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ہاں، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہم پر اپنے مالوں کی زکاۃ فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا، ( پھر ) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم پر ہر سال ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں، آپ نے کہا: ”اس نے سچ کہا“ ( پھر ) اس نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ( دنوں کے روزوں ) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم میں سے جو کعبہ تک جانے کی طاقت رکھتے ہوں، ان پر حج فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا فرمایا: میں ہرگز نہ اس میں کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا، جب وہ لوٹا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ ضرور جنت میں داخل ہو گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 2
سنن نسائی 2092 Sahih Sahih Sahih Bukhari

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ فَقَالَ لَهُمْ أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ - وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ - قُلْنَا لَهُ هَذَا الرَّجُلُ الأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ أَجَبْتُكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي سَائِلُكَ يَا مُحَمَّدُ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلاَ تَجِدَنَّ فِي نَفْسِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ سَلْ مَا بَدَا لَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ‏.‏ خَالَفَهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ‏.‏

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک شخص اونٹ پر آیا، اسے مسجد میں بٹھایا پھر اسے باندھا، ( اور ) لوگوں سے پوچھا: تم میں محمد کون ہیں؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ تو ہم نے اس سے کہا: یہ گورے چٹے آدمی ہیں، جو ٹیک لگائے بیٹھے ہیں، آپ کو پکار کر اس شخص نے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نے تمہاری بات سن لی“ ( کہو کیا کہنا چاہتے ہو ) اس نے کہا: محمد! میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں، ( اور ذرا ) سختی سے پوچھوں گا تو آپ دل میں کچھ محسوس نہ کریں، آپ نے فرمایا: ”پوچھو جو چاہتے ہو“، تو اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے، اور آپ سے پہلے ( جو گزر چکے ہیں ) ان کے رب کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف ( رسول بنا کر ) بھیجا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ! ( میری بات پر گواہ رہنا ) ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: میں اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن اور رات میں پانچ ( وقت کی ) نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس ماہ میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں،“ ( پھر ) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! اللہ تعالیٰ نے آپ کو مالداروں سے زکاۃ لے کر غریبوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں“، تب ( اس ) شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی ( شریعت ) پر ایمان لایا، میں اپنی قوم کا جو میرے پیچھے ہیں قاصد ہوں، اور میں قبیلہ بنی سعد بن بکر کا فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ یعقوب بن ابراہیم نے حماد بن عیسیٰ کی مخالفت کی ہے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 3
سنن نسائی 2093 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مِنْ كِتَابِهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلاَنَ، وَغَيْرُهُ، مِنْ إِخْوَانِنَا عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ قَالَ أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ - وَهُوَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ - فَقُلْنَا لَهُ هَذَا الرَّجُلُ الأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ أَجَبْتُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الرَّجُلُ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَنْشُدُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ‏.‏ خَالَفَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ‏.‏

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک شخص اونٹ پر سوار آیا، اس نے اسے مسجد میں بٹھا کر باندھا ( اور ) لوگوں سے پوچھا: تم میں محمد کون ہیں؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ ہم نے اس سے کہا: یہ گورے چٹے آدمی ہیں جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں، تو ( اس ) شخص نے ( پکار کر ) آپ سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نے تمہاری بات سن لی“، ( کہو کیا کہنا چاہتے ہو ) تو اس شخص نے کہا: اے محمد! میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں ( اور ذرا ) سختی سے پوچھوں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پوچھو جو تم پوچھنا چاہتے ہو“، تو اس آدمی نے کہا: میں آپ کو آپ کے، اور آپ سے پہلے ( جو گزر چکے ہیں ) کے رب کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف ( رسول بنا کر ) بھیجا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں“، پھر اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس ماہ کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا! ) ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں سے یہ صدقہ لو اور اسے ہمارے غریبوں میں تقسیم کرو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں“، تب ( اس ) شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی ( شریعت ) پہ ایمان لایا، میں اپنی قوم کا جو میرے پیچھے ہے قاصد ہوں، اور میں بنی سعد بن بکر کا فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ عبیداللہ بن عمر نے ابن عجلان کی مخالفت کی ہے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 4
سنن نسائی 2094 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَارَةَ، حَمْزَةُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَعَ أَصْحَابِهِ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ قَالَ أَيُّكُمُ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالُوا هَذَا الأَمْغَرُ الْمُرْتَفِقُ - قَالَ حَمْزَةُ الأَمْغَرُ الأَبْيَضُ مُشْرَبٌ حُمْرَةً - فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشْتَدٌّ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ قَالَ ‏"‏ سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَسْأَلُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ وَرَبِّ مَنْ بَعْدَكَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْ أَمْوَالِ أَغْنِيَائِنَا فَتَرُدَّهُ عَلَى فُقَرَائِنَا قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ اثْنَىْ عَشَرَ شَهْرًا قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ يَحُجَّ هَذَا الْبَيْتَ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَإِنِّي آمَنْتُ وَصَدَّقْتُ وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تھے کہ اسی دوران دیہاتیوں میں ایک شخص آیا، اور اس نے پوچھا: تم میں عبدالمطلب کے بیٹے کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ گورے رنگ والے جو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں ( حمزہ کہتے ہیں: «الأمغر» سرخی مائل کو کہتے ہیں ) تو اس شخص نے کہا: میں آپ سے کچھ پوچھنے ولا ہوں، اور پوچھنے میں آپ سے سختی کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”پوچھو جو چاہو“، اس نے کہا: میں آپ سے آپ کے رب کا اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کا اور آپ کے بعد کے لوگوں کے رب کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ تو گواہ رہ، ہاں“، اس نے کہا: تو میں اسی کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھیں؟ آپ نے کہا: ”اے اللہ تو گواہ رہ، ہاں“، اس نے کہا: کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں کے مالوں میں سے ( زکاۃ ) لیں، پھر اسے ہمارے فقیروں کو لوٹا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ تو گواہ رہنا، ہاں“، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے بارہ مہینوں میں سے اس مہینہ میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ تو گواہ رہنا، ہاں“، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں کیا اللہ تعالیٰ نے آپ حکم دیا ہے کہ جو اس خانہ کعبہ تک پہنچنے کی طاقت رکھے وہ اس کا حج کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ گواہ رہنا ہاں“، تب اس شخص نے کہا: میں ایمان لایا اور میں نے تصدیق کی، میں ضمام بن ثعلبہ ہوں۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 5
سنن نسائی 2095 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ ‏.‏ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی آدمی تھے، اور رمضان میں جس وقت جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملتے تھے آپ اور زیادہ سخی ہو جاتے تھے، جبرائیل علیہ السلام آپ سے ماہ رمضان میں ہر رات ملاقات کرتے ( اور ) قرآن کا دور کراتے تھے۔ ( راوی ) کہتے ہیں: جس وقت جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 6
سنن نسائی 2096 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ لَعْنَةٍ تُذْكَرُ وَكَانَ إِذَا كَانَ قَرِيبَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يُدَارِسُهُ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ وَأَدْخَلَ هَذَا حَدِيثًا فِي حَدِيثٍ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی لعنت ایسی نہیں کی جسے ذکر کیا جائے، ( اور ) جب جبرائیل علیہ السلام کے آپ کو قرآن دور کرانے کا زمانہ آتا تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ ( روایت ) غلط ہے، اور صحیح یونس بن یزید والی حدیث ہے ( جو اوپر گزری ) راوی نے اس حدیث میں ایک ( دوسری ) حدیث داخل کر دی ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 7
سنن نسائی 2097 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 8
سنن نسائی 2098 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 9
سنن نسائی 2099 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین زنجیر میں جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 10
سنن نسائی 2100 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ، مَوْلَى التَّيْمِيِّينَ أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 11
سنن نسائی 2101 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، فِي حَدِيثِهِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا كَانَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ ‏"‏ ‏.‏ رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔ اسے ابن اسحاق نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 12
سنن نسائی 2102 Sahih Lighairihi Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا - يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ إِسْحَاقَ - خَطَأٌ وَلَمْ يَسْمَعْهُ ابْنُ إِسْحَاقَ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَالصَّوَابُ مَا تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ ابن اسحاق ( والی ) حدیث غلط ہے، اسے ابن اسحاق نے زہری سے نہیں سنا ہے، اور صحیح ( روایت ) وہ ہے جس کا ذکر ہم ( اوپر ) کر چکے ہیں۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 13
سنن نسائی 2103 Sahih Lighairihi Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أُوَيْسِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَدِيدِ بَنِي تَيْمٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ هَذَا رَمَضَانُ قَدْ جَاءَكُمْ تُفَتَّحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَتُغَلَّقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ وَتُسَلْسَلُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا الْحَدِيثُ خَطَأٌ ‏.‏

انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رمضان ہے جو تمہارے پاس آپ پہنچا ہے اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ حدیث غلط ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 14
سنن نسائی 2104 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ عَزِيمَةٍ وَقَالَ ‏ "‏ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ وَسُلْسِلَتْ فِيهِ الشَّيَاطِينُ ‏"‏ ‏.‏ أَرْسَلَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عزیمت و تاکید بغیر واجب کئے قیام رمضان کی ترغیب دیتے تھے، اور فرماتے تھے: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور اس میں شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔ ابن مبارک نے اسے مرسلاً ( منقطعاً ) روایت کیا ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 15
سنن نسائی 2105 Sahih Lighairihi Sahih Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، - خُرَاسَانِيٌّ - قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 16
سنن نسائی 2106 Sahih Sahih Daif

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ وَتُغَلُّ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ لِلَّهِ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کا مبارک مہینہ تمہارے پاس آ چکا ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کر دیئے ہیں، اس میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور سرکش شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں، اور اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس کے خیر سے محروم رہا تو وہ بس محروم ہی رہا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 17
سنن نسائی 2107 Sahih Lighairihi Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ عُدْنَا عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍ فَتَذَاكَرْنَا شَهْرَ رَمَضَانَ فَقَالَ مَا تَذْكُرُونَ قُلْنَا شَهْرَ رَمَضَانَ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ وَيُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ هَلُمَّ وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ ‏.‏

عرفجہ کہتے ہیں کہ ہم نے عتبہ بن فرقد کی عیادت کی تو ہم نے ماہ رمضان کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے پوچھا: تم لوگ کیا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: ماہ رمضان کا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں، اور ہر رات منادی آواز لگاتا ہے: اے خیر ( بھلائی ) کے طلب گار! خیر کے کام میں لگ جا ۱؎، اور اے شر ( برائی ) کے طلب گار! برائی سے باز آ جا“ ۲؎۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں: یہ غلط ہے ۳؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 18
سنن نسائی 2108 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ كُنْتُ فِي بَيْتٍ فِيهِ عُتْبَةُ بْنُ فَرْقَدٍ فَأَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَ بِحَدِيثٍ وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّهُ أَوْلَى بِالْحَدِيثِ مِنِّي فَحَدَّثَ الرَّجُلُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ فِي رَمَضَانَ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ وَيُصَفَّدُ فِيهِ كُلُّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ وَيُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا طَالِبَ الْخَيْرِ هَلُمَّ وَيَا طَالِبَ الشَّرِّ أَمْسِكْ ‏"‏ ‏.‏

عرفجہ کہتے ہیں میں ایک گھر میں تھا جس میں عتبہ بن فرقد بھی تھے، میں نے ایک حدیث بیان کرنی چاہی حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ( صاحب وہاں ) موجود تھے گویا وہ حدیث بیان کرنے کا مجھ سے زیادہ مستحق تھے، چنانچہ ( انہوں ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، اور ہر سرکش شیطان کو بیڑی لگا دی جاتی ہے، اور پکارنے والا ہر رات پکارتا ہے: اے خیر ( بھلائی ) کے طلب گار! نیکی میں لگا رہ، اور اے شر ( برائی ) کے طلب گار! باز آ جا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 19
سنن نسائی 2109 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُهَلَّبُ بْنُ أَبِي حَبِيبَةَ، ح وَأَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ صُمْتُ رَمَضَانَ وَلاَ قُمْتُهُ كُلَّهُ ‏"‏ ‏.‏ وَلاَ أَدْرِي كَرِهَ التَّزْكِيَةَ أَوْ قَالَ لاَ بُدَّ مِنْ غَفْلَةٍ وَرَقْدَةٍ اللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ ‏.‏

ابوبکرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں کوئی ہرگز یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے، اور اس کی پوری راتوں میں قیام کیا“ ( راوی کہتے ہیں ) میں نہیں جانتا کہ آپ نے آپ اپنی تعریف کرنے کو ناپسند کیا، یا آپ نے سمجھا ضرور کوئی نہ کوئی غفلت اور لاپرواہی ہوئی ہو گی ( پھر یہ کہنا کہ میں نے پورے رمضان میں عبادت کی کہاں صحیح ہوا ) یہ الفاظ عبیداللہ کے ہیں۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 20
سنن نسائی 2110 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يُخْبِرُنَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاِمْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ ‏ "‏ إِذَا كَانَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي فِيهِ فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً ‏"‏ ‏.‏

عطا کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو سنا، وہ ہمیں بتا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت سے کہا: ”جب رمضان آئے تو اس میں عمرہ کر لو، کیونکہ ( ماہ رمضان میں ) ایک عمرہ ایک حج کے برابر ہوتا ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 21
سنن نسائی 2111 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ - قَالَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ، بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ - قَالَ - فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتَهَلَّ عَلَىَّ هِلاَلُ رَمَضَانَ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَيْتُ الْهِلاَلَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلاَلَ فَقَالَ مَتَى رَأَيْتُمْ فَقُلْتُ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ‏.‏ قَالَ أَنْتَ رَأَيْتَهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ قُلْتُ نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ فَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ ‏.‏ قَالَ لَكِنْ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلاَ نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلاَثِينَ يَوْمًا أَوْ نَرَاهُ ‏.‏ فَقُلْتُ أَوَلاَ تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَأَصْحَابِهِ قَالَ لاَ هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

کریب مولیٰ ابن عباس کہتے ہیں: ام فضل رضی اللہ عنہا نے انہیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا، تو میں شام آیا، اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی، اور میں شام ( ہی ) میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، میں نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا، پھر میں مہینہ کے آخری ( ایام ) میں مدینہ آ گیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے ( حال چال ) پوچھا، پھر پہلی تاریخ کے چاند کا ذکر کیا، ( اور مجھ سے ) پوچھا: تم لوگوں نے چاند کب دیکھا؟ تو میں نے جواب دیا: ہم نے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، انہوں نے ( تاکیداً ) پوچھا: تم نے ( بھی ) اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں ( میں نے بھی دیکھا تھا ) اور لوگوں نے بھی دیکھا، تو لوگوں نے ( بھی ) روزے رکھے، اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی، ( تو ) انہوں نے کہا: لیکن ہم لوگوں نے ہفتے ( سنیچر ) کی رات کو دیکھا تھا، ( لہٰذا ) ہم برابر روزہ رکھیں گے یہاں تک کہ ہم ( گنتی کے ) تیس دن پورے کر لیں، یا ہم ( اپنا چاند ) دیکھ لیں، تو میں نے کہا: کیا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا چاند دیکھنا کافی نہیں ہے؟ کہا: نہیں! ( کیونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 22
سنن نسائی 2112 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَأَيْتُ الْهِلاَلَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَتَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَنَادَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَنْ صُومُوا ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور ) کہنے لگا: میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے کہا: ”کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں روزہ رکھنے کا اعلان کر دیا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 23
سنن نسائی 2113 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبْصَرْتُ الْهِلاَلَ اللَّيْلَةَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَتَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ يَا بِلاَلُ أَذِّنْ فِي النَّاسِ فَلْيَصُومُوا غَدًا ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں نے آج رات چاند دیکھا ہے، آپ نے پوچھا: ”کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ نے فرمایا: ”بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل سے روزے رکھیں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 24
سنن نسائی 2114 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، مُرْسَلٌ ‏.‏

اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 25
سنن نسائی 2115 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، - مِصِّيصِيٌّ - قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، مُرْسَلٌ ‏.‏

اس سند سے بھی عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 26
سنن نسائی 2116 Sahih Sahih Daif

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شَبِيبٍ أَبُو عُثْمَانَ، - وَكَانَ شَيْخًا صَالِحًا بِطَرَسُوسَ - قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ خَطَبَ النَّاسَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَقَالَ أَلاَّ إِنِّي جَالَسْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَاءَلْتُهُمْ وَأَنَّهُمْ حَدَّثُونِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ وَانْسُكُوا لَهَا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا ثَلاَثِينَ فَإِنْ شَهِدَ شَاهِدَانِ فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا ‏"‏ ‏.‏

عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک ایسے دن میں جس میں شک تھا ( کہ رمضان کی پہلی تاریخ ہے یا شعبان کی آخری ) لوگوں سے خطاب کیا تو کہا: سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ہم نشینی کی، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا تو میں نے ان سے سوالات کئے، اور انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اور اسی طرح حج بھی کرو، اور اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو تیس ( کی گنتی ) پوری کرو، ( اور ) اگر دو گواہ ( چاند دیکھنے کی ) شہادت دے دیں تو روزے رکھو، اور افطار ( یعنی عید ) کرو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 27
سنن نسائی 2117 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ فَعُدُّوا ثَلاَثِينَ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزے رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس ( دن ) پورے کرو“ ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 28
سنن نسائی 2118 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا ثَلاَثِينَ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، ( اور ) اگر مطلع تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس دن پورے کرو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 29
سنن نسائی 2119 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلاَثِينَ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب ( شوال کا ) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو، ( اور ) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو ( پورے ) تیس دن روزہ رکھو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 30
سنن نسائی 2120 - Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب ( شوال کا ) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو، ( اور ) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو اس کا اندازہ لگاؤ“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 31
سنن نسائی 2121 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: ”تم روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو، اور روزہ رکھنا بند کرو یہاں تک کہ ( چاند ) دیکھ لو، ( اور ) اگر فضا ابر آلود ہو تو اس کا حساب لگا لو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 32
سنن نسائی 2122 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ( رمضان کے ) روزے نہ رکھو یہاں تک کہ ( چاند ) دیکھ لو اور نہ ہی روزے رکھنا بند کرو یہاں تک کہ ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو ( اور ) اگر آسمان میں بادل ہوں تو اس ( مہینے ) کا حساب لگا لو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 33
سنن نسائی 2123 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، صَاحِبُ حِمْصَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْهِلاَلَ فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاَثِينَ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کا ذکر کیا تو فرمایا: ”جب تم اسے ( یعنی رمضان کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے ( یعنی عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو، ( اور ) اگر آسمان میں بادل ہوں تو تیس دن پورے شمار کرو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 34
سنن نسائی 2124 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَوْزَاءِ، - وَهُوَ ثِقَةٌ بَصْرِيٌّ أَخُو أَبِي الْعَالِيَةِ - قَالَ أَنْبَأَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاَثِينَ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ( رمضان کا چاند ) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ کر روزہ بند کرو، ( اور ) اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 35
سنن نسائی 2125 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ عَجِبْتُ مِمَّنْ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاَثِينَ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں مجھے حیرت ہوتی ہے اس شخص پر جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے ( ہی ) روزہ رکھنے لگتا ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، ( اسی طرح ) جب ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، ( اور ) جب تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 36
سنن نسائی 2126 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ قَبْلَهُ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ قَبْلَهُ ‏"‏ ‏.‏

حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو ۱؎ یہاں تک کہ ( روزہ رکھنے سے ) پہلے چاند دیکھ لو، یا ( شعبان کی ) تیس کی تعداد پوری کر لو، پھر روزہ رکھو، یہاں تک کہ ( عید الفطر کا ) چاند دیکھ لو، یا اس سے پہلے رمضان کی تیس کی تعداد پوری کر لو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 37
سنن نسائی 2127 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ بَعْضِ، أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ أَوْ تَرَوُا الْهِلاَلَ ثُمَّ صُومُوا وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاَثِينَ ‏"‏ ‏.‏ أَرْسَلَهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ‏.‏

ایک صحابی رسول رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو یہاں تک کہ شعبان کی گنتی پوری کر لو، یا رمضان کا چاند دیکھ لو پھر روزہ رکھو، اور نہ روزہ بند کرو یہاں تک کہ تم عید الفطر کا چاند دیکھ لو، یا رمضان کی تیس ( دن ) کی گنتی پوری کر لو“۔ حجاج بن ارطاۃ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 38
سنن نسائی 2128 Sahih Lighairihi Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا شَعْبَانَ ثَلاَثِينَ إِلاَّ أَنْ تَرَوُا الْهِلاَلَ قَبْلَ ذَلِكَ ثُمَّ صُومُوا رَمَضَانَ ثَلاَثِينَ إِلاَّ أَنْ تَرَوُا الْهِلاَلَ قَبْلَ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏

ربعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو، ( اور ) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو شعبان کے تیس دن پورے کرو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو، پھر رمضان کے تیس روزے رکھو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 39
سنن نسائی 2129 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابٌ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلاَ تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالاً ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ( رمضان کے چاند کو ) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے ( یعنی عید الفطر کے چاند کو ) دیکھ کر روزہ بند کرو، ( اور ) اگر تمہارے اور اس کے بیچ بدلی حائل ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو، اور ( ایک یا دو دن پہلے سے رمضان کے ) مہینہ کا استقبال نہ کرو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 40
سنن نسائی 2130 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ صُومُوا لِلرُّؤْيَةِ وَأَفْطِرُوا لِلرُّؤْيَةِ فَإِنْ حَالَتْ دُونَهُ غَيَايَةٌ فَأَكْمِلُوا ثَلاَثِينَ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے پہلے روزہ مت رکھو، چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور ( چاند ) دیکھ کر ( روزہ ) بند کرو، ( پس ) اگر چاند سے ورے بادل حائل ہو جائے تو تیس ( دن ) پورے کرو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 41
سنن نسائی 2131 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَقُلْتُ أَلَيْسَ قَدْ كُنْتَ آلَيْتَ شَهْرًا فَعَدَدْتُ الأَيَّامَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک ماہ ( تک ) اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، چنانچہ آپ انتیس دن ٹھہرے رہے، تو میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ایک مہینے کی قسم نہیں کھائی تھی؟ میں نے شمار کیا ہے، ابھی انتیس دن ( ہوئے ) ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 42
سنن نسائی 2132 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، حَدَّثَهُ ح، وَأَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ لَهُمَا ‏{‏ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ‏}‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ فَاعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ حِينَ أَفْشَتْهُ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ قَالَ ‏"‏ مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا ‏"‏ ‏.‏ مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حِينَ حَدَّثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَدِيثَهُنَّ فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَبَدَأَ بِهَا فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ إِنَّكَ قَدْ كُنْتَ آلَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّا أَصْبَحْنَا مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً نَعُدُّهَا عَدَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں مجھے برابر اس بات کا اشتیاق رہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «إن تتوبا إلى اللہ فقد صغت قلوبكما» ”اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لو ( تو بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں“ ( التحریم: ۴ ) میں کیا ہے، پھر پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے انتیس راتوں تک اس بات کی وجہ سے جو حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ظاہر کر دی تھی کنارہ کشی اختیار کر لی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ نے اپنی اس ناراضگی کی وجہ سے جو آپ کو اپنی عورتوں سے اس وقت ہوئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے ان کی بات آپ کو بتلائی یہ کہہ دیا تھا کہ میں ان کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا، تو جب انتیس راتیں گزر گئیں تو آپ سب سے پہلے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو ایک مہینے تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی، اور ہم نے ( ابھی ) انتیسویں رات کی ( ہی ) صبح کی ہے، ہم ایک ایک کر کے اسے گن رہے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 43
سنن نسائی 2133 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، - هُوَ أَبُو بُرَيْدٍ الْجَرْمِيُّ بَصْرِيٌّ - عَنْ بَهْزٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 44
سنن نسائی 2134 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَذَكَرَ، كَلِمَةً مَعْنَاهَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 45
سنن نسائی 2135 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الأُخْرَى وَقَالَ ‏ "‏ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَنَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا ‏.‏

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ( ایک ) ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے“، اور تیسری بار میں ایک انگلی دبا لی ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 46
سنن نسائی 2136 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي تِسْعَةً وَعِشْرِينَ ‏.‏ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے“، یعنی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اسے یحییٰ بن سعید وغیرہ نے اسماعیل سے، انہوں نے محمد بن سعد بن ابی وقاص سے، اور محمد بن سعد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 47
سنن نسائی 2137 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَصَفَّقَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ بِيَدَيْهِ يَنْعَتُهَا ثَلاَثًا ثُمَّ قَبَضَ فِي الثَّالِثَةِ الإِبْهَامَ فِي الْيُسْرَى ‏.‏ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قُلْتُ لإِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لاَ ‏.‏

محمد بن سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے“۔ اور محمد بن عبید نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار ملا کر بتلایا، پھر تیسری بار میں بائیں ہاتھ کا انگوٹھا بند کر لیا، یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے اسماعیل بن ابی خالد سے «عن أبیہ» کی زیادتی کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: نہیں۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 48
سنن نسائی 2138 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا هَارُونُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، - هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ وَيَكُونُ ثَلاَثِينَ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ ( کبھی ) انتیس دن کا ہوتا ہے، اور ( کبھی ) تیس دن کا، اور جب تم ( چاند ) دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، ( اور ) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو ( تیس کی ) گنتی پوری کرو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 49
سنن نسائی 2139 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، ح وَأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ، وَهُوَ - ابْنُ عُمَرَ - يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 50
سنن نسائی 2140 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لاَ نَكْتُبُ وَلاَ نَحْسِبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثًا حَتَّى ذَكَرَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم «اُمّی» لوگ ہیں، نہ ہم لکھتے پڑھتے ہیں اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے“، ( ایسا تین بار کیا ) یہاں تک کہ انتیس دن کا ذکر کیا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 51
سنن نسائی 2141 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لاَ نَحْسِبُ وَلاَ نَكْتُبُ وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَعَقَدَ الإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ ‏"‏ وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ تَمَامَ الثَّلاَثِينَ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا: ”ہم «اُمّی» لوگ ہیں، نہ تو ہم لکھتے ہیں، اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے“، اور تیسری بار انگوٹھا بند کر لیا، ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے، پورے تیس دن“ ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 52
سنن نسائی 2142 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الشَّهْرُ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَوَصَفَ شُعْبَةُ عَنْ صِفَةِ جَبَلَةَ عَنْ صِفَةِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فِيمَا حَكَى مِنْ صَنِيعِهِ مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ وَنَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا مِنْ أَصَابِعِ يَدَيْهِ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے“۔ شعبہ نے جبلہ سے نقل کیا، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ مہینہ انتیس دن کا ( بھی ) ہوتا ہے، اس طرح کہ انہوں نے دو بار اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کیا، اور تیسری بار ایک انگلی دبا لی۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 53
سنن نسائی 2143 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ، - يَعْنِي ابْنَ حُرَيْثٍ - قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 54
سنن نسائی 2144 Hasan Sahih Hasan Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً ‏"‏ ‏.‏ وَقَفَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ‏.‏

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔ عبیداللہ بن سعید نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 55
سنن نسائی 2145 Daif Hasan

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ تَسَحَّرُوا ‏.‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ لاَ أَدْرِي كَيْفَ لَفْظُهُ ‏.‏

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں سحری کھاؤ۔ عبیداللہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس کے الفاظ کیا تھے؟

حوالہ: کتاب 22, حدیث 56
سنن نسائی 2146 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً ‏"‏ ‏.‏

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 57
سنن نسائی 2147 Sahih Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَرِيرٍ، - نَسَائِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 58
سنن نسائی 2148 Sahih Sahih Muquf Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً ‏.‏ رَفَعَهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 59
سنن نسائی 2149 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 60
سنن نسائی 2150 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 61
سنن نسائی 2151 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ هَذَا إِسْنَادُهُ حَسَنٌ وَهُوَ مُنْكَرٌ وَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ الْغَلَطُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی اس حدیث کی سند تو حسن ہے، مگر یہ منکر ہے، اور مجھے محمد بن فضیل کی طرف سے غلطی کا اندیشہ ہے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 62
سنن نسائی 2152 Hasan Isnaad Hasan Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ أَىَّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ هُوَ النَّهَارُ إِلاَّ أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ ‏.‏

زر حبیش کہتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کس وقت سحری کھائی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ( تقریباً ) دن ۱؎ مگر سورج ۲؎ نکلا نہیں تھا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 63
سنن نسائی 2153 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، قَالَ سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، قَالَ تَسَحَّرْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلاَةِ فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا إِلاَّ هُنَيْهَةٌ ‏.‏

زر بن حبیش کہتے ہیں میں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے نکلے، تو جب ہم مسجد پہنچے تو دو رکعت سنت پڑھی ہی تھی کہ نماز شروع ہو گئی، اور ان دونوں کے درمیان ذرا سا ہی وقفہ رہا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 64
سنن نسائی 2154 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ تَسَحَّرْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّيْنَا ‏.‏

صلہ بن زفر کہتے ہیں: میں نے حذیفہ رضی الله عنہ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم مسجد کی طرف نکلے، اور ہم نے فجر کی دونوں رکعتیں پڑھیں، ( اتنے میں ) نماز کھڑی کر دی گئی تو ہم نے نماز پڑھی۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 65
سنن نسائی 2155 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلاَةِ ‏.‏ قُلْتُ كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا قَالَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً ‏.‏

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم اٹھ کر نماز کے لیے گئے، انس کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا ( وقفہ ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 66
سنن نسائی 2156 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلاَةِ ‏.‏ قُلْتُ زُعِمَ أَنَّ أَنَسًا الْقَائِلُ مَا كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَالَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً ‏.‏

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، میں نے پوچھا ( کہا جاتا کہ «قلت» کا قائل انس ہیں ۱؎ ) : ان دونوں کے درمیان کتنا ( وقفہ ) تھا؟ انہوں نے کہا: اس قدر کہ جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 67
سنن نسائی 2157 Sahih Sahih Sahih Bukhari

أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه قَالَ تَسَحَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ثُمَّ قَامَا فَدَخَلاَ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ ‏.‏ فَقُلْنَا لأَنَسٍ كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلاَةِ قَالَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ الإِنْسَانُ خَمْسِينَ آيَةً ‏.‏

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن ثابت نے سحری کھائی، پھر وہ دونوں اٹھے، اور جا کر نماز فجر پڑھنی شروع کر دی۔ قتادہ کہتے ہیں: ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ان دونوں کے ( سحری سے ) فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے میں کتنا ( وقفہ ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر کہ جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 68
سنن نسائی 2158 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ فِينَا رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ وَالآخَرُ يُؤَخِّرُ الإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ ‏.‏ قَالَتْ أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ قُلْتُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ‏.‏ قَالَتْ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ ‏.‏

ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں ان دونوں میں سے ایک افطار میں جلدی کرتا ہے، اور سحری میں تاخیر، اور دوسرا افطار میں تاخیر کرتا ہے، اور سحری میں جلدی، انہوں نے پوچھا: ان دونوں میں کون ہے جو افطار میں جلدی کرتا ہے، اور سحری میں تاخیر؟ میں نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، اس پر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 69
سنن نسائی 2159 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ فِينَا رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ وَالآخَرُ يُؤَخِّرُ الْفِطْرَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ ‏.‏ قَالَتْ أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ قُلْتُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ‏.‏ قَالَتْ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ ‏.‏

ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہم میں دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطار جلدی اور سحری تاخیر سے کرتے ہیں، اور دوسرے افطار تاخیر سے کرتے ہیں اور سحری جلدی، انہوں نے پوچھا: کون ہیں جو افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 70
سنن نسائی 2160 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كِلاَهُمَا لاَ يَأْلُو عَنِ الْخَيْرِ أَحَدُهُمَا يُؤَخِّرُ الصَّلاَةَ وَالْفِطْرَ وَالآخَرُ يُعَجِّلُ الصَّلاَةَ وَالْفِطْرَ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الصَّلاَةَ وَالْفِطْرَ قَالَ مَسْرُوقٌ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ هَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، مسروق نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخص ہیں، یہ دونوں نیک کام میں کوتاہی نہیں کرتے، ( لیکن ) ان میں سے ایک نماز اور افطار دونوں میں تاخیر کرتے ہیں، اور دوسرے نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کون ہیں جو نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں؟ مسروق نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے ہیں۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 71
سنن نسائی 2161 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْنَا لَهَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلاَةَ وَالآخَرُ يُؤَخِّرُ الإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلاَةَ ‏.‏ فَقَالَتْ أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلاَةَ قُلْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ‏.‏ قَالَتْ هَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَالآخَرُ أَبُو مُوسَى رضى الله عنهما ‏.‏

ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ہم نے ان سے کہا: ام المؤمنین! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک افطار میں جلدی کرتے ہیں اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں، اور دوسرے افطار میں تاخیر کرتے ہیں اور نماز میں بھی تاخیر کرتے ہیں، انہوں نے پوچھا: کون ہیں جو افطار میں جلدی کرتے اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ ( دوسرے شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔)

حوالہ: کتاب 22, حدیث 72
سنن نسائی 2162 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ، يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَتَسَحَّرُ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهَا بَرَكَةٌ أَعْطَاكُمُ اللَّهُ إِيَّاهَا فَلاَ تَدَعُوهُ ‏"‏ ‏.‏

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ اس وقت سحری کھا رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”یہ برکت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہے تو تم اسے مت چھوڑو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 73
سنن نسائی 2163 Sahih Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، - بَصْرِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَدْعُو إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَقَالَ ‏ "‏ هَلُمُّوا إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ ‏"‏ ‏.‏

عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ رمضان کے مہینہ میں سحری کھانے کے لیے بلا رہے تھے، اور فرما رہے تھے: ”آؤ صبح کے مبارک کھانے پر“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 74
سنن نسائی 2164 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ أَخْبَرَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ عَلَيْكُمْ بِغَدَاءِ السُّحُورِ فَإِنَّهُ هُوَ الْغَدَاءُ الْمُبَارَكُ ‏"‏ ‏.‏

مقدام بن معد یکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبح کا کھانا ( سحری کو ) لازم پکڑو، کیونکہ یہ مبارک کھانا ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 75
سنن نسائی 2165 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِرَجُلٍ ‏ "‏ هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي السَّحُورَ ‏.‏

(تابعی) خالد بن معدان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”صبح کے مبارک کھانے یعنی سحری کے لیے آؤ“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 76
سنن نسائی 2166 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ فَصْلَ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السُّحُورِ ‏"‏ ‏.‏

عمرو بن العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اور اہل کتاب کے صیام میں جو فرق ہے، ( وہ ہے ) سحری کھانا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 77
سنن نسائی 2167 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Daif

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَلِكَ عِنْدَ السُّحُورِ ‏"‏ يَا أَنَسُ إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ أَطْعِمْنِي شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَيْتُهُ بِتَمْرٍ وَإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَذَّنَ بِلاَلٌ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَنَسُ انْظُرْ رَجُلاً يَأْكُلُ مَعِي ‏"‏ ‏.‏ فَدَعَوْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَجَاءَ فَقَالَ إِنِّي قَدْ شَرِبْتُ شَرْبَةَ سَوِيقٍ وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ ‏"‏ ‏.‏ فَتَسَحَّرَ مَعَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ ‏.‏

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے وقت فرمایا: ”اے انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کچھ کھلاؤ“، تو میں کچھ کھجور اور ایک برتن میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، اور یہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان دینے کے بعد کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انس! کسی اور شخص کو تلاش کرو جو میرے ساتھ ( سحری ) کھائے“، تو میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا، چنانچہ وہ آئے ( اور ) کہنے لگے: میں نے ستو کا ایک گھونٹ پی لیا ہے، اور میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ( بھی ) روزہ رکھنا چاہتا ہوں“، ( پھر ) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ سحری کھائی، پھر آپ اٹھے، اور ( فجر کی ) دو رکعت ( سنت ) پڑھی، پھر آپ فرض نماز کے لیے نکل گئے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 78
سنن نسائی 2168 Sahih Sahih Sahih Bukhari

أَخْبَرَنِي هِلاَلُ بْنُ الْعَلاَءِ بْنِ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ أَحَدَهُمْ، كَانَ إِذَا نَامَ قَبْلَ أَنْ يَتَعَشَّى لَمْ يَحِلَّ لَهُ أَنْ يَأْكُلَ شَيْئًا وَلاَ يَشْرَبَ لَيْلَتَهُ وَيَوْمَهُ مِنَ الْغَدِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا ‏}‏ إِلَى ‏{‏ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ ‏}‏ قَالَ وَنَزَلَتْ فِي أَبِي قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو أَتَى أَهْلَهُ وَهُوَ صَائِمٌ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَقَالَ هَلْ مِنْ شَىْءٍ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ مَا عِنْدَنَا شَىْءٌ وَلَكِنْ أَخْرُجُ أَلْتَمِسُ لَكَ عَشَاءً ‏.‏ فَخَرَجَتْ وَوَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِ فَوَجَدَتْهُ نَائِمًا وَأَيْقَظَتْهُ فَلَمْ يَطْعَمْ شَيْئًا وَبَاتَ وَأَصْبَحَ صَائِمًا حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ فَغُشِيَ عَلَيْهِ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ هَذِهِ الآيَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ ‏.‏

براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان میں سے کوئی جب شام کا کھانا کھانے سے پہلے سو جاتا تو رات بھر اور دوسرے دن سورج ڈوبنے تک اس کے لیے کھانا پینا جائز نہ ہوتا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «‏‏‏‏وكلوا واشربوا‏» سے لے کر «الخيط الأسود‏» ”تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سیاہ دھاری سے سفید دھاری نظر آنے لگے“ تک نازل ہوئی، یہ آیت ابوقیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی، ( ہوا یہ کہ ) وہ مغرب بعد اپنے گھر آئے، وہ روزے سے تھے، انہوں نے ( گھر والوں سے ) پوچھا: کچھ کھانا ہے؟ ان کی بیوی نے کہا: ہمارے پاس تو کچھ ( بھی ) نہیں ہے، لیکن میں جا کر آپ کے لیے رات کا کھانا ڈھونڈ کر لاتی ہوں، چنانچہ وہ نکل گئی، اور یہ اپنا سر رکھ کر سو گئے، وہ لوٹ کر آئی تو انہیں سویا ہوا پایا، ( تو ) انہیں جگایا ( لیکن ) انہوں نے کچھ ( بھی ) نہیں کھایا، اور ( اسی حال میں ) رات گزار دی، اور روزے ہی کی حالت ) میں صبح کی یہاں تک کہ دوپہر ہوئی، تو ان پر غشی طاری ہو گئی، یہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) انہیں کے سلسلہ میں اتاری۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 79
سنن نسائی 2169 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ ‏}‏ قَالَ ‏"‏ هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ ‏"‏ ‏.‏

عدی بن حاتم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت کریمہ: «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود‏» کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «خيط الأسود» ( سیاہ دھاری ) رات کی تاریکی ہے، ( اور «خيط الأسود» سفید دھاری ) دن کا اجالا ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 80
سنن نسائی 2170 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ وَيُرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَأَشَارَ بِكَفِّهِ ‏"‏ وَلَكِنِ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَتَيْنِ ‏.‏

