حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اعْتَكَفَ يُدْنِي إِلَىَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ وَكَانَ لاَ يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلاَّ لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ .
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو جھکا دیتے سر اپنا میری طرف سو میں کنگھی کر دیتی اور گھر میں نہ آتے مگر حاجت ضروری کے واسطے ۔
قاسم بن محمد اور نافع جو مولیٰ ہیں عبداللہ بن عمر کے دونوں کہتے تھے کہ اعتکاف بغیر روزے کے درست نہیں ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا اپنی کتاب میں کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ سفید دھاری معلوم ہونے لگے سیاہ دھاری سے فجر کی تمام کرو روزوں کو رات تک اور نہ چمٹو اپنی عورتوں سے جب تم اعتکاف سے ہو مسجدوں میں تو ذکر کیا اللہ جل جلالہ نے اعتکاف کا روزے کے ساتھ ۔
مؤطا امام مالک 694Maqtu Sahih
سمی جو مولیٰ ہیں ابی بکر کے ان سے روایت ہے کہ ابوبکر بن عبدالرحمن اعتکاف کرتے تو جاتے حاجت ضروری کے واسطے ایک چھت دار کوٹھری میں جو بند رہتی خالد بن ولید کے گھر میں، پھر نہ نکلتے اعتکاف سے یہاں تک کہ حاضر ہوتے عید میں ساتھ مسلمانوں کے ۔
مؤطا امام مالک 695Shadh, Sahih
حَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلَمَّا انْصَرَفَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ وَجَدَ أَخْبِيَةً خِبَاءَ عَائِشَةَ وَخِبَاءَ حَفْصَةَ وَخِبَاءَ زَيْنَبَ فَلَمَّا رَآهَا سَأَلَ عَنْهَا فَقِيلَ لَهُ هَذَا خِبَاءُ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَزَيْنَبَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آلْبِرَّ تَقُولُونَ بِهِنَّ " . ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ حَتَّى اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ .
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا اعتکاف کا جب آئے آپ اس جگہ جہاں اعتکاف کرنا چاہتے تھے پائے آپ نے کئی خیمے ایک خیمہ عائشہ کا اور ایک خیمہ حفصہ کا اور ایک خیمہ زینب کا تو پوچھا آپ نے یہ کن کے خیمے ہیں لوگوں نے کہا عائشہ اور حفصہ اور زینب رضی اللہ عنھن کے ۔ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تم نیکی کا گمان کرتے ہو ان عورتوں کے ساتھ، پھر لوٹ آئے آپ اور اعتکاف نہ کیا پھر شوال کے دس دنوں میں اعتکاف کیا۔
مؤطا امام مالک 696Sahih
وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَذْهَبُ لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ فِي الْبُيُوتِ . قَالَ مَالِكٌ لاَ يَخْرُجُ الْمُعْتَكِفُ مَعَ جَنَازَةِ أَبَوَيْهِ وَلاَ مَعَ غَيْرِهَا .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت ضروری کے لئے گھروں میں آئے تھے اعتکاف کی حالت میں ۔
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے رمضان کے درمیانی عشرے کا تو ایک سال اعتکاف کیا جب اکیسویں رات آئی جس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف سے باہر آیا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے تو چاہیے اور دس دن تک اخیر میں اعتکاف کرے میں نے شب قدر کو معلوم کیا تھا پھر میں بھلا دیا گیا میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے دیکھا کہ میں شب قدر کی صبح کو سجدہ کرتا ہوں کیچڑ اور پانی میں پس ڈھونڈو تم اس کو اخیر دس میں سے ہر طاق رات میں ابوسعید خدری نے کہا کہ اسی رات پانی برسا اور مسجد کی چھت پتوں اور شاخوں کی تھی تو ٹپکی مسجد ابوسعید نے کہا میری دونوں آنکھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور پیشانی اور ناک مبارک پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مٹی اور پانی کا نشان تھا ۔
مؤطا امام مالک 698Sahih
وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ڈھونڈو تم شب قدر کو رمضان کی اخیر دس راتوں میں
مؤطا امام مالک 699Sahih
وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ڈھونڈو تم شب قدر کو رمضان کی آخر سات راتوں میں
مؤطا امام مالک 700Sahih
وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيَّ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ شَاسِعُ الدَّارِ فَمُرْنِي لَيْلَةً أَنْزِلُ لَهَا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ " .
ابو النصر سے روایت ہے کہ عبداللہ بن انیس جہنی نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا گھر دور ہے تو ایک رات مقرر کیجئے کہ اس رات میں اس مسجد میں رہوں اور عبادت کروں فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسویں شب کو رمضان میں
انس بن مالک سے روایت ہے کہ آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اور فرمایا کہ مجھے شب قدر معلوم ہوگئی تھی مگر دو آدمیوں نے غل مچایا تو میں بھول گیا پس ڈھونڈو اس کو اکیسویں تئیسویں ، اور پچیسویں شب میں یا انتیسویں اور ستائیسویں میں ۔
مؤطا امام مالک 702Sahih
وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رِجَالاً، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ " .
امام مالک کو پہنچا کہ چند صحابہ نے شب قدر کو دیکھا خواب میں رمضان کی اخیر سات راتوں میں تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں دیکھتا ہوں کہ خواب تمہارا موافق ہوا میرے خواب کے رمضان کی اخیر سات راتوں میں سو جو کوئی تم میں سے شب قدر کو ڈھونڈنا چاہے تو ڈھونڈے اخیر کی سات راتوں میں ۔ امام مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا ایک معتبر شخص سے اہل علم میں سے کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگلے لوگوں کی عمریں بتلائیں گئیں جتنا اللہ کو منظور تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کی عمروں کو کم سمجھا اور خیال کیا کہ یہ لوگ ان کے برابر عمل نہ کر سکیں گے پس دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے شب قدر جو بہتر ہے ہزار مہینے سے ۔ امام مالک کو پہنچا سعید بن مسیب کہتے تھے جو شخص حاضر ہو عشاء کی جماعت میں شب قدر کو تو اس نے ثواب شب قدر کا حاصل کر لیا