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں، تاکہ وہ تم میں سونے والوں کو ہوشیار کر دیں، ( تہجد پڑھنے یا سحری کھانے کے لیے ) اور تہجد پڑھنے والوں کو ( گھر ) لوٹا دیں، اور فجر اس طرح ظاہر نہیں ہوتی“، انہوں اپنی ہتھیلی سے اشارہ کیا، ”بلکہ فجر اس طرح ظاہر ہوتی ہے“ انہوں نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں سے اشارہ کیا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 81
سنن نسائی 2171 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنَا سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ، قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ وَلاَ هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي مُعْتَرِضًا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَبَسَطَ بِيَدَيْهِ يَمِينًا وَشِمَالاً مَادًّا يَدَيْهِ ‏.‏

سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال کی اذان تمہیں ہرگز دھوکہ میں نہ ڈالے، اور نہ یہ سفیدی یہاں تک کہ فجر کی روشنی اس طرح اور اس طرح“، یعنی چوڑائی میں پھوٹ پڑے۔ ابوداؤد ( طیالسی ) کہتے ہیں: ( شعبہ ) نے اپنے دونوں ہاتھ دائیں بائیں بڑھا کر پھیلائے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 82
سنن نسائی 2172 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَقَدَّمُوا قَبْلَ الشَّهْرِ بِصِيَامٍ إِلاَّ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صِيَامًا أَتَى ذَلِكَ الْيَوْمُ عَلَى صِيَامِهِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کا مہینہ ( شروع ہونے ) سے پہلے تم روزہ نہ رکھو، سوائے اس آدمی کے جو کسی خاص دن روزہ رکھتا ہو، اور ( اتفاق سے ) وہ دن رمضان کے روزہ سے پہلے آ پڑے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 83
سنن نسائی 2173 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدٌ الشَّهْرَ بِيَوْمٍ وَلاَ يَوْمَيْنِ إِلاَّ أَحَدٌ كَانَ يَصُومُ صِيَامًا قَبْلَهُ فَلْيَصُمْهُ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماہ رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے کوئی روزہ نہ رکھے، البتہ جو اس سے پہلے ( اس دن ) روزہ رکھتا رہا ہو تو وہ رکھے“ ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 84
سنن نسائی 2174 Hasan Sahih Hasan Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَتَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِصِيَامِ يَوْمٍ وَلاَ يَوْمَيْنِ إِلاَّ أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ يَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( رمضان ) سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ مت رکھو، البتہ سوائے اس کے کہ یہ اس دن آ پڑے جس دن تم میں کا کوئی ( پہلے سے ) روزہ رکھتا رہا ہو“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ سند غلط ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 85
سنن نسائی 2175 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ ‏.‏

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی لگاتار دو مہینہ روزے رکھتے نہیں دیکھا، البتہ آپ شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 86
سنن نسائی 2176 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ ‏.‏

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 87
سنن نسائی 2177 Hasan Sahih Hasan Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يَصُومُ وَكَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ أَوْ عَامَّةَ شَعْبَانَ ‏.‏

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( پے در پے اتنے ) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ روزہ رکھنا بند نہیں کریں گے، اور ( پھر ) اتنے دنوں تک بغیر روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ روزے نہیں رکھیں گے، اور آپ ( پورے ) شعبان میں یا شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 88
سنن نسائی 2178 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ الْهَادِ، حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَ حَتَّى يَدْخُلَ شَعْبَانُ وَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ فِي شَهْرٍ مَا يَصُومُ فِي شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ إِلاَّ قَلِيلاً بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں ہم ( ازواج مطہرات ) میں سے کوئی رمضان میں ( حیض کی وجہ سے ) روزہ نہیں رکھتی تو اس کی قضاء نہیں کر پاتی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے جتنا شعبان میں رکھتے تھے، آپ چند دن چھوڑ کر پورے ماہ روزے رکھتے، بلکہ ( بسا اوقات ) پورے ( ہی ) ماہ روزے رکھتے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 89
سنن نسائی 2179 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَخْبِرِينِي عَنْ صِيَامِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَلَمْ يَكُنْ يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلاَّ قَلِيلاً كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ ‏.‏

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں بتائیے؟ تو انہوں نے کہا: آپ ( اس تسلسل سے ) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے اب آپ روزے ہی رکھتے رہیں گے، اور آپ ( اس تسلسل سے ) بلا روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ بغیر روزے ہی کے رہیں گے، آپ کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے، سوائے چند دنوں چھوڑ کے آپ پورے شعبان ہی روزے رکھتے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 90
سنن نسائی 2180 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، آپ ( تقریباً ) پورے شعبان ہی روزے رکھتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 91
سنن نسائی 2181 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَعْبَانَ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں روزہ رکھتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 92
سنن نسائی 2182 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لاَ أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلاَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ وَلاَ صَامَ شَهْرًا كَامِلاً قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک ہی رات میں سارا قرآن پڑھا ہو، یا پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، یا رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 93
سنن نسائی 2183 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي يُوسُفَ الصَّيْدَلاَنِيُّ، - حَرَّانِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ سَأَلْتُهَا عَنْ صِيَامِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ أَتَى الْمَدِينَةَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ رَمَضَانُ ‏.‏

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا: ( تو ) انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس تسلسل سے ) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ روزے ( ہی ) رکھتے رہیں گے، اور ( کبھی آپ اس تسلسل سے ) بغیر روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ بغیر روزے کے رہیں گے، اور آپ جب سے مدینہ آئے کبھی آپ نے پورے مہینے روزے نہیں رکھے سوائے اس کے کہ وہ رمضان ہو۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 94
سنن نسائی 2184 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي صَلاَةَ الضُّحَى قَالَتْ لاَ إِلاَّ أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ ‏.‏ قُلْتُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ قَالَتْ لاَ مَا عَلِمْتُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلاَّ رَمَضَانَ وَلاَ أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ ‏.‏

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے ( لوٹ کر ) آتے، ( پھر ) میں نے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پورے ماہ روزے رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نہیں جانتی کہ آپ نے رمضان کے علاوہ کبھی پورے ماہ کے روزے رکھے ہوں، اور اور نہ ایسا ہی ہوتا کہ آپ پورے ماہ بغیر روزے کے رہے ہوں، کچھ نہ کچھ روزے ضرور رکھتے یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 95
سنن نسائی 2185 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي صَلاَةَ الضُّحَى قَالَتْ لاَ إِلاَّ أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ ‏.‏ قُلْتُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهُ صَوْمٌ مَعْلُومٌ سِوَى رَمَضَانَ قَالَتْ وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ وَلاَ أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ ‏.‏

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے ( لوٹ کر ) آتے، پھر میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان کے علاوہ کوئی متعین روزہ تھا؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم آپ نے سوائے رمضان کے کسی خاص مہینے کے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ آپ نے وفات پا لی، اور نہ ہی پورے ماہ بغیر روزے کے رہے، کچھ نہ کچھ روزے اس میں ضرور رکھتے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 96
سنن نسائی 2186 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ الصِّيَامِ، فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ وَيَتَحَرَّى صِيَامَ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ ‏.‏

جبیر بن نفیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزوں کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے، اور دو شنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے روزے کا اہتمام فرماتے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 97
سنن نسائی 2187 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَوْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ وَيَتَحَرَّى الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان اور رمضان میں روزے رکھتے، اور پیر اور جمعرات کے روزے کا خاص خیال رکھتے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 98
سنن نسائی 2188 Sahih Sahih Daif

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ فَقَالَ كُلُوا ‏.‏ فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ قَالَ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ فَقَالَ عَمَّارٌ مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

صلہ بن زفر کہتے ہیں: ہم عمار رضی الله عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی، تو انہوں نے کہا: آؤ تم لوگ بھی کھاؤ، تو لوگوں میں سے ایک شخص الگ ہٹ گیا، اور اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے شک والے دن روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 99
سنن نسائی 2189 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي يَوْمٍ قَدْ أُشْكِلَ مِنْ رَمَضَانَ هُوَ أَمْ مِنْ شَعْبَانَ وَهُوَ يَأْكُلُ خُبْزًا وَبَقْلاً وَلَبَنًا فَقَالَ لِي هَلُمَّ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ وَحَلَفَ بِاللَّهِ لَتُفْطِرَنَّ قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ يَحْلِفُ لاَ يَسْتَثْنِي تَقَدَّمْتُ قُلْتُ هَاتِ الآنَ مَا عِنْدَكَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابَةٌ أَوْ ظُلْمَةٌ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ عِدَّةَ شَعْبَانَ وَلاَ تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالاً وَلاَ تَصِلُوا رَمَضَانَ بِيَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ ‏"‏ ‏.‏

سماک کہتے ہیں: میں عکرمہ کے پاس ایک ایسے دن میں آیا جس کے بارے میں شک تھا کہ یہ رمضان کا ہے یا شعبان کا، وہ روٹی سبزی، اور دودھ کھا رہے تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: آؤ کھاؤ، تو میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ضرور روزہ توڑو گے، تو میں نے دو مرتبہ سبحان اللہ کہا، اور جب میں نے دیکھا کہ وہ قسم پہ قسم کھائے جا رہے ہیں اور ان شاءاللہ نہیں کہہ رہے ہیں تو میں آگے بڑھا، اور میں نے کہا: اب لائیے جو آپ کے پاس ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”روزہ رکھو ( چاند ) دیکھ کر، اور افطار کرو ( چاند ) دیکھ کر، اور اگر تمہارے اور چاند کے بیچ کوئی بدلی یا سیاہی حائل ہو جائے تو شعبان کی تیس کی گنتی پوری کرو، اور ایک دن پہلے روزہ رکھ کر مہینے کا استقبال مت کرو، اور نہ رمضان کو شعبان کے کسی دن سے ملاؤ“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 100
سنن نسائی 2190 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، وَابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ أَلاَ لاَ تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِيَوْمٍ أَوِ اثْنَيْنِ إِلاَّ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صِيَامًا فَلْيَصُمْهُ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: ”سنو! رمضان کے مہینہ سے ایک یا دو روز پہلے روزہ مت رکھو، البتہ جو شخص پہلے سے روزہ رکھتا رہا ہو تو وہ رکھے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 101
سنن نسائی 2191 Sahih Lighairihi Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قَالَ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏

(تابعی) سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ( رات کو ) ایمان کے ساتھ اور ثواب چاہنے کے لیے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 102
سنن نسائی 2192 Hasan Sahih Hasan Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُرَغِّبُ النَّاسَ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةِ أَمْرٍ فِيهِ فَيَقُولُ ‏ "‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بغیر کوئی تاکیدی حکم دئیے رمضان ( کی راتوں میں ) قیام کی ترغیب دیتے، آپ فرماتے: ”جس نے رمضان میں ( رات کو ) ایمان کے ساتھ اور ثواب چاہنے کے لیے قیام کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 103
سنن نسائی 2193 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يُونُسَ الأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَتْ فَكَانَ يُرَغِّبُهُمْ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ وَيَقُولُ ‏ "‏ مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کو نکلے، اور آپ نے مسجد میں نماز پڑھائی۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں یہ بھی تھا کہ انہوں نے کہا: ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بغیر کوئی تاکیدی حکم دیئے رمضان ( کی راتوں میں ) قیام یعنی صلاۃ تراویح پڑھنے کی ترغیب دیتے، اور فرماتے: ”جس نے شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب چاہنے کے لیے قیام کیا، یعنی صلاۃ تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے، اور معاملہ اسی پر قائم رہا ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 104
سنن نسائی 2194 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي رَمَضَانَ ‏ "‏ مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے بارے میں فرماتے سنا: ”جس نے اس میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کیا، یعنی صلاۃ تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 105
سنن نسائی 2195 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرَغِّبُهُمْ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةِ أَمْرٍ فِيهِ فَيَقُولُ ‏ "‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کو نکلے تو مسجد میں نماز پڑھی۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بغیر تاکیدی حکم دیئے رمضان میں قیام اللیل کرنے یعنی تہجد پڑھنے کی ترغیب دلاتے تھے، اور فرماتے تھے: ”جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام اللیل کیا یعنی تراویح پڑھی تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 106
سنن نسائی 2196 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِرَمَضَانَ ‏ "‏ مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے متعلق فرماتے سنا: ”جس نے اس میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام اللیل کی، یعنی تہجد پڑھی تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 107
سنن نسائی 2197 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا یعنی تہجد پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 108
سنن نسائی 2198 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بغیر کوئی تاکیدی حکم دئیے، رمضان میں قیام اللیل کی ترغیب دلاتے تھے، ( اور ) فرماتے: ”جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام اللیل کی، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 109
سنن نسائی 2199 Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏

حوالہ: کتاب 22, حدیث 110
سنن نسائی 2200 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 111
سنن نسائی 2201 Sahih Sahih

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏

حوالہ: کتاب 22, حدیث 112
سنن نسائی 2202 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ قَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں روزے رکھے، ( اور قتیبہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے مہینہ میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، اس کے ( بھی ) پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 113
سنن نسائی 2203 Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھا تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 114
سنن نسائی 2204 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھا، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 115
سنن نسائی 2205 Sahih Sahih Sahih Bukhari

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھا، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 116
سنن نسائی 2206 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الأَشْعَثِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالُوا حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کرے گا، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کرے گا اس کے ( بھی ) پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 117
سنن نسائی 2207 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَرْوَانَ، أَنْبَأَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلاَّمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے مہینہ میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے، اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے ( عبادت پر ) کمربستہ ہو گا اس کے ( بھی ) پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 118
سنن نسائی 2208 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ، أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ لَهُ حَدِّثْنِي بِأَفْضَلِ، شَىْءٍ سَمِعْتَهُ يُذْكَرُ، فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ذَكَرَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَفَضَّلَهُ عَلَى الشُّهُورِ وَقَالَ ‏ "‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏

نصر بن علی کہتے ہیں: مجھ سے نضر بن شیبان نے بیان کیا کہ وہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ملے، تو ان سے انہوں نے کہا: آپ نے ماہ رمضان کے سلسلے میں جو سب سے افضل قابل ذکر چیز سنی ہوا سے بیان کیجئے تو ابوسلمہ نے کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ آپ نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو اسے تمام مہینوں میں افضل قرار دیا اور فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے ہی نکل جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ غلط ہے «أبوسلمة حدثني عبدالرحمٰن» کے بجائے صحیح «أبوسلمة عن أبي هريرة» ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 119
سنن نسائی 2209 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَقَالَ ‏ "‏ مَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ‏"‏ ‏.‏

اس سند سے بھی ابوسلمہ سے اسی کے مثل حدیث مروی ہے اس میں «من صامه وقامه إيمانا واحتسابا» ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 120
سنن نسائی 2210 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِّثْنِي بِشَىْءٍ، سَمِعْتَهُ مِنْ، أَبِيكَ سَمِعَهُ أَبُوكَ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ بَيْنَ أَبِيكَ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَدٌ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَضَ صِيَامَ رَمَضَانَ عَلَيْكُمْ وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ‏"‏ ‏.‏

نضر بن شیبان کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے کہا کہ آپ مجھ سے ماہ رمضان کے متعلق کوئی ایسی بات بیان کریں جو آپ نے اپنے والد ( عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ) سے سنی ہو، اور اسے آپ کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ہو، آپ کے والد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیچ کوئی اور حائل نہ ہو۔ انہوں نے کہا: اچھا سنو! مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر رمضان کے روزے فرض کیے ہیں، اور میں نے تمہارے لیے اس میں قیام کرنے کو سنت قرار دیا ہے اس میں جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھے گا اور ( عبادت پر ) کمربستہ ہو گا تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 121
سنن نسائی 2211 Sahih Lighairihi Sahih Sahih

أَخْبَرَنِي هِلاَلُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ حِينَ يُفْطِرُ وَحِينَ يَلْقَى رَبَّهُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏

علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کہتا ہے: روزہ میرے لیے ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک جس وقت وہ روزہ کھولتا ہے، اور دوسری جس وقت وہ اپنے رب سے ملے گا، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 122
سنن نسائی 2212 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Mauquf Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عزوجل فرماتا ہے: روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک وقت وہ اپنے رب سے ملے گا، اور دوسری خوشی وہ جو اسے روزہ کھولنے کے وقت حاصل ہوتی ہے۔ اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 123
سنن نسائی 2213 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ، ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کہتا ہے: روزہ میرے لیے ہے۔ اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک جب وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے، اور ( دوسری ) جب وہ ( قیامت میں ) اللہ سے ملے گا اور وہ اسے بدلہ دے گا تو وہ خوش ہو گا، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 124
سنن نسائی 2214 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ الْمُنْذِرَ بْنَ عُبَيْدٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالصَّائِمُ يَفْرَحُ مَرَّتَيْنِ عِنْدَ فِطْرِهِ وَيَوْمَ يَلْقَى اللَّهَ وَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ) روزہ میرے لیے ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، روزہ دار دو بار خوش ہوتا ہے: ایک اپنے روزے کو کھولنے کے وقت، اور دوسرے جس دن وہ اللہ سے ملے گا، اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے یہاں مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 125
سنن نسائی 2215 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ حَسَنَةٍ عَمِلَهَا ابْنُ آدَمَ إِلاَّ كُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلاَّ الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي الصِّيَامُ جُنَّةٌ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم جو بھی نیکی کرتا ہے ان اس کے لیے دس سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا کر لکھی جاتی ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، وہ اپنی شہوت اور اپنا کھانا پینا میری خاطر چھوڑتا ہے، روزہ ڈھال ہے، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اسے اپنے افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اسے اپنے رب سے ملنے کے وقت حاصل ہو گی، اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے زیادہ پاکیزہ ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 126
سنن نسائی 2216 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلاَّ الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ إِذَا كَانَ يَوْمُ صِيَامِ أَحَدِكُمْ فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَصْخَبْ فَإِنْ شَاتَمَهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَرِحَ بِصَوْمِهِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، روزہ ڈھال ہے، جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو فحش گوئی نہ کرے، شور و شغب نہ کرے، اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے مار پیٹ کرے تو اس سے کہہ دے ( بھائی ) میں روزے سے ہوں، ( مار پیٹ گالی گلوچ کچھ نہیں کر سکتا ) اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے یہاں قیامت کے دن مشک کی بو سے زیادہ پاکیزہ ہو گی، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے: ایک جب وہ روزہ کھولتا ہے تو اپنے روزہ کھولنے سے خوش ہوتا ہے، اور دوسری جب وہ اپنے بزرگ و برتر رب سے ملے گا تو اپنے روزہ ( کا ثواب ) دیکھ کر خوش ہو گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 127
سنن نسائی 2217 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ الزَّيَّاتُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلاَّ الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَصْخَبْ فَإِنْ شَاتَمَهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اسی کے لیے ہوتا ہے سوائے روزے کے، وہ خالص میرے لیے ہے، اور میں خود ہی اسے اس کا بدلہ دوں گا، روزہ ڈھال ہے، تو جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو فحش اور لایعنی بات نہ کرے، اور نہ ہی شور و غل مچائے، اگر کوئی اس سے گالی گلوچ کرے یا اس کے ساتھ مار پیٹ کرے تو اس سے کہے: میں روزہ دار آدمی ہوں ( گالی گلوچ مار پیٹ نہیں کر سکتا ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بوسے زیادہ عمدہ ہے۔ یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سعید بن مسیب نے روایت کی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 128
سنن نسائی 2218 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْ��َرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلاَّ الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخِلْفَةُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آدمی کا ہر عمل اسی کے لیے ہے، سوائے روزہ کے وہ میرے لیے ہے، اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 129
سنن نسائی 2219 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا ابْنُ آدَمَ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلاَّ الصِّيَامَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) ہر وہ نیکی جسے آدمی کرتا ہے تو اسے اس کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہے، سوائے روزے کے، روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 130
سنن نسائی 2220 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، قَالَ أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ مُرْنِي بِأَمْرٍ آخُذُهُ عَنْكَ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لاَ مِثْلَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏

ابو امامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا حکم دیجئیے جسے میں آپ سے براہ راست اخذ کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اوپر روزہ لازم کر لو کیونکہ اس کے برابر کوئی ( عبادت ) نہیں ہے“ ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 131
سنن نسائی 2221 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِأَمْرٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ عَلَيْكَ بِالصِّيَامِ فَإِنَّهُ لاَ مِثْلَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏

ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسی چیز کا حکم دیجئیے جس سے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ پہنچائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس کے برابر کوئی ( عبادت ) نہیں ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 132
سنن نسائی 2222 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّعِيفُ، - شَيْخٌ صَالِحٌ وَالضَّعِيفُ لَقَبٌ لِكَثْرَةِ عِبَادَتِهِ - قَالَ أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ أَبِي نَصْرٍ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ ‏ "‏ عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لاَ عِدْلَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏

ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 133
سنن نسائی 2223 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، - هُوَ ابْنُ السَّكَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ - قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ الْهِلاَلِيِّ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِعَمَلٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لاَ عِدْلَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِعَمَلٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لاَ عِدْلَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏

ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کسی کام کا حکم فرمایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس جیسا کوئی ( عمل ) نہیں ہے“۔ میں نے ( پھر ) عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کسی کام کا حکم دیجئیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 134
سنن نسائی 2224 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ فِطْرٍ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الصَّوْمُ جُنَّةٌ ‏"‏ ‏.‏

معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 135
سنن نسائی 2225 Sahih Lighairihi Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، وَالْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الصَّوْمُ جُنَّةٌ ‏"‏ ‏.‏

معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے“ ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 136
سنن نسائی 2226 Sahih Lighairihi Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ النَّزَّالِ، يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الصَّوْمُ جُنَّةٌ ‏"‏ ‏.‏

معاذ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 137
سنن نسائی 2227 Daif

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ لِي الْحَكَمُ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ قَالَ الْحَكَمُ وَحَدَّثَنِي بِهِ مَيْمُونُ بْنُ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‏.‏

شعبہ کہتے ہیں کہ حکم نے مجھ سے کہا کہ میں نے یہ حدیث ان سے یعنی معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے چالیس سال پہلے سنی تھی، پھر حکم نے کہا نیز مجھ سے اسے میمون بن ابی شبیب نے بیان کیا انہوں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 138
سنن نسائی 2228 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الصِّيَامُ جُنَّةٌ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 139
سنن نسائی 2229 Sahih Sahih Hasan

وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قِرَاءَةً عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَطَاءٌ الزَّيَّاتُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الصِّيَامُ جُنَّةٌ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”روزہ ڈھال ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 140
سنن نسائی 2230 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ مُطَرِّفًا، - رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ - حَدَّثَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ دَعَا لَهُ بِلَبَنٍ لِيَسْقِيَهُ فَقَالَ مُطَرِّفٌ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ عُثْمَانُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الصِّيَامُ جُنَّةٌ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ ‏"‏ ‏.‏

بنی عامر بن صعصعہ کی اولاد میں سے مطرف نامی ایک شخص کہتے ہیں کہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے دودھ منگوایا تاکہ وہ انہیں پلائیں تو مطرف نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ تو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”روزہ ڈھال ہے جس طرح کہ لڑائی کے موقع پر تم میں سے کسی کے پاس ڈھال ہوتی ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 141
سنن نسائی 2231 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ فَدَعَا بِلَبَنٍ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ ‏"‏ ‏.‏

مطرف کہتے ہیں کہ میں عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے ( میری ضیافت کے لیے ) دودھ منگوایا، تو میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”روزہ آگ سے بچاؤ کے لیے کی ڈھال ہے جس طرح کہ تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں دشمن کے وار سے بچاؤ کے لیے ڈھال ہوتی ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 142
سنن نسائی 2232 - Hasan

أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ دَخَلَ مُطَرِّفٌ عَلَى عُثْمَانَ نَحْوَهُ مُرْسَلٌ ‏.‏

سعید بن ابی ہند کہتے ہیں کہ مطرف عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ آگے راوی نے اس طرح کی روایت بیان کی، یہ روایت مرسل ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 143
سنن نسائی 2233 Daif Daif Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ، قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا ‏"‏ ‏.‏

ابوعبیدہ عامر بن عبداللہ الجراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اسے ( جھوٹ و غیبت وغیرہ کے ذریعہ ) پھاڑ نہ دے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 144
سنن نسائی 2234 Sahih Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الآدَمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ فَمَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلاَ يَجْهَلْ يَوْمَئِذٍ وَإِنِ امْرُؤٌ جَهِلَ عَلَيْهِ فَلاَ يَشْتِمْهُ وَلاَ يَسُبَّهُ وَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے ڈھال ہے، جو شخص روزہ دار ہو کر صبح کرے تو وہ اس دن جہالت و نادانی کی کوئی بات نہ کرے، اور اگر کوئی شخص اس کے ساتھ جہالت و نادانی کی بات کرنے لگے تو اسے گالی نہ دے، برا بھلا نہ کہے۔ اس کے لیے مناسب ہو گا کہ وہ اس سے کہے، ( بھائی ) میں روزے سے ہوں، ( میں تم سے لڑائی جھگڑا نہیں کر سکتا ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 145
سنن نسائی 2235 Sahih Isnaad Maqtu Sahih Isnaad Maqtu Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ الصِّيَامُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا ‏.‏

ابوعبیدہ بن الجراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اسے پھاڑ نہ دے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 146
سنن نسائی 2236 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لِلصَّائِمِينَ بَابٌ فِي الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ لاَ يَدْخُلُ فِيهِ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ مَنْ دَخَلَ فِيهِ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏

سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کے لیے جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، روزہ دار کے سوا کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہو گا، اور جب آخری روزہ دار دروازہ کے اندر پہنچ جائے گا تو دروازہ بند کر دیا جائے گا، جو وہاں پہنچ جائے گا وہ پئے گا اور جو پئے گا، وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 147
سنن نسائی 2237 Sahih Isnaad Mauquf Sahih Isnaad Mauquf Hasan

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَهْلٌ، أَنَّ فِي الْجَنَّةِ، بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يُقَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الصَّائِمُونَ هَلْ لَكُمْ إِلَى الرَّيَّانِ مَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يَدْخُلْ فِيهِ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ‏.‏

سہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن پکار کر کہا جائے گا، روزہ دارو! کہاں ہو؟ کیا تمہیں ریان کی طرف آنے کی رغبت ہے؟ جو شخص اس میں داخل ہو گا، اور ( اس کے چشمے ( ریان ) کا پانی پئے گا ) وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا، جب وہ داخل ہو جائیں گے تو وہ بند کر دیا جائے گا۔ اس دروازے سے روزہ دار کے سوا کوئی اور داخل نہ ہو گا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 148
سنن نسائی 2238 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَيُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ يُدْعَى مِنْ بَابِ الصَّلاَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ يُدْعَى مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ يُدْعَى مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ كُلِّهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا دے گا ۱؎ اسے جنت میں بلا کر پکارا جائے گا، اے اللہ کے بندے! یہ تیری نیکی ہے، تو جو شخص نمازی ہو گا وہ صلاۃ کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو مجاہدین میں سے ہو گا وہ جہاد والے دروازہ سے بلایا جائے گا، اور جو صدقہ دینے والوں میں سے ہو گا وہ صدقہ والے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو روزہ داروں میں سے ہو گا وہ باب ریان سے بلایا جائے گا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کسی کے لیے ضرورت تو ۲؎ نہیں کہ وہ ان سبھی دروازوں سے بلایا جائے، لیکن کیا کوئی ان سبھی دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 149
سنن نسائی 2239 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ شَبَابٌ لاَ نَقْدِرُ عَلَى شَىْءٍ قَالَ ‏ "‏ يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ عَلَيْكُمْ بِالْبَاءَةِ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، اور ہم سب نوجوان تھے۔ ہم ( جوانی کے جوش میں ) کسی چیز پر قابو نہیں رکھ پاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم اپنے اوپر شادی کرنے کو لازم پکڑو کیونکہ یہ نظر کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے، اور جو نہ کر سکتا ہو ( یعنی نان، نفقے کا بوجھ نہ اٹھا سکتا ہو ) وہ اپنے اوپر روزہ لازم کر لے کیونکہ یہ اس کے لیے بمنزلہ خصی بنا دینے کے ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 150
سنن نسائی 2240 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، لَقِيَ عُثْمَانَ بِعَرَفَاتٍ فَخَلاَ بِهِ فَحَدَّثَهُ وَأَنَّ، عُثْمَانَ قَالَ لاِبْنِ مَسْعُودٍ هَلْ لَكَ فِي فَتَاةٍ أُزَوِّجُكَهَا فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ عَلْقَمَةَ فَحَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَصُمْ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ ‏"‏ ‏.‏

علقمہ سے روایت ہے کہ ابن مسعود ( رضی اللہ عنہ ) ، عثمان ( رضی اللہ عنہ ) سے عرفات میں ملے، تو وہ انہیں لے کر تنہائی میں چلے گئے اور ان سے باتیں کیں، عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو کسی دوشیزہ کی خواہش ہے کہ میں آپ کی اس سے شادی کرا دوں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو بھی بلا لیا ( آ جاؤ کوئی خاص بات نہیں ہے اور جب وہ آ گئے ) تو انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے اسے چاہیئے کہ وہ شادی کر لے کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور جو طاقت نہ رکھے، تو اسے چاہیئے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے «وجاء» ہے“ ( یعنی وہ اسے خصی بنا دے گا، اس کی شہوت کو توڑ دے گا ) ۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 151
سنن نسائی 2241 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے، تو وہ شادی کر لے اور جو نہ رکھے، وہ اپنے اوپر روزہ لازم کر لے، کیونکہ یہ اس کی شہوت کو توڑ دے گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 152
سنن نسائی 2242 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنِي هِلاَلُ بْنُ الْعَلاَءِ بْنِ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَمَعَنَا عَلْقَمَةُ وَالأَسْوَدُ وَجَمَاعَةٌ فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثٍ مَا رَأَيْتُهُ حَدَّثَ بِهِ الْقَوْمَ إِلاَّ مِنْ أَجْلِي لأَنِّي كُنْتُ أَحْدَثَهُمْ سِنًّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَلِيٌّ وَسُئِلَ الأَعْمَشُ عَنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ قَالَ نَعَمْ ‏.‏

عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت ہے کہ ہم عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے پاس آئے اور ہمارے ساتھ علقمہ، اسود اور ایک جماعت تھی، تو انہوں نے ہم سے ایک حدیث بیان کی، اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے وہ حدیث میرے ہی لیے بیان کی تھی کیونکہ میں ان لوگوں میں سب سے زیادہ نوعمر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے“۔ علی بن ہاشم ( راوی ) کہتے ہیں کہ اعمش سے ابراہیم والی روایت کے بارے میں پوچھا گیا، سائل نے پوچھا: «عن إبراهيم عن علقمة عن عبداللہ» اسی کے مثل مروی ہے، اعمش نے کہا: ہاں۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 153
سنن نسائی 2243 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ عِنْدَ عُثْمَانَ فَقَالَ عُثْمَانُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى فِتْيَةٍ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لاَ فَالصَّوْمُ لَهُ وِجَاءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو مَعْشَرٍ هَذَا اسْمُهُ زِيَادُ بْنُ كُلَيْبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَهُوَ صَاحِبُ إِبْرَاهِيمَ رَوَى عَنْهُ مَنْصُورٌ وَمُغِيرَةُ وَشُعْبَةُ وَأَبُو مَعْشَرٍ الْمَدَنِيُّ اسْمُهُ نَجِيحٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَمَعَ ضَعْفِهِ أَيْضًا كَانَ قَدِ اخْتَلَطَ عِنْدَهُ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ مِنْهَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَمِنْهَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ وَلَكِنِ انْهَسُوا نَهْسًا ‏"‏ ‏.‏

علقمہ کہتے ہیں میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو ثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند نوجوانوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص وسعت والا ہو وہ شادی کر لے۔ کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے، اور جو شخص ایسا نہ ہو تو روزہ اس کی شہوت کو کچل دینے کا ذریعہ ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: سند میں مذکور ابومعشر کا نام زیاد بن کلیب ہے، وہ ثقہ ہیں اور وہ ابراہیم ( نخعی ) کے تلامذہ میں سے ہیں، اور ان سے منصور، مغیرہ اور شعبہ نے روایت کی ہے۔ اور ( ایک دوسرے ) ابومعشر جو مدنی ہیں ان کا نام نجیح ( نجیح بن عبدالرحمٰن سندی ) ہے، وہ ضعیف ہیں، اور ضعف کے ساتھ اختلاط کا شکار ہو گئے تھے ان کے یہاں کچھ منکر احادیث بھی ہیں جن میں سے ایک وہ ہے جو انہوں نے محمد بن عمرو سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے وہ قبلہ ہے“ ۱؎۔ نیز اسی میں سے ایک حدیث وہ ہے جو انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت چھری سے نہ کاٹو بلکہ نوچ نوچ کر کھاؤ“ ۲؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 154
سنن نسائی 2244 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ زَحْزَحَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ بِذَلِكَ الْيَوْمِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ ( یعنی جہاد یا اس کے سفر ) میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اسے اس دن کے بدلے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 155
سنن نسائی 2245 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ بِذَلِكَ الْيَوْمِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ‏"‏ ‏.‏

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اس کے اور جہنم کی آگ کے درمیان ستر سال کی دوری کر دے گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 156
سنن نسائی 2246 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ عزوجل اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 157
سنن نسائی 2247 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ مِنْ جَهَنَّمَ سَبْعِينَ عَامًا ‏"‏ ‏.‏

ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 158
سنن نسائی 2248 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلاَّ بَعَّدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ‏"‏ ‏.‏

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے بھی اللہ عزوجل کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ عزوجل اس دن کے بدلے اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 159
سنن نسائی 2249 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ الأَسْوَدِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَاعَدَهُ اللَّهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ‏"‏ ‏.‏

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا، اللہ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 160
سنن نسائی 2250 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَسُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ‏"‏ ‏.‏

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے آگ سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 161
سنن نسائی 2251 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، - نَيْسَابُورِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْعَدَنِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَصُومُ عَبْدٌ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلاَّ بَاعَدَ اللَّهُ تَعَالَى بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ‏"‏ ‏.‏

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ بھی اللہ کی راہ میں کسی دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اسے جہنم کی آگ سے ستر سال دوری پر کر دے گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 162
سنن نسائی 2252 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ حَرَّ جَهَنَّمَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ‏"‏ ‏.‏

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے بدلے اس سے جہنم کی گرمی کو ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 163
سنن نسائی 2253 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي حَدَّثَكُمُ ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ‏"‏ ‏.‏

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اس سے جہنم کی آگ کو ستر سال دور کر دے گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 164
سنن نسائی 2254 Hasan Hasan Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَاعَدَ اللَّهُ مِنْهُ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ مِائَةِ عَامٍ ‏"‏ ‏.‏

عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس سے جہنم کو سو سال کی مسافت کی دوری پر کر دے گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 165
سنن نسائی 2255 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ‏"‏ ‏.‏

کعب بن عاصم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 166
سنن نسائی 2256 Sahih Lighairihi Sahih Sahih

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ ابْنَ كَثِيرٍ عَلَيْهِ ‏.‏

(تابعی) سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ غلط ہے، صحیح روایت وہ ہے جو پہلے گزری ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اس پر ابن محمد بن کثیر کی متابعت کی ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 167
سنن نسائی 2257 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى نَاسًا مُجْتَمِعِينَ عَلَى رَجُلٍ فَسَأَلَ فَقَالُوا رَجُلٌ أَجْهَدَهُ الصَّوْمُ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ‏"‏ ‏.‏

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک شخص کو گھیرے ہوئے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ( کیا بات ہے؟ کیوں لوگ اکٹھا ہیں؟ ) تو لوگوں نے کہا: ایک شخص ہے جسے روزہ نے نڈھال کر دیا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی و تقویٰ نہیں ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 168
سنن نسائی 2258 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِرَجُلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ يُرَشُّ عَلَيْهِ الْمَاءُ قَالَ ‏"‏ مَا بَالُ صَاحِبِكُمْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ وَعَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّتِي رَخَّصَ لَكُمْ فَاقْبَلُوهَا ‏"‏ ‏.‏

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک درخت کے سایہ میں بیٹھا ہوا تھا اور اس پر پانی چھڑکا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارے اس ساتھی کو کیا ہو گیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ روزہ دار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نیکی و تقویٰ نہیں ہے کہ تم سفر میں روزہ رکھو، اللہ نے جو رخصت تمہیں دی ہے اسے قبول کرو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 169
سنن نسائی 2259 Daif Sahih

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ جَابِرًا، نَحْوَهُ ‏.‏

یحییٰ کہتے ہیں مجھے محمد بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: مجھ سے جس شخص نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اسی طرح بیان کیا ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 170
سنن نسائی 2260 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رضى الله عنهما عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ عَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاقْبَلُوهَا ‏"‏ ‏.‏

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے، اللہ عزوجل کی دی گئی رخصت ( اجازت ) کو لازم پکڑو اور اسے قبول کرو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 171
سنن نسائی 2261 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ‏"‏ ‏.‏

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 172
سنن نسائی 2262 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ ‏ "‏ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ‏"‏ ‏.‏

محمد بن عبدالرحمٰن نے محمد بن عمرو بن حسن سے روایت کی، اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ سفر میں اس کے اوپر سایہ کیا گیا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے“

حوالہ: کتاب 22, حدیث 173
سنن نسائی 2263 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ فَبَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنَ الْمَاءِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَشَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ فَأَفْطَرَ بَعْضُ النَّاسِ وَصَامَ بَعْضٌ فَبَلَغَهُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا فَقَالَ ‏ "‏ أُولَئِكَ الْعُصَاةُ ‏"‏ ‏.‏

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ کے لیے نکلے، تو آپ نے روزہ رکھا، یہاں تک کہ آپ کراع الغمیم پر پہنچے، تو لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا، تو آپ کو خبر ملی کہ لوگوں پر روزہ دشوار ہو گیا ہے، تو آپ نے عصر کے بعد پانی سے بھرا ہوا پیالہ منگایا، پھر پانی پیا، اور لوگ دیکھ رہے تھے، تو ( آپ کو دیکھ کر ) بعض لوگوں نے روزہ توڑ دیا، اور بعض رکھے رہ گئے، آپ کو یہ بات پہنچی کہ کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ـ: ”یہی لوگ نافرمان ہیں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 174
سنن نسائی 2264 Sahih Sahih Daif

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِطَعَامٍ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَقَالَ لأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ‏"‏ أَدْنِيَا فَكُلاَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالاَ إِنَّا صَائِمَانِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمُ اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مرالظہران ( مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے ) میں کھانا لایا گیا، تو آپ نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”تم دونوں قریب آ جاؤ اور کھاؤ“، انہوں نے عرض کیا: ہم روزہ سے ہیں، تو آپ نے لوگوں سے کہا: ”اپنے دونوں ساتھیوں کے کجاوے کس دو، اور اپنے دونوں ساتھیوں کے کام کر دو“ ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 175
سنن نسائی 2265 Sahih Lighairihi Sahih Daif

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَغَدَّى بِمَرِّ الظَّهْرَانِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ ‏ "‏ الْغَدَاءَ ‏"‏ ‏.‏ مُرْسَلٌ ‏.‏

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا: ”آؤ کھانا کھاؤ“ یہ روایت مرسل ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 176
سنن نسائی 2266 Sahih Lighairihi Sahih Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ مُرْسَلٌ ‏.‏

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما مرالظہران میں تھے یہ روایت مرسل ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 177
سنن نسائی 2267 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ سَفَرٍ فَقَالَ ‏"‏ انْتَظِرِ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ تَعَالَ ادْنُ مِنِّي حَتَّى أُخْبِرَكَ عَنِ الْمُسَافِرِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ وَنِصْفَ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏

عمرو بن امیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ نے فرمایا: ”اے ابوامیہ! ( بیٹھو ) صبح کے کھانے کا انتظار کر لو“، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ میرے قریب آ جاؤ، میں تمہیں مسافر سے متعلق بتاتا ہوں، اللہ عزوجل نے اس سے روزے معاف کر دیا ہے اور آدھی نماز بھی“ ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 178
سنن نسائی 2268 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ تَنْتَظِرُ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنِ الْمُسَافِرِ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ وَنِصْفَ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏

عمرو بن امیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”اے امیہ! تم کیوں نہیں دوپہر کے کھانے کا انتظار کر لیتے“، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ تو آپ نے فرمایا: ( میرے قریب ) آ جاؤ۔ ”میں مسافر کے سلسلے میں تمہیں ( شریعت کا حکم ) بتاتا ہوں: اللہ تعالیٰ نے اس سے روزہ کی چھوٹ دے دی ہے، اور نماز آدھی کر دی ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 179
سنن نسائی 2269 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ سَفَرٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا ذَهَبْتُ لأَخْرُجَ قَالَ ‏"‏ انْتَظِرِ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنِ الْمُسَافِرِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ وَنِصْفَ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏

ابوامیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، تو میں نے آپ کو سلام کیا، پھر جب میں نکلنے لگا تو آپ نے فرمایا: ”اے ابوامیہ! دوپہر کے کھانے کا انتظار کر لو“۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: ”آؤ میں تمہیں مسافر کے بارے میں بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے اس سے روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور نماز آدھی کر دی ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 180
سنن نسائی 2270 Daif Sahih

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْمُهَاجِرِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَيَّةَ يَعْنِي الضَّمْرِيَّ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏

ابوالمہاجر کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوامیہ یعنی ضمری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 181
سنن نسائی 2271 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ الْجَرْمِيُّ، أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ، قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ سَفَرٍ فَقَالَ ‏"‏ انْتَظِرِ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنِ الْمُسَافِرِ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ وَنِصْفَ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏

ابوقلابہ جرمی کا بیان ہے کہ ان سے ابوامیہ ضمری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے ان سے کہا: ”ابوامیہ! دوپہر کے کھانے کا انتظار کر لو“ ( کھا کر چلے جانا ) میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آؤ، میں مسافر کے بارے میں تمہیں بتاتا ہوں: اللہ نے اس سے روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور نماز آدھی کر دی ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 182
سنن نسائی 2272 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ سَفَرٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ تَنْتَظِرِ الْغَدَاءَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنِ الصِّيَامِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصِّيَامَ وَنِصْفَ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏

ابوامیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ سفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور وہ روزے سے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ” ( تم جانا چاہتے ہو ) کیا، تم دوپہر کے کھانے کا انتظار نہیں کرو گے“، انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ میں روزے سے متعلق تمہیں بتاتا ہوں۔ اللہ عزوجل نے مسافر کو روزے کی چھوٹ دی ہے اور نماز آدھی کر دی ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 183
سنن نسائی 2273 Daif Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَلِيٌّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ رَجُلٍ، أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مِنْ سَفَرٍ نَحْوَهُ ‏.‏

ابوامیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفر سے آئے، آگے راوی نے پوری روایت اسی طرح ذکر کی۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 184
سنن نسائی 2274 Hasan Hasan Hasan

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ التَّلِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلاَةِ وَالصَّوْمَ وَعَنِ الْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ ‏"‏ ‏.‏

انس (قشیری) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے اور، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی“ ( روزے کی چھوٹ دی ہے ) ۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 185
سنن نسائی 2275 Hasan Hasan Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ شَيْخٍ، مِنْ قُشَيْرٍ عَنْ عَمِّهِ، حَدَّثَنَا ثُمَّ، أَلْفَيْنَاهُ فِي إِبِلٍ لَهُ فَقَالَ لَهُ أَبُو قِلاَبَةَ حَدِّثْهُ فَقَالَ الشَّيْخُ حَدَّثَنِي عَمِّي أَنَّهُ ذَهَبَ فِي إِبِلٍ لَهُ فَانْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَأْكُلُ أَوْ قَالَ يَطْعَمُ فَقَالَ ‏"‏ ادْنُ فَكُلْ أَوْ قَالَ ‏"‏ ادْنُ فَاطْعَمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلاَةِ وَالصِّيَامَ وَعَنِ الْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ ‏"‏ ‏.‏

ایوب قبیلہ قشیر کے ایک شیخ سے، اور وہ قشیری اپنے چچا ۱؎ سے روایت کرتے ہیں، (ایوب کہتے ہیں) ہم سے حدیث بیان کی گئی، پھر ہم نے انہیں ( شیخ قشیری کو ) ان کے اونٹوں میں پایا، تو ان سے ابوقلابہ نے کہا: آپ ان سے ( ایوب سے ) حدیث بیان کیجئے تو ( قشیری ) شیخ نے کہا: مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا کہ وہ اپنے اونٹوں میں گئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، آپ کھانا کھا رہے تھے ( راوی کو شک ہے «یا ٔکل» کہا یا «یطعم» کہا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آؤ اور کھانا کھاؤ“ ( راوی کو شک ہے «ادن فکل» کہا یا «ادن فاطعم» کہا ) تو میں نے کہا: «مںَ صائم» ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی“ ۲؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 186
سنن نسائی 2276 Hasan Hasan Hasan

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ، هَذَا الْحَدِيثَ ثُمَّ قَالَ هَلْ لَكَ فِي صَاحِبِ الْحَدِيثِ فَدَلَّنِي عَلَيْهِ فَلَقِيتُهُ فَقَالَ حَدَّثَنِي قَرِيبٌ لِي يُقَالُ لَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي إِبِلٍ كَانَتْ لِي أُخِذَتْ فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ يَأْكُلُ فَدَعَانِي إِلَى طَعَامِهِ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنْ ذَلِكَ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏

ایوب کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوقلابہ نے یہ حدیث بیان کی، پھر مجھ سے کہا: کیا آپ اس حدیث کے بیان کرنے والے سے ملنا چاہیں گے؟ پھر انہوں نے ان کی طرف میری رہنمائی کی، تو میں جا کر ان سے ملا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے ایک رشتہ دار نے جنہیں انس بن مالک کہا جاتا ہے نے بیان کیا کہ میں اپنے اونٹوں کے سلسلے میں جو پکڑ لیے گئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں پہنچا تو آپ کھانا کھا رہے تھے، تو آپ نے مجھے اپنے کھانے میں شریک ہونے کے لیے بلایا۔ میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آؤ میں تمہیں اس کے متعلق بتاتا ہوں، ( سنو ) اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ، اور آدھی نماز کی چھوٹ دی ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 187
سنن نسائی 2277 Hasan Hasan Hasan

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِحَاجَةٍ فَإِذَا هُوَ يَتَغَدَّى قَالَ ‏"‏ هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلُمَّ أُخْبِرْكَ عَنِ الصَّوْمِ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلاَةِ وَالصَّوْمَ وَرَخَّصَ لِلْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ ‏"‏ ‏.‏

ایک صحابی کہتے ہیں میں ایک ضرورت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اتفاق کی بات آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، آپ نے کہا: آؤ کھانا میں شریک ہو جاؤ، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: آؤ میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی چھوٹ دی ہے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 188
سنن نسائی 2278 Daif Hasan

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ، نَحْوَهُ ‏.‏

ابو العلاء بن شخیر بھی ایک شخص سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 189
سنن نسائی 2279 Sahih Lighairihi Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَلْحَرِيشٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا صَائِمٌ وَهُوَ يَأْكُلُ قَالَ ‏"‏ هَلُمَّ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَعَالَ أَلَمْ تَعْلَمْ مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَمَا وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ قَالَ ‏"‏ الصَّوْمَ وَنِصْفَ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏

ہانی بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں روزے سے تھا، اور آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”آؤ“ ( کھانے میں شریک ہو جاؤ ) میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”ادھر آؤ، کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے“۔ میں نے کہا: اللہ نے مسافر کو کیا چھوٹ دی ہے؟ آپ نے فرمایا: روزے کی، اور آدھی نماز کی۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 190
سنن نسائی 2280 Sahih Lighairihi Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَلْحَرِيشٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ مَا شَاءَ اللَّهُ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَطْعَمُ فَقَالَ ‏"‏ هَلُمَّ فَاطْعَمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أُحَدِّثُكُمْ عَنِ الصِّيَامِ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏

ہانی بن عبداللہ بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا ہم سفر کرتے رہے، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”آؤ کھانا کھاؤ“، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں: اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزے کی چھوٹ دی ہے، اور آدھی نماز کی بھی۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 191
سنن نسائی 2281 Sahih Lighairihi Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَأْكُلُ وَأَنَا صَائِمٌ فَقَالَ ‏"‏ هَلُمَّ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَتَدْرِي مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَمَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ قَالَ ‏"‏ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ کھانا کھا رہے تھے اور میں روزے سے تھا، آپ نے فرمایا: آؤ ( کھانا کھا لو ) میں نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں وہ چیز معلوم ہے جس کی اللہ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے؟، میں نے کہا: کس چیز کی اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے اور آدھی نماز کی“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 192
سنن نسائی 2282 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُوسَى، - هُوَ ابْنُ أَبِي عَائِشَةَ - عَنْ غَيْلاَنَ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي قِلاَبَةَ فِي سَفَرٍ فَقَرَّبَ طَعَامًا فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ فِي سَفَرٍ فَقَرَّبَ طَعَامًا فَقَالَ لِرَجُلٍ ‏"‏ ادْنُ فَاطْعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلاَةِ وَالصِّيَامَ فِي السَّفَرِ ‏"‏ ‏.‏ فَادْنُ فَاطْعَمْ فَدَنَوْتُ فَطَعِمْتُ ‏.‏

غیلان کہتے ہیں میں ابوقلابہ کے ساتھ ایک سفر میں نکلا ( کھانے کے وقت ) انہوں نے کھانا میرے آگے بڑھایا تو میں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں، اس پر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں نکلے، آپ نے کھانا آگے بڑھاتے ہوئے ایک شخص سے کہا: ”قریب آ جاؤ کھانا کھاؤ“، اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ـ: ”اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لیے آدھی نماز کی اور سفر میں روزے کی چھوٹ دی ہے“۔ تو اب آؤ کھاؤ، تو میں قریب ہو گیا، اور کھانے لگا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 193
سنن نسائی 2283 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السَّفَرِ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَنَزَلْنَا فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَاتَّخَذْنَا ظِلاَلاً فَسَقَطَ الصُّوَّامُ وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَسَقَوُا الرِّكَابَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالأَجْرِ ‏"‏ ‏.‏

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے تھے اور کچھ لوگ بغیر روزے کے تھے، ہم نے ایک گرم دن میں پڑاؤ کیا، اور ہم ( چھولداریاں اور خیمے لگا لگا کر ) سایہ کرنے لگے، تو روزہ دار ( سخت گرمی کی تاب نہ لا کر ) گر گر پڑے، اور روزہ نہ رہنے والے اٹھے، اور انہوں نے سواریوں کو پانی پلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج غیر روزہ دار ثواب مار لے گئے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 194
سنن نسائی 2284 Daif Muquf Daif Muquf Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ يُقَالُ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ كَالإِفْطَارِ فِي الْحَضَرِ ‏.‏

عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہا جاتا ہے سفر میں روزہ رکھنا ایسا ہے جیسے حضر میں افطار کرنا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 195
سنن نسائی 2285 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ الْخَيَّاطِ، وَأَبُو عَامِرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ ‏.‏

عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں سفر میں روزہ رکھنے والا ایسا ہی ہے جیسے حضر میں روزہ نہ رکھنے والا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 196
سنن نسائی 2286 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ ‏.‏

عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 197
سنن نسائی 2287 Sahih Lighairihi Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا ثُمَّ أُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ وَأَفْطَرَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں سفر پر نکلے، تو آپ روزے سے رہے۔ یہاں تک کہ آپ قدید پہنچے، تو آپ کے سامنے دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، تو آپ نے پیا، اور آپ نے اور آپ کے صحابہ نے روزہ توڑ دیا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 198
سنن نسائی 2288 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں روزہ رکھا، ( اور چلے ) یہاں تک کہ آپ قدید آئے، پھر آپ نے روزہ توڑ دیا، اور مکہ پہنچنے تک بغیر روزہ کے رہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 199
سنن نسائی 2289 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَامَ فِي السَّفَرِ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ فَأَفْطَرَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا یہاں تک کہ آپ قدید آئے، پھر آپ نے دودھ کا ایک پیالہ منگایا اور ( اسے ) پیا، اور آپ نے اور آپ کے اصحاب نے روزہ توڑ دیا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 200
سنن نسائی 2290 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى مَكَّةَ فَصَامَ حَتَّى أَتَى عُسْفَانَ فَدَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ - قَالَ شُعْبَةُ - فِي رَمَضَانَ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لیے نکلے، آپ روزہ رکھے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ آپ عسفان ۱؎ پہنچے، تو ایک پیالہ منگایا اور پیا۔ شعبہ کہتے ہیں: یہ واقعہ رمضان کے مہینے کا ہے، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: سفر میں جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 201
سنن نسائی 2291 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ نَهَارًا يَرَاهُ النَّاسُ ثُمَّ أَفْطَرَ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سفر کیا، اور آپ روزہ رکھے ہوئے تھے، یہاں تک کہ عسفان پہنچے تو آپ نے ایک برتن منگایا، تو دن ہی میں پی لیا، لوگ اسے دیکھ رہے تھے، پھر آپ بغیر روزہ کے رہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 202
سنن نسائی 2292 Sahih Lighairihi Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ قُلْتُ لِمُجَاهِدٍ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ وَيُفْطِرُ ‏.‏

عوام بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں روزہ رکھتے تھے اور نہیں بھی رکھتے تھے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 203
سنن نسائی 2293 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنِي هِلاَلُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُجَاهِدٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَامَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَأَفْطَرَ فِي السَّفَرِ ‏.‏

مجاہد کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں روزے رکھے، اور سفر میں بغیر روزے کے رہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 204
سنن نسائی 2294 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ قَالَ ‏ "‏ إِنْ - ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا إِنْ - شِئْتَ صُمْتَ وَإِنْ شِئْتَ أَفْطَرْتَ ‏"‏ ‏.‏

حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”چاہو تو روزہ رکھو، اور چاہو تو نہ رکھو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 205
سنن نسائی 2295 Daif Hasan

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِثْلَهُ مُرْسَلٌ ‏.‏

سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آگے اوپر والی حدیث کے مثل ہے اور یہ حدیث مرسل ۲؎ ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 206
سنن نسائی 2296 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ قَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 207
سنن نسائی 2297 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو، اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 208
سنن نسائی 2298 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ، وَذَكَرَ، آخَرَ عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ قَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏

حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں سفر میں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں ( تو کیا میں روزہ رکھوں؟ ) آپ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور چاہو تو نہ رکھو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 209
سنن نسائی 2299 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ قَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: ”اگر رکھنا چاہو تو رکھو، اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 210
سنن نسائی 2300 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَحَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَانِي جَمِيعًا، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ كُنْتُ أَسْرُدُ الصِّيَامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْرُدُ الصِّيَامَ فِي السَّفَرِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلسل روزہ رکھتا تھا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر میں مسلسل روزہ رکھوں؟ تو آپ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 211
سنن نسائی 2301 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ حَمْزَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصِّيَامَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ قَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں مسلسل روزہ رکھنے والا آدمی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی برابر روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 212
سنن نسائی 2302 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مُرَاوِحٍ حَدَّثَهُ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ رَجُلاً يَصُومُ فِي السَّفَرِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو سفر میں روزہ رکھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 213
سنن نسائی 2303 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَمْرٌو، وَذَكَرَ، آخَرَ عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَجِدُ فِيَّ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ قَالَ ‏ "‏ هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے اندر سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، تو کیا ( اگر میں روزہ رکھوں تو ) مجھ پر گناہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ عزوجل کی جانب سے رخصت ہے، تو جس نے اس رخصت کو اختیار کیا تو یہ اچھا ہے، اور جو روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی حرج نہیں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 214
سنن نسائی 2304 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَصُومُ فِي السَّفَرِ قَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏

حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں سفر روزہ میں رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 215
سنن نسائی 2305 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ اللاَّنِيُّ، بِالْكُوفَةِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ قَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزہ رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 216
سنن نسائی 2306 Sahih Sahih Sahih Bukhari

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ حَمْزَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصُومُ فِي السَّفَرِ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 217
سنن نسائی 2307 Hasan Sahih Hasan Sahih Hasan

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ حَمْزَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصُومُ فِي السَّفَرِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 218
سنن نسائی 2308 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ الأَسْلَمِيَّ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ وَكَانَ رَجُلاً يَسْرُدُ الصِّيَامَ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو مسلسل روزہ رکھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 219
سنن نسائی 2309 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ فِي رَمَضَانَ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ لاَ يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلاَ يَعِيبُ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ ‏.‏

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رمضان میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ) سفر کرتے تھے۔ ہم میں سے کوئی روزہ سے ہوتا تھا، اور کوئی بغیر روزہ کے، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والوں کو عیب کی نظر سے نہیں دیکھتا اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے کو معیوب سمجھتا تھا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 220
سنن نسائی 2310 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ - عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ وَلاَ يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلاَ يَعِيبُ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ ‏.‏

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے، تو ہم میں بعض روزہ دار ہوتے تھے اور بعض بغیر روزہ کے، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے کو عیب کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا، اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو عیب کی نظر سے دیکھتا تھا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 221
سنن نسائی 2311 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَامَ بَعْضُنَا وَأَفْطَرَ بَعْضُنَا ‏.‏

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو ہم میں سے بعض نے روزہ رکھے اور بعض نے نہیں۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 222
سنن نسائی 2312 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُمَا سَافَرَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَصُومُ الصَّائِمُ وَيُفْطِرُ الْمُفْطِرُ وَلاَ يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ ‏.‏

ابو سعید خدری اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا، تو روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا، اور نہ رکھنے والا کھاتا پیتا، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے کو معیوب نہیں سمجھتا، اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو معیوب نہیں سمجھتا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 223
سنن نسائی 2313 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ صَائِمًا فِي رَمَضَانَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ أَفْطَرَ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ

حوالہ: کتاب 22, حدیث 224
سنن نسائی 2314 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ فَافْتَتَحَ مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کیا تو روزہ رکھا یہاں تک کہ عسفان پہنچے، پھر آپ نے ( پانی سے بھرا ) ایک برتن منگایا، اور دن ہی میں پیا، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ لیں، پھر آپ بغیر روزہ کے رہے، یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے۔ تو آپ نے مکہ کو رمضان میں فتح کیا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا، اور روزہ توڑ بھی دیا ہے، تو جس کا جی چاہے روزہ رکھے، اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 225
سنن نسائی 2315 Hasan Hasan Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ لِلْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلاَةِ وَعَنِ الْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ ‏"‏ ‏.‏

انس بن مالک (قشیری) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”آؤ کھانا کھاؤ“۔ انہوں نے عرض کیا: میں روزہ دار ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مسافر کو روزہ کی، اور آدھی نماز کی چھوٹ دے دی ہے، نیز حاملہ اور مرضعہ کو بھی روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ دی گئی ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 226
سنن نسائی 2316 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ أَنْبَأَنَا بَكْرٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ - عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ‏}‏ كَانَ مَنْ أَرَادَ مِنَّا أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ حَتَّى نَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا ‏.‏

سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ”جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ( اور وہ روزہ نہ رکھنا چاہیں ) تو ان کا فدیہ یہ ہے کہ کسی مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلائیں“ ( البقرہ: ۱۸۴ ) نازل ہوئی تو ہم میں سے جو شخص چاہتا کہ وہ افطار کرے ( کھائے پئے ) اور فدیہ دیدے ( تو وہ ایسا کر لیتا ) یہاں کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اسے منسوخ کر دیا ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 227
سنن نسائی 2317 Sahih Sahih Sahih Bukhari

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ‏}‏ يُطِيقُونَهُ يُكَلَّفُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ وَاحِدٍ ‏{‏ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا ‏}‏ طَعَامُ مِسْكِينٍ آخَرَ لَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ ‏{‏ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ ‏}‏ لاَ يُرَخَّصُ فِي هَذَا إِلاَّ لِلَّذِي لاَ يُطِيقُ الصِّيَامَ أَوْ مَرِيضٍ لاَ يُشْفَى ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه» میں «‏‏‏‏يطيقونه» کی تفسیر میں کہتے ہیں معنی یہ ہے کہ جو لوگ روزہ رکھنے کے مکلف ہیں، ( تو ہر روزہ کے بدلے ) ان پر ایک مسکین کے دونوں وقت کے کھانے کا فدیہ ہے، ( اور جو شخص ازراہ ثواب و نیکی و بھلائی ) ایک سے زیادہ مسکین کو کھانا دے دیں تو یہ منسوخ نہیں ہے، ( یہ اچھی بات ہے، اور زیادہ بہتر بات یہ ہے کہ روزہ ہی رکھے جائیں ) یہ رخصت صرف اس شخص کے لیے ہے جو روزہ کی طاقت نہ رکھتا ہو، یا بیمار ہو اور اچھا نہ ہو پا رہا ہو۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 228
سنن نسائی 2318 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَلِيٌّ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْهَرٍ - عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتْ عَائِشَةَ أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلاَةَ إِذَا طَهُرَتْ قَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ نَطْهُرُ فَيَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلاَ يَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّلاَةِ ‏.‏

معاذہ عدویہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا عورت جب حیض سے پاک ہو جائے تو نماز کی قضاء کرے؟ انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ۱؎ ہے؟ ہم عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حیض سے ہوتی تھیں، پھر ہم پاک ہوتیں تو آپ ہمیں روزہ کی قضاء کا حکم دیتے تھے، اور نماز کی قضاء کے لیے نہیں کہتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 229
سنن نسائی 2319 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَىَّ الصِّيَامُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَقْضِيهِ حَتَّى يَجِيءَ شَعْبَانُ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھ پر رمضان کے روزہ ہوتے تھے تو میں قضاء نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 230
سنن نسائی 2320 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ أَبُو حَصِينٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَاشُورَاءَ ‏"‏ أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَكَلَ الْيَوْمَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا مِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ لَمْ يَصُمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَابْعَثُوا إِلَى أَهْلِ الْعَرُوضِ فَلْيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ ‏"‏ ‏.‏

محمد بن صیفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے آج کے دن کھایا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن ہوں نے روزہ رکھا ہے، اور کچھ لوگوں نے نہیں رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا باقی دن ( بغیر کھائے پیئے ) پورا کرو ۱؎، اہل عروض ۲؎ کو خبر کرا دو کہ وہ بھی اپنا باقی دن ( بغیر کھائے پئے ) پورا کریں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 231
سنن نسائی 2321 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ ‏ "‏ أَذِّنْ - يَوْمَ عَاشُورَاءَ - مَنْ كَانَ أَكَلَ فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ ‏"‏ ‏.‏

سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”لوگوں میں عاشوراء کے دن اعلان کر دو: جس نے کھا لیا ہے وہ باقی دن ( بغیر کھائے پیئے ) پورا کرے، اور جس نے نہ کھایا ہو وہ روزہ رکھے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 232
سنن نسائی 2322 Hasan Hasan Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَقَالَ ‏"‏ هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ مَرَّ بِي بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَقَدْ أُهْدِيَ إِلَىَّ حَيْسٌ فَخَبَأْتُ لَهُ مِنْهُ وَكَانَ يُحِبُّ الْحَيْسَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَخَبَأْتُ لَكَ مِنْهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَدْنِيهِ أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ وَأَنَا صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا مَثَلُ صَوْمِ الْمُتَطَوِّعِ مَثَلُ الرَّجُلِ يُخْرِجُ مِنْ مَالِهِ الصَّدَقَةَ فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا وَإِنْ شَاءَ حَبَسَهَا ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس آئے، اور پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ( کھانے کو ) ہے؟“ تو میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو میں روزہ سے ہوں“، اس دن کے بعد پھر ایک دن آپ میرے پاس سے گزرے، اس دن میرے پاس تحفہ میں حیس ۱؎ آیا ہوا تھا، میں نے اس میں سے آپ کے لیے نکال کر چھپا رکھا تھا، آپ کو حیس بہت پسند تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے حیس تحفے میں دیا گیا ہے، میں نے اس میں سے آپ کے لیے چھپا کر رکھا ہے، آپ نے فرمایا: ”لاؤ حاضر کرو، اگرچہ میں نے صبح سے ہی روزہ کی نیت کر رکھی ہے“ ( مگر کھاؤ گا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا، پھر فرمایا: ”نفلی روزہ کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو اپنے مال میں سے ( نفلی ) صدقہ نکالتا ہے، جی چاہا دے دیا، جی چاہا نہیں دیا، روک لیا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 233
سنن نسائی 2323 Hasan Hasan Hasan

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَارَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَوْرَةً قَالَ ‏"‏ أَعِنْدَكِ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لَيْسَ عِنْدِي شَىْءٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَنَا صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ثُمَّ دَارَ عَلَىَّ الثَّانِيَةَ وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَجِئْتُ بِهِ فَأَكَلَ فَعَجِبْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَخَلْتَ عَلَىَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ ثُمَّ أَكَلْتَ حَيْسًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ يَا عَائِشَةُ إِنَّمَا مَنْزِلَةُ مَنْ صَامَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ - أَوْ غَيْرِ قَضَاءِ رَمَضَانَ أَوْ فِي التَّطَوُّعِ - بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ أَخْرَجَ صَدَقَةَ مَالِهِ فَجَادَ مِنْهَا بِمَا شَاءَ فَأَمْضَاهُ وَبَخِلَ مِنْهَا بِمَا بَقِيَ فَأَمْسَكَهُ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوم کر میرے پاس آئے اور پوچھا: ”تمہارے پاس کوئی چیز ( کھانے کی ) ہے؟“ میں نے عرض کیا، میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں“، پھر ایک اور بار میرے پاس آئے، اس وقت ہمارے پاس حیس ہدیہ میں آیا ہوا تھا، تو میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوئی تو آپ نے اسے کھایا، تو مجھے اس بات سے حیرت ہوئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمارے پاس آئے تو روزہ سے تھے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیس کھا لیا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں عائشہ! جس نے کوئی روزہ رکھا لیکن وہ روزہ رمضان کا یا رمضان کی قضاء کا نہ ہو، یا نفلی روزہ ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اپنے مال میں سے ( نفلی ) صدقہ نکالا، پھر اس میں سے جتنا چاہا سخاوت کر کے دے دیا اور جو بچ رہا بخیلی کر کے اسے روک لیا“ ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 234
سنن نسائی 2324 Hasan Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجِيءُ وَيَقُولُ ‏"‏ هَلْ عِنْدَكُمْ غَدَاءٌ ‏"‏ ‏.‏ فَنَقُولُ لاَ ‏.‏ فَيَقُولُ ‏"‏ إِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَانَا يَوْمًا وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا نَعَمْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلَ خَالَفَهُ قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تھے اور پوچھتے تھے: ”کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟“ میں کہتی تھی: نہیں، تو آپ فرماتے تھے: ”میں روزہ سے ہوں“، ایک دن آپ ہمارے پاس تشریف لائے، اس دن ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا تھا، آپ نے کہا: ”کیا تم لوگوں کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟“ ہم نے کہا: جی ہاں ہے، ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: ”میں نے صبح روزہ رکھنے کا ارادہ کیا تھا“، پھر آپ نے ( اسے ) کھایا۔ قاسم بن یزید نے ان کی یعنی ابوبکر حنفی کی مخالفت کی ہے ۱؎، ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 235
سنن نسائی 2325 Hasan Sahih Hasan Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَقُلْنَا أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ قَدْ جَعَلْنَا لَكَ مِنْهُ نَصِيبًا ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَفْطَرَ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، ہم نے عرض کیا: ہمارے پاس حیس کا تحفہ بھیجا گیا، ہم نے اس میں آپ کا ( بھی ) حصہ لگایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں روزہ سے ہوں“، پھر آپ نے روزہ توڑ دیا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 236
سنن نسائی 2326 Hasan Sahih Hasan Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ فَقَالَ ‏"‏ أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ تُطْعِمِينِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَنَقُولُ لاَ ‏.‏ فَيَقُولُ ‏"‏ إِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ جَاءَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَتْ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَا هِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ حَيْسٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلَ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے تھے اور آپ روزہ سے ہوتے تھے ( اس کے باوجود ) پوچھتے تھے: ”تمہارے پاس رات کی کوئی چیز ہے جسے تم مجھے کھلا سکو؟“ ہم کہتے نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”میں نے روزہ رکھ لیا“ پھر اس کے بعد ایک بار آپ ان کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس ہدیہ آیا ہوا ہے آپ نے پوچھا: ”کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: حیس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے صبح روزہ کا ارادہ کیا تھا“ پھر آپ نے کھایا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 237
سنن نسائی 2327 Hasan Sahih Hasan Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا: ”تمہارے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو میں روزہ سے ہوں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 238
سنن نسائی 2328 Hasan Sahih Hasan Sahih Sahih

أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، وَمُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَاهَا فَقَالَ ‏"‏ هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ جَاءَ يَوْمًا آخَرَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَدَعَا بِهِ فَقَالَ ‏"‏ أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلَ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو میں روزہ سے ہوں“، پھر آپ ایک اور دن تشریف لائے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے، تو آپ نے اسے منگوایا، اور فرمایا: ”میں نے صبح روزہ کی نیت کی تھی“، پھر آپ نے کھایا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 239
سنن نسائی 2329 Daif Hasan

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَأُمِّ كُلْثُومٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَ ‏ "‏ هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ ‏"‏ ‏.‏ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَدْ رَوَاهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ‏.‏

مجاہد اور ام کلثوم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، اور ان سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟“ آگے اسی طرح ہے جیسے اس سے پہلی روایت میں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: اور اسے سماک بن حرب نے بھی روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک شخص نے روایت کی اور اس نے عائشہ بنت طلحہ سے روایت کی ہے ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 240
سنن نسائی 2330 Sahih Lighairihi Sahih Sahih

أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَقَالَ ‏"‏ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ طَعَامٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِذًا أَصُومَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَدَخَلَ عَلَىَّ مَرَّةً أُخْرَى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِذًا أُفْطِرَ الْيَوْمَ وَقَدْ فَرَضْتُ الصَّوْمَ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں“، پھر دوسری بار آپ میرے پاس تشریف لے آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو میں آج روزہ توڑ دوں گا حالانکہ میں نے روزہ کی نیت کر لی تھی“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 241
سنن نسائی 2331 Sahih Sahih Daif

أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ لَمْ يُبَيِّتِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلاَ صِيَامَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص طلوع فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ نہ ہو گا“ ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 242
سنن نسائی 2332 Sahih Sahih Daif

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ لَمْ يُبَيِّتِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلاَ صِيَامَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہیں کی تو اس کا روزہ نہیں ہو گا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 243
سنن نسائی 2333 Sahih Sahih Daif

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ أَشْهَبَ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَذَكَرَ، آخَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، حَدَّثَهُمَا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَلاَ يَصُومُ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص روزہ کا پختہ ارادہ طلوع فجر سے پہلے نہ کر لے تو وہ روزہ نہ رکھے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 244
سنن نسائی 2334 Sahih Sahih Daif

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ لَمْ يُبَيِّتِ الصِّيَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَلاَ صِيَامَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے روزہ کی نیت رات ہی میں نہ کر لی ہو تو اس کا روزہ نہیں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 245
سنن نسائی 2335 Sahih Muquf Sahih Muquf Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَلاَ يَصُومُ ‏.‏

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی تھیں کہ جس نے رات ہی میں روزہ کی پختہ نیت نہ کر لی ہو تو وہ روزہ نہ رکھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 246
سنن نسائی 2336 Sahih Muquf Sahih Muquf Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَتْ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لاَ صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعْ قَبْلَ الْفَجْرِ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 247
سنن نسائی 2337 Sahih Muquf Sahih Muquf Hasan

أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ لاَ صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعْ قَبْلَ الْفَجْرِ ‏.‏

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 248
سنن نسائی 2338 Sahih Muquf Sahih Muquf Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَمَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ لاَ صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ ‏.‏

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 249
سنن نسائی 2339 Sahih Muquf Sahih Muquf Hasan

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ لاَ صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ ‏.‏

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 250
سنن نسائی 2340 Sahih Muquf Sahih Muquf Hasan

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ لاَ صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ ‏.‏ أَرْسَلَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ‏.‏

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔ مالک بن انس نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 251
سنن نسائی 2341 Sahih Lighairihi Sahih Daif

قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، مِثْلَهُ لاَ يَصُومُ إِلاَّ مَنْ أَجْمَعَ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ و ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہما سے اسی کے مثل روایت ہے کہ صرف وہی شخص روزہ رکھے جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت کر لے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 252
سنن نسائی 2342 Sahih Muquf Sahih Muquf Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ إِذَا لَمْ يُجْمِعِ الرَّجُلُ الصَّوْمَ مِنَ اللَّيْلِ فَلاَ يَصُمْ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آدمی نے رات ہی میں روزہ کی پختہ نیت نہ کی ہو تو وہ روزہ نہ رکھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 253
سنن نسائی 2343 Sahih Muquf Sahih Muquf Isnaad Sahih

قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لاَ يَصُومُ إِلاَّ مَنْ أَجْمَعَ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ روزہ صرف وہی رکھے جس نے فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت کر لی ہو۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 254
سنن نسائی 2344 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَأَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلاَةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کو روزوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے تھے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب نماز بھی داود علیہ السلام کی نماز تھی، وہ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات قیام کرتے تھے، اور رات کے چھٹویں حصہ میں پھر سوتے تھے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 255
سنن نسائی 2345 Daif Isnaad Daif Isnaad Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُفْطِرُ أَيَّامَ الْبِيضِ فِي حَضَرٍ وَلاَ سَفَرٍ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضر میں ہوں یا سفر میں ایام بیض میں بغیر روزہ کے نہیں رہتے تھے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 256
سنن نسائی 2346 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا غَيْرَ رَمَضَانَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے: آپ روزے رکھنا بند نہیں کریں گے، اور آپ بغیر روزے کے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزے رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اور آپ جب سے مدینہ آئے رمضان کے علاوہ آپ نے کسی بھی مہینہ کے مسلسل روزے نہیں رکھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 257
سنن نسائی 2347 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَرْوَانَ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے: آپ بغیر روزہ کے رہیں گے ہی نہیں، اور بغیر روزہ کے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 258
سنن نسائی 2348 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لاَ أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلاَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ وَلاَ صَامَ شَهْرًا قَطُّ كَامِلاً غَيْرَ رَمَضَانَ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ آپ نے کبھی پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ رمضان کے علاوہ آپ نے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ رکھا ہو۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 259
سنن نسائی 2349 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَمَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا كَامِلاً مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلاَّ رَمَضَانَ ‏.‏

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ روزہ رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ( برابر ) روزہ ہی رکھا کریں گے، اور آپ افطار کرتے ( روزہ نہ رہتے ) تو ہم کہتے کہ آپ برابر بغیر روزہ کے رہیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آنے کے بعد سوائے رمضان کے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ نہیں رکھا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 260
سنن نسائی 2350 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَائِشَةَ، تَقُولُ كَانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانُ بَلْ كَانَ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک روزہ رکھنے کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ مہینہ شعبان کا تھا، بلکہ آپ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 261
سنن نسائی 2351 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَذَكَرَ، آخَرَ قَبْلَهُمَا أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يَصُومُ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ بغیر روزے کے نہیں رہیں گے، اور بغیر روزہ کے رہتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کے مہینے سے زیادہ کسی اور مہینے میں روزہ رکھتے نہیں دیکھا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 262
سنن نسائی 2352 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ لاَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلاَّ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ ‏.‏

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے شعبان اور رمضان کے مسلسل دو مہینے روزہ نہیں رکھتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 263
سنن نسائی 2353 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا تَامًّا إِلاَّ شَعْبَانَ وَيَصِلُ بِهِ رَمَضَانَ ‏.‏

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی بھی مہینہ میں پورا روزہ نہیں رکھتے تھے سوائے شعبان کے، آپ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 264
سنن نسائی 2354 Hasan Sahih Hasan Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِشَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ لِشَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ أَوْ عَامَّتَهُ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزہ نہیں رکھتے تھے، آپ شعبان کے پورے یا اکثر دن روزہ رہتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 265
سنن نسائی 2355 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَعْبَانَ إِلاَّ قَلِيلاً ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزہ رکھتے تھے سوائے چند دنوں کے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 266
سنن نسائی 2356 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزہ رکھتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 267
سنن نسائی 2357 Hasan Hasan Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو الْغُصْنِ، - شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَرَكَ تَصُومُ شَهْرًا مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏

اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جتنا میں آپ کو شعبان کے مہینے میں روزہ رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں اتنا کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا، آپ نے فرمایا: ”رجب و رمضان کے درمیان یہ ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت برتتے ہیں، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال رب العالمین کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 268
سنن نسائی 2358 Hasan Sahih Hasan Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو الْغُصْنِ، - شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَصُومُ حَتَّى لاَ تَكَادَ تُفْطِرُ وَتُفْطِرُ حَتَّى لاَ تَكَادَ أَنْ تَصُومَ إِلاَّ يَوْمَيْنِ إِنْ دَخَلاَ فِي صِيَامِكَ وَإِلاَّ صُمْتَهُمَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَىُّ يَوْمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ذَانِكَ يَوْمَانِ تُعْرَضُ فِيهِمَا الأَعْمَالُ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏

اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ روزہ رکھتے ہیں یہاں تک کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ روزہ بند ہی نہیں کریں گے، اور بغیر روزہ کے رہتے ہیں یہاں تک کہ لگتا ہے کہ روزہ رکھیں گے ہی نہیں سوائے دو دن کے۔ کہ اگر وہ آپ کے روزہ کے درمیان میں آ گئے ( تو ٹھیک ہے ) اور اگر نہیں آئے تو بھی آپ ان میں روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے پوچھا: ”وہ دو دن کون ہیں؟“ میں نے عرض کیا: وہ پیر اور جمعرات کے دن ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دو دن وہ ہیں جن میں اللہ رب العالمین کے سامنے ہر ایک کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 269
سنن نسائی 2359 Hasan Sahih Hasan Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ الْغِفَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسْرُدُ الصَّوْمَ فَيُقَالُ لاَ يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ فَيُقَالُ لاَ يَصُومُ ‏.‏

اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر روزہ رکھتے جاتے تھے، یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ بغیر روزہ کے رہیں گے ہی نہیں، اور ( مسلسل ) بغیر روزہ کے رہتے یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 270
سنن نسائی 2360 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَحَرَّى صِيَامَ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو شنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے روزہ کا اہتمام فرماتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 271
سنن نسائی 2361 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ أَخْبَرَنِي ثَوْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَحَرَّى يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے دن ( کے روزہ ) کا اہتمام فرماتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 272
سنن نسائی 2362 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَحَرَّى الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے دن ( کے روزہ ) کا اہتمام فرماتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 273
سنن نسائی 2363 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَحَرَّى يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے دن ( کے روزہ ) کا اہتمام فرماتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 274
سنن نسائی 2364 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 275
سنن نسائی 2365 Hasan Hasan Sahih

أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ مِنْ هَذِهِ الْجُمُعَةِ وَالاِثْنَيْنِ مِنَ الْمُقْبِلَةِ ‏.‏

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے: پہلے ہفتہ کے دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کو، اور دوسرے ہفتہ کے دوشنبہ ( پیر ) کو۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 276
سنن نسائی 2366 Hasan Hasan Isnaad Hasan

أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَيَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَمِنَ الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ ‏.‏

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کی جمعرات اور دوشنبہ ( پیر ) کو اور دوسرے ہفتہ کے دوشنبہ ( پیر ) کو روزہ رہتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 277
سنن نسائی 2367 Hasan Sahih Hasan Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ جَعَلَ كَفَّهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الأَيْمَنِ وَكَانَ يَصُومُ الاِثْنَيْنَ وَالْخَمِيسَ ‏.‏

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنی داہنی ہتھیلی اپنے دائیں گال کے نیچے رکھ لیتے، اور دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے دن روزہ رکھتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 278
سنن نسائی 2368 Hasan Hasan Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ أَبِي أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ وَقَلَّمَا يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ‏.‏

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کے ابتدائی تین دنوں میں روزہ رکھتے تھے اور کم ہی ایسا ہوتا کہ آپ جمعہ کے دن روزہ سے نہ رہے ہوں ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 279
سنن نسائی 2369 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرَكْعَتَىِ الضُّحَى وَأَنْ لاَ أَنَامَ إِلاَّ عَلَى وِتْرٍ وَصِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چاشت کی دونوں رکعتوں کا حکم دیا، اور یہ کہ میں وتر پڑھے بغیر نہ سوؤں، اور ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کروں۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 280
سنن نسائی 2370 Sahih Daif Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَسُئِلَ، عَنْ صِيَامِ، عَاشُورَاءَ قَالَ مَا عَلِمْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الأَيَّامِ إِلاَّ هَذَا الْيَوْمَ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ ‏.‏

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے عاشوراء کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دن کا روزہ اور دنوں سے بہتر جان کے رکھا ہو، سوائے اس دن کے، یعنی ماہ رمضان کے اور عاشوراء کے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 281
سنن نسائی 2371 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي هَذَا الْيَوْمِ ‏ "‏ إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ ‏"‏ ‏.‏

حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو عاشوراء کے دن منبر پر کہتے سنا: ”اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن میں کہتے ہوئے سنا کہ میں روزہ سے ہوں تو جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے“

حوالہ: کتاب 22, حدیث 282
سنن نسائی 2372 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ امْرَأَتِهِ، قَالَتْ حَدَّثَتْنِي بَعْضُ، نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَتِسْعًا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ ‏.‏

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ (ام المؤمنین رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء کے روز، ذی الحجہ کے نو دنوں میں، ہر مہینے کے تین دنوں میں یعنی: مہینہ کے پہلے دوشنبہ ( پیر ) کو اور پہلے اور دوسرے جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 283
سنن نسائی 2373 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَطِيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلاَ صَامَ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزے رکھے، تو اس نے روزے ہی نہیں رکھے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 284
سنن نسائی 2374 Sahih Sahih Hasan

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُسَاوِرٍ، عَنِ الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ افطار کیا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 285
سنن نسائی 2375 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي وَعُقْبَةُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلاَ صَامَ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزے رکھے تو اس نے روزے ہی نہیں رکھے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 286
سنن نسائی 2376 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلاَ صَامَ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے روزے ہی نہیں رکھے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 287
سنن نسائی 2377 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَائِذٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ تو روزے ہی رکھے اور نہ ہی کھایا پیا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 288
سنن نسائی 2378 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ سَمِعْتُ عَطَاءً، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ بَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏ قَالَ قَالَ عَطَاءٌ لاَ أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الأَبَدِ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں، پھر مسلسل روزہ رکھتا ہوں، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عطاء نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے «صیام ابد» کا ذکر کیسے کیا، مگر اتنا یاد ہے کہ انہوں نے یوں کہا: ”اس شخص نے «صیام» ( روزے ) نہیں رکھے جس نے ہمیشہ «صیام» ( روزے ) رکھے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 289
سنن نسائی 2379 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَخِيهِ، مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلاَنًا لاَ يُفْطِرُ نَهَارًا الدَّهْرَ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ ‏"‏ ‏.‏

عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! فلاں شخص کبھی دن کو افطار نہیں کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا، نہ افطار کیا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 290
سنن نسائی 2380 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذُكِرَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يَصُومُ الدَّهْرَ قَالَ ‏ "‏ لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا تھا جو ہمیشہ روزہ رکھتا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 291
سنن نسائی 2381 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي صَوْمِ الدَّهْرِ ‏ "‏ لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صیام الدھر رکھنے والے کے بارے میں فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا، اور نہ ہی افطار کیا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 292
سنن نسائی 2382 Sahih Lighairihi Sahih Sahih

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ، - وَهُوَ ابْنُ جَرِيرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ - عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا لاَ يُفْطِرُ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ ‏"‏ ‏.‏

عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ہم سب کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا، ( اس کے بارے میں ) لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! یہ شخص ایسا ہے جو اتنی مدت سے افطار نہیں کر رہا ہے ( یعنی برابر روزے رکھ رہا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا، نہ ہی افطار کیا“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 293
سنن نسائی 2383 - Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلاَنَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ فَغَضِبَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً ‏.‏ وَسُئِلَ عَمَّنْ صَامَ الدَّهْرَ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ ‏"‏ ‏.‏

ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ناراض ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اللہ کے رب ( حقیقی معبود ) ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر، راضی ہیں، نیز آپ سے ہمیشہ روزہ رکھنے والے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا، نہ ہی افطار کیا“

حوالہ: کتاب 22, حدیث 294
سنن نسائی 2384 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ قَالَ ‏ "‏ صُمْ إِنْ شِئْتَ أَوْ أَفْطِرْ إِنْ شِئْتَ ‏"‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! میں ایک ایسا آدمی ہوں جو مسلسل روزے رکھتا ہو، تو کیا سفر میں بھی روزہ رکھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 295
سنن نسائی 2385 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ يَصُومُ الدَّهْرَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يَطْعَمِ الدَّهْرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا فَثُلُثَيْهِ قَالَ ‏"‏ أَكْثَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا فَنِصْفَهُ قَالَ ‏"‏ أَكْثَرَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏

عمرو بن شرجبیل ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: ایک آدمی ہے جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ وہ کبھی کھاتا ہی نہیں“ ۱؎، لوگوں نے عرض کیا: دو تہائی ایام رکھے تو؟ ۲؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی زیادہ ہے“، لوگوں نے عرض کیا: اور آدھا رکھے تو؟ ۳؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی زیادہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اتنے روزوں نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دیں، یہ ہر مہینے کے تین دن کے روزے ہیں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 296
سنن نسائی 2386 Sahih Lighairihi Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يَطْعَمِ الدَّهْرَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَثُلُثَيْهِ قَالَ ‏"‏ أَكْثَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَنِصْفَهُ قَالَ ‏"‏ أَكْثَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏

عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو صیام الدھر رکھے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو یہ چاہوں گا کہ کبھی کچھ کھائے ہی نہ“، اس نے کہا: اس کا دو تہائی رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: ”زیادہ ہے“، اس نے کہا: آدھے ایام رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: ”زیادہ ہے“، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دے“، لوگوں نے کہا: جی ہاں ( ضرور بتائیے ) آپ نے فرمایا: ”یہ ہر مہینے میں تین دن کا روزہ ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 297
سنن نسائی 2387 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ قَالَ ‏"‏ لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ أَوْ لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ ‏"‏ أَوَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ ‏"‏ ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ قَالَ ‏"‏ وَدِدْتُ أَنِّي أُطِيقُ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ثَلاَثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ هَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ ‏"‏ ‏.‏

ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو صیام الدھر رکھتا ہو؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ ہی افطار کیا“۔ ( راوی کو شک ہے «لاصيام ولا أفطر» کہا، یا «لم يصم ولم يفطر» کہا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا اس کی کوئی طاقت رکھتا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ( اچھا ) اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے“، انہوں نے کہا: اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ میں اس کی طاقت رکھوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا، اور رمضان کے روزے رکھنا یہی صیام الدھر ہے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 298
سنن نسائی 2388 Sahih Sahih Sahih Bukhari

قَالَ وَفِيمَا قَرَأَ عَلَيْنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا حُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَفْضَلُ الصِّيَامِ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزوں میں سب سے افضل داود علیہ السلام کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے، اور ایک دن افطار کرتے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 299
سنن نسائی 2389 Sahih Sahih Sahih Bukhari

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَنْكَحَنِي أَبِي امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ فَكَانَ يَأْتِيهَا فَيَسْأَلُهَا عَنْ بَعْلِهَا، فَقَالَتْ نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يَطَأْ لَنَا فِرَاشًا وَلَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا مُنْذُ أَتَيْنَاهُ ‏.‏ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ ائْتِنِي بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَيْتُهُ مَعَهُ فَقَالَ ‏"‏ كَيْفَ تَصُومُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ كُلَّ يَوْمٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمَيْنِ وَأَفْطِرْ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ صَوْمُ يَوْمٍ وَفِطْرُ يَوْمٍ ‏"‏ ‏.‏

مجاہد کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے والد نے میری شادی ایک اچھے خاندان والی عورت سے کر دی، چنانچہ وہ اس کے پاس آتے، اور اس سے اس کے شوہر کے بارے میں پوچھتے، تو ( ایک دن ) اس نے کہا: یہ بہترین آدمی ہیں ایسے آدمی ہیں کہ جب سے میں ان کے پاس آئی ہوں، انہوں نے نہ ہمارا بستر روندا ہے اور نہ ہم سے بغل گیر ہوئے ہیں، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لے کر آؤ“، میں والد کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، تو آپ نے پوچھا: ”تم کس طرح روزے رکھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ہر روز، آپ نے فرمایا: ”ہفتہ میں تین دن روزے رکھا کرو“، میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”اچھا دو دن روزہ رہا کرو اور ایک دن افطار کرو“، میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا سب سے افضل روزے رکھے کرو جو داود علیہ السلام کے روزے ہیں، ایک دن روزہ اور ایک دن افطار“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 300
سنن نسائی 2390 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا أَبُو حَصِينٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ زَوَّجَنِي أَبِي امْرَأَةً فَجَاءَ يَزُورُهَا فَقَالَ كَيْفَ تَرَيْنَ بَعْلَكِ فَقَالَتْ نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لاَ يَنَامُ اللَّيْلَ وَلاَ يُفْطِرُ النَّهَارَ ‏.‏ فَوَقَعَ بِي وَقَالَ زَوَّجْتُكَ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَعَضَلْتَهَا ‏.‏ قَالَ فَجَعَلْتُ لاَ أَلْتَفِتُ إِلَى قَوْلِهِ مِمَّا أَرَى عِنْدِي مِنَ الْقُوَّةِ وَالاِجْتِهَادِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ لَكِنِّي أَنَا أَقُومُ وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ فَقُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ انْتَهَى إِلَى خَمْسَ عَشْرَةَ وَأَنَا أَقُولُ أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد نے میری شادی ایک عورت سے کر دی، وہ اس سے ملاقات کے لیے آئے، تو اس سے پوچھا: تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟ اس نے کہا: کیا ہی بہترین آدمی ہیں نہ رات میں سوتے ہیں اور نہ دن میں کھاتے پیتے ہیں، ۱؎ تو انہوں نے مجھے سخت سست کہا اور بولے: میں نے تیری شادی ایک مسلمان لڑکی سے کی ہے، اور تو اسے چھوڑے رکھے ہے۔ میں نے ان کی بات پر دھیان نہیں دیا اس لیے کہ میں اپنے اندر قوت اور ( نیکیوں میں ) آگے بڑھنے کی صلاحیت پاتا تھا، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: ”میں رات میں قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں، تو تم بھی قیام کرو اور سوؤ بھی۔ اور روزہ رکھو اور افطار بھی کرو، ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو“ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو پھر تم «صیام داودی» رکھا کرو، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن کھاؤ پیو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہر مہینہ ایک مرتبہ قرآن پڑھا کرو“، پھر آپ ( کم کرتے کرتے ) پندرہ دن پر آ کر ٹھہر گئے، اور میں کہتا ہی رہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 301
سنن نسائی 2391 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُجْرَتِي فَقَالَ ‏"‏ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ تَفْعَلَنَّ نَمْ وَقُمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ فَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْجَتِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِصَدِيقِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّهُ عَسَى أَنْ يَطُولَ بِكَ عُمُرٌ وَإِنَّهُ حَسْبُكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثًا فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَىَّ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَىَّ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ صَوْمَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَمَا كَانَ صَوْمُ دَاوُدَ قَالَ ‏"‏ نِصْفُ الدَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں داخل ہوئے اور فرمایا: ”کیا مجھے یہ خبر نہیں ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو اور دن میں روزہ رکھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہاں ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تم ایسا ہرگز نہ کرو، سوؤ بھی اور قیام بھی کرو، روزہ سے بھی رہو اور کھاؤ پیو بھی، کیونکہ تمہاری آنکھ کا تم پر حق ہے، اور تمہارے بدن کا تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے، اور تمہارے دوست کا تم پر حق ہے، توقع ہے کہ تمہاری عمر لمبی ہو، تمہارے لیے بس اتنا کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو، یہی صیام الدھر ہو گا کیونکہ نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے، میں نے عرض کیا: میں اپنے اندر طاقت پاتا ہوں، تو میں نے سختی چاہی تو مجھ پر سختی کر دی گئی، آپ نے فرمایا: ”ہر ہفتے تین دن روزہ رکھا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو میں نے سختی چاہی تو مجھ پر سختی کر دی گئی، آپ نے فرمایا: ”تم اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزے رکھو“، میں نے کہا: داود علیہ السلام کا روزہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک دن روزہ ایک دن افطار“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 302
سنن نسائی 2392 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ يَقُولُ لأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَإِنَّكَ لاَ تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ الثَّلاَثَةَ الأَيَّامَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي ‏.‏

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا کہ میں کہتا ہوں کہ میں جب تک زندہ رہوں گا ہمیشہ رات کو قیام کروں گا، اور دن کو روزہ رکھا کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم ایسا کہتے ہو؟ میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! جی ہاں میں نے یہ بات کہی ہے، آپ نے فرمایا: ”تم ایسا نہیں کر سکتے، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، سوؤ بھی اور قیام بھی کرو، اور مہینے میں تین دن روزہ رکھو کیونکہ نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے، اور یہ صیام الدھر ( پورے سال کے روزوں ) کے مثل ہے“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو“، پھر میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”اچھا ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو، یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، یہ بہت مناسب روزہ ہے“، میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”اس سے بہتر کچھ نہیں“۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اگر میں نے مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات قبول کر لی ہوتی تو یہ میرے اہل و عیال اور میرے مال سے میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہوتی۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 303
سنن نسائی 2393 Munkar Munkar Hasan

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ - عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قُلْتُ أَىْ عَمِّ حَدِّثْنِي عَمَّا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي كُنْتُ أَجْمَعْتُ عَلَى أَنْ أَجْتَهِدَ اجْتِهَادًا شَدِيدًا حَتَّى قُلْتُ لأَصُومَنَّ الدَّهْرَ وَلأَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَانِي حَتَّى دَخَلَ عَلَىَّ فِي دَارِي فَقَالَ ‏"‏ بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ لأَصُومَنَّ الدَّهْرَ وَلأَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ قَدْ قُلْتُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ تَفْعَلْ صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ مِنَ الْجُمُعَةِ يَوْمَيْنِ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَإِنَّهُ أَعْدَلُ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمًا صَائِمًا وَيَوْمًا مُفْطِرًا وَإِنَّهُ كَانَ إِذَا وَعَدَ لَمْ يُخْلِفْ وَإِذَا لاَقَى لَمْ يَفِرَّ ‏"‏ ‏.‏

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا۔ میں نے عرض کیا: چچا جان! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے جو کہا تھا اسے مجھ سے بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں نے پختہ عزم کر لیا تھا کہ میں اللہ کی عبادت کے لیے بھرپور کوشش کروں گا یہاں تک کہ میں نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، اور ہر روز دن و رات قرآن پڑھا کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنا تو میرے پاس تشریف لائے یہاں تک کہ گھر کے اندر میرے پاس آئے، پھر آپ نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور قرآن پڑھوں گا؟“ میں نے عرض کیا: ہاں اللہ کے رسول! میں نے ایسا کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مت کرو ( بلکہ ) ہر مہینے تین دن روزہ رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہر ہفتہ سے دو دن دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کو روزہ رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کا روزہ رکھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سب سے زیادہ بہتر اور مناسب روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے، اور وہ جب وعدہ کر لیتے تو وعدہ خلافی نہیں کرتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تھی تو بھاگتے نہیں تھے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 304
سنن نسائی 2394 Sahih Sahih Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ ‏"‏ صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا“۔ انہوں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”دو دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا اجر ملے گا“، انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”تین دن روزہ رکھو اور باقی دنوں کا ثواب ملے گا“۔ انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”چار دن روزہ رکھو اور تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملے گا، انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو پھر داود علیہ السلام کے روزے رکھو جو اللہ کے نزدیک سب سے افضل روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 305
سنن نسائی 2395 Sahih Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلاَءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ ذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الصَّوْمَ فَقَالَ ‏"‏ صُمْ مِنْ كُلِّ عَشْرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ التِّسْعَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ مِنْ كُلِّ تِسْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ الثَّمَانِيَةِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ مِنْ كُلِّ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ السَّبْعَةِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى قَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”ہر دس دن پر ایک دن روزہ رکھو، تمہیں ان باقی نو دنوں کا اجر و ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہر نو دن پر ایک دن روزہ رکھو اور تمہیں ان آٹھ دنوں کا بھی ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہر آٹھ دن پر ایک دن روزہ رکھ اور تجھے باقی سات دنوں کا بھی ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ برابر اسی طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 306
سنن نسائی 2396 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَأَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ عَشْرَةٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ زِدْنِي ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ زِدْنِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ ثَمَانِيَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثَابِتٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُطَرِّفٍ فَقَالَ مَا أُرَاهُ إِلاَّ يَزْدَادُ فِي الْعَمَلِ وَيَنْقُصُ مِنَ الأَجْرِ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھ تمہیں دس دن کا ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میرے لیے کچھ اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”دو دن روزہ رکھ تمہیں نو دن کا ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میرے لیے کچھ اور بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”تین دن روزہ رکھ لیا کرو تمہیں آٹھ دن کا ثواب ملے گا“۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے مطرف سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ کام میں تو بڑھ رہے ہیں لیکن اجر میں گھٹتے جا رہے ہیں، یہ الفاظ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم کے ہیں۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 307
سنن نسائی 2397 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِذَلِكَ إِلاَّ الْخَيْرَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ وَلَكِنْ أَدُلُّكَ عَلَى صَوْمِ الدَّهْرِ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ خَمْسَةَ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ عَشْرًا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے خبر ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو، اور دن کو روزہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اس سے خیر کا ارادہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ کا روزہ رکھا اس نے روزہ ہی نہیں رکھا، لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ہمیشہ کا روزہ کیا ہے؟ یہ مہینہ میں صرف تین دن کا روزہ ہے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”پانچ دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو دس دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”تم داود علیہ السلام کے روزے رکھا کرو“، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 308
سنن نسائی 2398 Daif

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ، - وَكَانَ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَكَانَ شَاعِرًا وَكَانَ صَدُوقًا - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 309
سنن نسائی 2399 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ، - هُوَ الشَّاعِرُ - يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتِ الْعَيْنُ وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ صَوْمُ الدَّهْرِ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”عبداللہ بن عمرو! تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات میں کرتے ہو، جب تم ایسا کرو گے تو آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی اور نفس تھک جائے گا، جو ہمیشہ روزہ رہے گا اس کا روزہ نہ ہو گا، ہر مہینے میں تین دن کا روزہ پورے سال کے روزہ کے برابر ہے“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”صوم داود رکھو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 310
سنن نسائی 2400 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ إِلَيْهِ حَتَّى قَالَ ‏"‏ فِي خَمْسَةِ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ إِلَيْهِ حَتَّى قَالَ ‏"‏ صُمْ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَوْمَ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”قرآن ایک مہینہ میں پڑھا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، اور پھر میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”پانچ دن میں پڑھا کرو، اور مہینہ میں تین دن روزہ رکھو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کا روزہ رکھو، جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 311
سنن نسائی 2401 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ بَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ وَلَمَّا لَقِيَهُ قَالَ ‏"‏ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلاَ تُفْطِرُ وَتُصَلِّي اللَّيْلَ فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا وَلِنَفْسِكَ حَظًّا وَلأَهْلِكَ حَظًّا وَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشْرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أَقْوَى لِذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ صِيَامَ دَاوُدَ إِذًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَيْفَ كَانَ صِيَامُ دَاوُدَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَمَنْ لِي بِهَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں اور مسلسل رکھتا ہوں، اور رات میں نماز تہجد پڑھتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا، یا آپ ان سے ملے تو آپ نے فرمایا: ”کیا مجھے خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم ( ہمیشہ ) روزہ رکھتے ہو، اور کبھی بغیر روزہ کے نہیں رہتے، اور رات میں تہجد کی نماز پڑھتے ہو، تم ایسا نہ کرو کیونکہ تمہاری آنکھ کا بھی ایک حصہ ہے، اور تمہارے نفس کا بھی ایک حصہ ہے، تمہاری بیوی کا بھی ایک حصہ ہے، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی، ہر دس دن میں ایک دن روزہ رکھو، تمہیں باقی نو دنوں کا بھی ثواب ملے گا“، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم روزہ داود رکھا کرو“، پوچھا: اللہ کے نبی! داود علیہ السلام کے روزہ کیسے ہوا کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے“، انہوں نے کہا: کون ایسا کر سکتا ہے؟ اللہ کے نبی!۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 312
سنن نسائی 2402 Sahih Sahih Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، - وَهُوَ الْحَذَّاءُ - عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ زَيْدٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَىَّ فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةَ أَدَمٍ رَبْعَةً حَشْوُهَا لِيفٌ فَجَلَسَ عَلَى الأَرْضِ وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ قَالَ ‏"‏ أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ خَمْسًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ سَبْعًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تِسْعًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِحْدَى عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ شَطْرَ الدَّهْرِ صِيَامُ يَوْمٍ وَفِطْرُ يَوْمٍ ‏"‏ ‏.‏

ابوقلابۃ ابوالملیح سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں تمہارے والد زید کے ساتھ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے روزہ کا ذکر کیا گیا تو آپ میرے پاس تشریف لائے، میں نے آپ کے لیے چمڑے کا ایک درمیانی تکیہ لا کر رکھا جس کا بھراؤ کھجور کی پیتاں تھیں، آپ زمین پر بیٹھ گئے، اور تکیہ ہمارے اور آپ کے درمیان ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہر مہینے میں تین دن تمہارے روزہ کے لیے کافی نہیں ہیں؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا: ”پانچ دن کر لو“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا: ”سات دن کر لو“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ اور بڑھا دیجئیے! آپ نے فرمایا: ”نو دن“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! ( کچھ اور بڑھا دیجئیے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گیارہ دن کر لو“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کے روزہ سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں ہے، اور وہ اس طرح ہے ایک دن روزہ رکھا جائے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہا جائے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 313
سنن نسائی 2403 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صُمْ مِنَ الشَّهْرِ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَفْضَلُ الصَّوْمِ صَوْمُ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مہینے میں ایک دن روزہ رکھو تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”دو دن رکھ لیا کر، تجھے باقی دنوں کا ثواب مل جایا کرے گا“، میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو تین دن رکھ لیا کرو تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملا کرے گا“، میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو آپ نے فرمایا: ”چار دن رکھ لیا کرو باقی دنوں کا بھی اجر بھی تمہیں ملا کرے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل روزہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 314
سنن نسائی 2404 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَوْصَانِي حَبِيبِي صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثَةٍ لاَ أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى أَبَدًا أَوْصَانِي بِصَلاَةِ الضُّحَى وَبِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَبِصِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏.‏

ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے میں انہیں ان شاءاللہ کبھی چھوڑ نہیں سکتا: آپ نے مجھے صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھنے کی وصیت کی، اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کی۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 315
سنن نسائی 2405 Munkar Munkar Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثٍ بِنَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَصَوْمِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا ہے: وتر پڑھ کر سونے کا، جمعہ کے دن غسل کرنے کا ۱؎، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 316
سنن نسائی 2406 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرَكْعَتَىِ الضُّحَى وَأَنْ لاَ أَنَامَ إِلاَّ عَلَى وِتْرٍ وَصِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) دو رکعتیں پڑھنے کا، اور بغیر وتر پڑھے نہ سونے کا، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 317
سنن نسائی 2407 Munkar Munkar Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَصِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وتر پڑھ کر سونے، جمعہ کے دن غسل کرنے، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 318
سنن نسائی 2408 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ شَهْرُ الصَّبْرِ وَثَلاَثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏

ابوعثمان سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”صبر کے مہینے کے، اور ہر مہینے سے تین دن کے روزے صوم الدهر ہیں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 319
سنن نسائی 2409 Sahih Sahih Daif

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ اللاَّنِيُّ، بِالْكُوفَةِ عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ، - وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ - عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ صَامَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ ‏{‏ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏

ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مہینے کے تین دن روزہ رکھے تو گویا اس نے صوم الدهر رکھے“، پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں سچ فرمایا ہے: «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» ”جو کوئی ایک نیکی لائے گا اسے دس گنا ثواب ملے گا“ ( الانعام: ۱۶۰ ) ۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 320
سنن نسائی 2410 Daif Isnaad Daif Isnaad Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ صَامَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَقَدْ تَمَّ صَوْمُ الشَّهْرِ أَوْ فَلَهُ صَوْمُ الشَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ شَكَّ عَاصِمٌ ‏.‏

ابوعثمان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے ہر مہینے میں تین روزہ رکھے تو اس نے ( گویا ) پورے مہینے کے روزہ رکھے“، یا یہ ( فرمایا ) : ”اس کے لیے پورے مہینے کے روزہ کا ثواب ہے“، عاصم راوی کو یہاں شک ہوا ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 321
سنن نسائی 2411 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ مُطَرِّفًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ صِيَامٌ حَسَنٌ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏

عثمان بن ابی العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر مہینے کے تین دن کے روزہ بہترین روزہ ہیں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 322
سنن نسائی 2412 Daif Hasan

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ نَحْوَهُ مُرْسَلٌ ‏.‏

اس سند سے سعید بن ابی ہند نے روایت کی ہے کہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کہا ہے، اور یہ مرسل ہے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 323
سنن نسائی 2413 Sahih Sahih Sahih

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 324
سنن نسائی 2414 Sahih Lighairihi Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَصُومُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ وَالْخَمِيسَ الَّذِي يَلِيهِ ثُمَّ الْخَمِيسَ الَّذِي يَلِيهِ ‏.‏

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے، مہینے کے پہلے دوشنبہ ( پیر ) کو، اور اس کے بعد کے قریبی جمعرات کو، پھر اس کے بعد کے جمعرات کو۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 325
سنن نسائی 2415 Sahih Sahih Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيَّ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعْتُهَا تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ ثُمَّ الْخَمِيسَ ثُمَّ الْخَمِيسَ الَّذِي يَلِيهِ ‏.‏

ہنیدہ خزاعی کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین کے پاس آیا، اور میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے۔ مہینے کے پہلے کہ دوشنبہ ( پیر ) کو، پھر جمعرات کو، پھر اس کے بعد کے آنے والے جمعرات کو۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 326
سنن نسائی 2416 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الأَشْجَعِيُّ، - كُوفِيٌّ - عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلاَئِيِّ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صِيَامَ عَاشُورَاءَ وَالْعَشْرَ وَثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ ‏.‏

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ چار باتیں ایسی ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چھوڑتے تھے: ۱- عاشوراء کے روزے کو ۲- ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کے روزے کو ۱؎ ۳- ہر مہینہ کے تین روزے ۴- اور فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں کو۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 327
سنن نسائی 2417 Sahih Sahih Isnaad Sahih

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ امْرَأَتِهِ، عَنْ بَعْضِ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَصُومُ تِسْعًا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ ‏.‏

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحجہ کے نو روزے، عاشوراء کے دن ( یعنی دسویں محرم کو ) اور ہر مہینے میں تین روزے رکھتے ۱؎ ہر مہینہ کے پہلے دوشنبہ ( پیر ) کو، اور دوسرا اس کے بعد والی جمعرات کو، پھر اس کے بعد والی جمعرات کو۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 328
سنن نسائی 2418 Sahih Sahih Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ امْرَأَتِهِ، عَنْ بَعْضِ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ الْعَشْرَ وَثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ ‏.‏

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ذی الحجہ کے پہلے ) عشرہ میں روزے رکھتے تھے، اور ہر مہینہ میں تین دن: دوشنبہ ( پیر ) اور ( دو ) جمعرات کو۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 329
سنن نسائی 2419 Shadh Shadh Sahih

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِصِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ أَوَّلِ خَمِيسٍ وَالاِثْنَيْنِ وَالاِثْنَيْنِ ‏.‏

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن۔ ہر مہینے کی پہلی جمعرات کو، اور دو اس کے بعد والے دو شنبہ ( پیر ) کو پھر اس کے بعد والے دوشنبہ ( پیر ) کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 330
سنن نسائی 2420 Hasan Hasan Sahih

أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ وَأَيَّامُ الْبِيضِ صَبِيحَةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏

جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں تین دن کا روزے پورے سال کا روزے ہے“ ( یعنی ایام بیض کے روزے ) اور ایام بیض ( چاند کی ) تیرہویں چودہویں اور پندرہویں راتیں ہیں ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 331
سنن نسائی 2421 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَأْكُلْ وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا وَأَمْسَكَ الأَعْرَابِيُّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أَصُومُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الْغُرَّ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بھنا ہوا خرگوش لے کر آیا، اور اسے آپ کے سامنے رکھ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو روکے رکھا خود نہیں کھایا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، اور اعرابی ( دیہاتی ) بھی رکا رہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی ( دیہاتی ) سے پوچھا: ”تم کیوں نہیں کھا رہے ہو؟“ اس نے کہا: میں مہینے میں ہر تین دن روزے رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”اگر تم روزے رکھتے ہو تو ان دنوں میں رکھو جن میں راتیں روشن رہتی ہیں“ ۱؎۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 332
سنن نسائی 2422 Hasan Hasan Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَصُومَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامِ الْبِيضِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏.‏

ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم مہینے کے تین روشن دنوں: تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو روزے رکھا کریں۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 333
سنن نسائی 2423 Hasan Hasan Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَصُومَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامِ الْبِيضِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏.‏

ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ہر مہینے کے ایام بیض یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کو روزے رکھیں۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 334
سنن نسائی 2424 Hasan Hasan Hasan

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، بِالرَّبَذَةِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا صُمْتَ شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ فَصُمْ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏

موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو مقام ربذہ میں کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم مہینے میں کچھ دن روزے رکھو تو تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو رکھو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 335
سنن نسائی 2425 Hasan Lighairihi Hasan Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ ‏ "‏ عَلَيْكَ بِصِيَامِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ لَيْسَ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ وَلَعَلَّ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا اثْنَانِ فَسَقَطَ الأَلِفُ فَصَارَ بَيَانٌ ‏.‏

ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”تم تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے کو اپنے اوپر لازم کر لو“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہاں ( راوی سے ) غلطی ہوئی ہے، یہ بیان کی روایت نہیں ہے۔ غالباً ایسا ہوا ہے کہ سفیان نے کہا «حدثنا اثنان» کہا ہو تو «اثنان» کا الف گر گیا پھر «ثنان» سے بیان ہو گیا ( جیسا کہ اگلی روایت میں ہے ) ۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 336
سنن نسائی 2426 Hasan Lighairihi Hasan Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا رَجُلاَنِ، مُحَمَّدٌ وَحَكِيمٌ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ رَجُلاً بِصِيَامِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏.‏

ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو روزے رکھنے کا حکم دیا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 337
سنن نسائی 2427 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ قَالَ أُبَىٌّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ أَرْنَبٌ قَدْ شَوَاهَا وَخُبْزٌ فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ إِنِّي وَجَدْتُهَا تَدْمَى ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ ‏"‏ لاَ يَضُرُّ كُلُوا ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ لِلأَعْرَابِيِّ ‏"‏ كُلْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صَوْمُ مَاذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَعَلَيْكَ بِالْغُرِّ الْبِيضِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّوَابُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ وَقَعَ مِنَ الْكُتَّابِ ذَرٌّ فَقِيلَ أُبَىٌّ ‏.‏

ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس کے ساتھ ایک بھنا ہوا خرگوش اور روٹی تھی، اس نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے لا کر رکھا۔ پھر اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ اسے حیض آتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”کوئی نقصان نہیں تم سب کھاؤ“، اور آپ نے اعرابی ( دیہاتی ) سے فرمایا: تم بھی کھاؤ، اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ نے پوچھا: ”کیسا روزے؟“ اس نے کہا: ہر مہینے میں تین دن کا روزے، آپ نے فرمایا: ”اگر تمہیں یہ روزے رکھنے ہیں تو روشن اور چمکدار راتوں والے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو لازم پکڑو“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: صحیح «عن ابی ذر» ہے، قرین قیاس یہ ہے کہ «ذر» کاتبوں سے چھوٹ گیا۔ اس طرح وہ «ابی بن کعب» ہو گیا۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 338
سنن نسائی 2428 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِأَرْنَبٍ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ الَّذِي جَاءَ بِهَا إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا ‏.‏ فَكَفَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَهَلاَّ ثَلاَثَ الْبِيضِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏

موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش لے کر آیا، آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کے لانے والے نے کہا: میں نے اس کے ساتھ خون ( حیض ) دیکھا تھا ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، ایک آدمی لوگوں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا بات ہے، تم الگ تھلگ کیوں بیٹھے ہو؟“ اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: ”پھر تم ایام بیض: تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کو کیوں نہیں رکھتے؟“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 339
سنن نسائی 2429 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْلَى، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا رَجُلٌ فَلَمَّا قَدَّمَهَا إِلَيْهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ بِهَا دَمًا فَتَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَأْكُلْهَا وَقَالَ لِمَنْ عِنْدَهُ ‏"‏ كُلُوا فَإِنِّي لَوِ اشْتَهَيْتُهَا أَكَلْتُهَا ‏"‏ ‏.‏ وَرَجُلٌ جَالِسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ادْنُ فَكُلْ مَعَ الْقَوْمِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ صُمْتَ الْبِيضَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَمَا هُنَّ قَالَ ‏"‏ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏

موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا گیا جسے ایک شخص نے بھون رکھا تھا، جب اس نے اسے آپ کے سامنے پیش کیا تو کہا: میں نے دیکھا اسے خون ( حیض ) آ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، نہیں کھایا، اور ان لوگوں سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا: ”تم کھاؤ، اگر مجھے اس کی خواہش ہوتی میں بھی کھاتا“، اور وہ شخص ( جو اسے لایا تھا ) بیٹھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”قریب آ جاؤ، اور تم بھی لوگوں کے ساتھ کھاؤ“، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو تم نے بیض کے روزے کیوں نہیں رکھے؟“ اس نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 340
سنن نسائی 2430 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ رَجُلٍ، يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ بِهَذِهِ الأَيَّامِ الثَّلاَثِ الْبِيضِ وَيَقُولُ ‏ "‏ هُنَّ صِيَامُ الشَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏

قتادہ بن ملحان (ابن منہال) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیض کے ان تینوں دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے، اور فرماتے تھے: ”یہ مہینے بھر کے روزے کے برابر ہیں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 341
سنن نسائی 2431 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي الْمِنْهَالِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُمْ بِصِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامِ الْبِيضِ قَالَ ‏ "‏ هِيَ صَوْمُ الشَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏

ابوالمنہال قتادہ بن ملحان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایام بیض کے تین روزے کا حکم دیا اور فرمایا: ”یہ مہینہ بھر کے روزے کے برابر ہیں“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 342
سنن نسائی 2432 Daif Daif Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ مِلْحَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا بِصَوْمِ أَيَّامِ اللَّيَالِي الْغُرِّ الْبِيضِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏.‏

قدامہ (قتادہ بن ملحان) بن ملحان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روشن چاندنی راتوں کے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 343
سنن نسائی 2433 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، مِنْ خِيَارِ الْخَلْقِ قَالَ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّوْمِ فَقَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي زِدْنِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي زِدْنِي يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي زِدْنِي إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ زِدْنِي زِدْنِي أَجِدُنِي قَوِيًّا ‏"‏ ‏.‏ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيَرُدُّنِي قَالَ ‏"‏ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏

ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے رکھنے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”تم کہتے ہو: اللہ کے رسول! کچھ بڑھا دیجئیے، کچھ بڑھا دیجئیے، تو ہر مہینے دو دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، اس پر آپ نے میری بات ”کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں“ دہرائی پھر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ اب آپ مجھے لوٹا دیں گے، پھر آپ نے فرمایا: ”ہر مہینے تین دن رکھ لیا کرو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 344
سنن نسائی 2434 Sahih Isnaad Sahih Isnaad Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّوْمِ فَقَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏ وَاسْتَزَادَهُ قَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا فَزَادَهُ قَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا ‏"‏ ‏.‏ فَمَا كَادَ أَنْ يَزِيدَهُ فَلَمَّا أَلَحَّ عَلَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏

ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو“، انہوں نے مزید کی درخواست کی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو آپ نے اس میں اضافہ فرما دیا، فرمایا: ”ہر مہینہ دو دن رکھ لیا کرو“، تو انہوں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میری بات ) ”میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں“ دہرائی، آپ اضافہ کرنے والے نہ تھے، مگر جب انہوں نے اصرار کیا تو آپ نے فرمایا: ”ہر مہینہ تین دن رکھ لیا کرو“۔

حوالہ: کتاب 22, حدیث 345

متن اور درجہ بندی اوپن سورس Hadith API (fawazahmed0/hadith-api) سے۔ درجات متعلقہ محدثین کے ہیں۔